ناصر خان جان تو مہمان تھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فرنگیوں کے ملک میں پہلا روزہ تھا۔ باوجود اس کے کہ موسم دلفریب تھا جوڑ جوڑ دکھ رہا ہے۔ ہمیں عادت تھی رمضان میں پوری دنیا کو روزے کے گرد گھمانے کی۔ یہاں کسی کو کیا لگے۔ سب معمول کی طرح تیزی سے چل رہا ہے۔ ایک طرح سے روزہ پاکستان سے آسان ہے۔ کسی کو کسی سے مطلب نہیں۔ یہاں ہمارے کوئی دوست احباب تو ہیں نہیں۔ اس لئے رمضان میں گھر پر کنبوں کو افطار کا مہمان کرنے کا کشت نہیں کاٹنا پڑے گا۔

معاف کیجئے گا لیکن ہم بچپن سے کچھ آدم بیزار واقع ہوئے ہیں۔ مہمان داری تو ہمارے بس کا روگ ہے ہی نہیں۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے ایک بہت مہمان نواز گھرانے میں آنکھ کھولی تھی۔ ہم نے شروع سے ہی مہمان کو دھرم کی حیثیت میں دیکھا۔ والد صاحب کا بس نہیں چلتا تھا کہ ہر کسی کو اپنے گھر بلا لیں۔ والدہ کو بھی انواع و اقسام کے کھانوں سے دسترخوان پر کرنے کا شوق تھا۔ گھر میں تانتا سا بندھا رہتا تھا۔ ہمارا اتنی محنت سے جی گھبراتا تھا اور ہے۔

شاید ابھی بھی یہی خیال ذہن میں ہے کہ مہمان خدا کی رحمت ہیں۔ ان کی خاطر میں زمین آسمان ملانے ہوں گے۔ اسی محنت کے ڈر سے ہمارا دل نہیں کرتا کہ کوئی ہمارے گھر آئے۔ جیسے بعض لوگوں کو خوشی سے ڈر لگتا ہے۔ ہمارا بھی یہی حال ہے۔ مہمان کی عظمت کو جانتے ہیں۔ اسی لئے سہم جاتے ہیں اور اپنے بل میں گھسے رہتے ہیں۔

مہمان کی قدر و منزلت مشرقی معاشرے کا اثاثہ ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ بچپن میں جب کبھی بھی گاؤں جاتے تھے تو سب ہمیں بہت پیار کرتے تھے۔ جس گھر جاتے وہ اپنی حیثیت کے مطابق کچھ تحفہ یا پیسے ضرور دیتے۔ وہاں مہمان کا تحفے سے انکار کرنا بہت رذیل تصور کیا جاتا ہے۔ لہذا قبول کرنا مجبوری تھی۔ ایک دفعہ ایک رشتے دار پھوپھی نے ہاتھ میں مڑے تڑے تین دو روپے کے اور ایک ایک روپے کا نوٹ تھما دیا۔ جی یہ روپے کی قدر کا زمانہ تھا۔ ہمیں ان کی آنکھوں کی وہ چمک آج بھی یاد ہے۔ آج بھی انہیں یاد کر کے دل لرز جاتا ہے۔ ایسی بے لوث محبت اب کہاں ملے گی ہمیں کیا خبر۔
یہ ہمارا ہی نہیں بلکہ ہمارے سب ہی دوستوں کے گھروں کا بھی حال تھا۔ مہمان تو خدا کی خاص رحمت ہوتا تھا۔

اب زمانہ بدل چکا ہے۔ مہمانی بھی بدل چکی اور میزبانی بھی۔ لیکن کچھ اقدار آج بھی زندہ ہیں۔ سب ڈیجیٹل ہے۔ مہمان صرف گھر پر ہی نہیں بلکہ ٹی وی شوز پر بھی بلائے جاتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے۔ کسی کو ہزیمت کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو کسی کی بار بار شادی کروائی جاتی ہے۔ سب ریٹنگ کی گیم ہے۔ فلم اسٹار ریما ایک ٹی وی شو کی میزبانی کرتی تھیں۔ اس میں ایک بار انہوں نے اپنی روایتی حریف ریشم کو مدعو کیا۔ ان کا تعارف بڑی عزت سے کرایا۔

ریشم نے فورا کہا ’میں اسی لئے آپ کے شو میں آئی ہوں کہ آپ مہمان کی قدر کرنا جانتی ہیں۔ ‘

ہم ٹی وی نہیں دیکھتے۔ کل یوں ہی کچن کا کام کرتے ہوئے یو ٹیوب لگا لیا۔ جنید اکرم کی ایک پوڈکاسٹ سماعتوں سے گزری جو انہوں نے سوشل میڈیا اسٹار ناصر خان جان کے ساتھ کی تھی۔ ناصر یوں تو سوشل میڈیا پر بہت ٹرولنگ کا شکار ہوتے ہیں لیکن یہاں ان کا ایک نیا روپ دیکھنے کو ملا۔ ان کی ویڈیوز یوں تو بے سر و پا لگتی ہیں لیکن یہاں جنید اکرم ان کے اندر کا انسان سامنے لے کر آئے۔ اپنی ویڈیوز کے برعکس ناصر بالکل ایک عام سے سیدھے سادے انسان دکھائی دیے۔ اس انٹرویو میں جنید اکرم کا رویہ بہت معقول تھا۔ یہ گفتگو ایک دوسرے کی عزت کرنے والے دو بالغ آدمیوں کی ایک نارمل گفتگو تھی۔ بالکل ایسے ہی جیسے کسی مڈل کلاس گھر میں کوئی مہمان آ کر بیٹھا ہو۔

اس کے برعکس سوشل میڈیا پر سما ٹی وی کی ایک فوٹیج چلتی دکھائی دی جہاں اینکر کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ناصر خان جان کا کیا حشر کریں۔ ’جرم‘ قابل معافی تھا بھی نہیں۔ قتل کی دلیل پیدا کی جا سکتی ہے۔ ’فحاشی‘ کی نہیں۔ ان ’پڑھے لکھے‘ اینکر کے برعکس ناصر خان جان اپنے جذبات کو کنٹرول میں رکھے رہے۔ اینکر صاحب کی آواز بلند تھی دلیل نہیں۔

سچ جانئے تو مرحومہ قندیل بلوچ یاد آ گئیں۔ جب ان کو بھی تمام چینل اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لئے لے آتے تھے اور پھر بلا کر ذلیل کرتے تھے۔ اسی زمانے کے ہاتھوں قندیل تو اپنے خون کا خراج دے بیٹھی۔ اس کا قتل صرف اس کے بھائی نے نہیں بلکہ ہر اس شخص نے کیا تھا جس کے نزدیک اس کی آزادی اظہار رائے ایک قبیح فعل تھی۔

جس معاشرے میں اختلاف رائے پر کسی بھی قسم کا الزام لگا کر ہجوم میں مار دیا جائے وہاں ناصر خان جان کی قسمت میں کیا لکھا ہے کون جانتا ہے۔ بس اتنا جانتے ہیں کہ قندیل کے مرنے پر بھی بہت لوگوں نے ٹسوے بلائے تھے۔ لیکن سبق نہیں سیکھا۔

آپ کو ناصر خان جان کے خیالات سے اختلاف ضرور ہو سکتا ہے۔ اگر ناصر خان جان کو اظہار رائے کی آزادی ہے تو آپ کو بھی ہے۔ لیکن پاکستان جیسے تشدد پسند معاشرے میں رہتے ہوئے اگر آپ کی رائے کسی کی جان لے سکتی ہے تو اسے خود تک محدود رکھئے۔ ناصر خان جان کی ویڈیوز بھی دیکھیں گے اور اسے القابات سے بھی نوازیں گے۔ اس معاشرے کی ’غیرت‘ کو للکاریں گے۔ پھر ایک دن اسی ناصر کے لئے ٹسوے بھی بہائیں گے۔

ہم تو اپنی کمزوری مانتے ہیں کہ مہمان کے شایان شان اس کی سیوا کرنے کی توفیق نہیں رکھتے۔ آپ بھی مان لیجیے اور صرف ریٹنگ کے پیچھے مہمان پر چلانے سے گریز کیجئے۔ اگر ناصر خان جان ہماری اعلی روایات سے بغاوت کر رہا ہے تو آپ بھی مہمان کی بے عزتی کر کے مہمان نوازی کی قدر کو مٹی میں ملا رہے ہیں۔
ذرا سوچئے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •