سینئر ٹھرکیالو جسٹ سے ملاقات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لڑکیاں تاڑنے اور انہیں تنگ کرنے کا سلسلہ تو سالہاسال سے چلتا آ رہا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی تو نہیں کہ یونہی چلتا رہے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے تو امی کے خوف اور اللہ کے فضل سے میں اچھی ریپوٹیشن کا حامل ہوں یا کم از کم لوگ یہی سمجھتے ہیں لڑکی اور ٹھرکی میں چولی دامن کا ساتھ ہے، اس بارے میں تو کوئی نہیں جانتا کہ ٹھرک کا آغاز کب سے ہوا لیکن یہ سب جانتے ہیں کہ اگر لڑکی نہ ہوتی تو کوئی ٹھرکی نہ ہوتا، اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ مرد بڑا ٹھرکی ہوتا ہے اور خاص طور پر شادی کے بعد تو اس کی نظریں ٹکتی ہی نہیں، میرے خیال میں کنوارہ بندہ تو لڑکیوں کو اس لئے دیکھتا ہے کہ شاید یہ میری ہمسفر بن جائے اور شادی شدہ شاید اس لئے دیکھتا ہے کاش یہ میری ہمسفر بن جاتی، سوچ دونوں کی ایک ہی ہے لیکن انداز اپنا اپنا ہے۔

سینئر ٹھرکیالو جسٹ رضوان صاھب فرماتے ہیں ہیں کہ اب لڑکیاں بھی ٹھرکی ہوگئی ہیں اور یہ عادت ان کو مردوں کی طرف سے ملی ہے، بعض لڑکیاں تو مردوں کو ایسے دیکھتی ہیں کہ وہ بے چارا پسینے پسینے ہوجاتاہے اور یہ پسینے پسینے ہوجانے والا تجربہ رضوان صاحب کا اپنا ہے۔ میرے نزدیک ٹھرک پن ایک معصوم سا فعل ہے، کوئی بات کرکے دل کو تسلی دیتا ہے تو کوئی آنکھیں ٹھنڈی کرکے خوش ہو جاتا ہے، بعض لوگوں کے نزدیک ٹھرک نقصان بھی پہنچاتی ہے مگر ابھی تک ایسے شواہد نہیں ملے۔

ادھر کوئی خوبرو دوشیزہ نظر آئی ادھر رضوان صاحب کا دل دھک دھک کرنے لگ جاتا ہے۔ خوبصورتی واقعی متاثرکن ہوتی ہے۔ اس میں قدرتی طور پر ایسی پراسرار طاقت ہوتی ہے کہ کسی کو بھی اپنی طرف راغب کرے مگر کچھ لوگ تو حد کردیتے ہیں۔ ٹھرکی پن کا وائرس کسی بھی عمر میں دماغ کے پورے نظام کو ہیک کرلیتا ہے۔ شوخ نوجوانی سے لے کر ادھیڑ عمری اور کبھی کبھی ضعیف العمری میں بھی یہ لت لگ سکتی ہے۔ جس کی کافی مثالیں ہیں۔

ٹھرک پن ایک مستقل مصیبت ہے اور ہر جگہ موجود رہتی ہے چاہے وہ دفتر ہو، تعلیمی ادارے ہو یا پھر دیگرادارے، ایک مخصوص ذہنیت سے آمنا سامنا ہر حالت میں ہوتا ہی ہے۔ میری ایک کولیگ کا کہنا ہے کہ کوئی ایک دو ہو تو بندہ چپ رہے، مگر یہاں تو چاروں طرف ٹھرکی ہی ٹھرکی ہیں۔ بیچاری رضیہ غنڈوں میں پھنس گئی ہے ویسے جہاں تک میں جانتا ہوں یہاں رضیہ کا اپنا دل بھی جان بوجھ کر غنڈوں میں پھسنے کا ہوتا ہے۔

آخر اس مرض سے چھٹکارا کیسے پایا جائے؟ میں نے یہ سوال دوست اورسینئر ٹھرکیالو جسٹ رضوان کے سامنے رکھا تو انہوں نے ایسا جواب دیا کہ میں حیران و پریشان رہ گیا۔ بولے بھائی صاف گو آدمی ہوں منہ پر بات کرنے والا، جس دن ٹھرک پوری نہ ہو بیمار پڑنے لگتا ہوں، اس لئے کوئی اسے خباثت سمجھے یا گندی عادت، لیکن جب موقع ملتا ہے ٹھرک پوری کرلیتاہوں ’گویا یہ کوئی شرارت نہ ہوئی نیکوٹین کا نشہ ہوا جسے پورا کیے بغیر کام نہ چلے۔ موصوف نے ڈبے سے ٹشو نکالا ماتھے سے پسینہ پونچھا اورابلیسی مسکراہٹ کے ساتھ جواب مکمل کیا۔

کچھ لوگوں کی زندگی کا سورج ڈھلنے کے قریب پہنچتا ہے مگر مجال ہے جو اپنی شرارت سے باز آئیں۔ یہ لوگ باہر سے تیر کی طرح سیدھے ہوتے ہیں لیکن اندر ہی اندر وہ جلیبی سے بھی زیادہ ٹیڑھے میڑھے ہوتے ہیں۔ ٹھرک کی لت میں جینے والے بھی کچھ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ باہر سے صاف گوئی کی اداکاری کرنے والے اکثر اندر سے شیطان زدہ ہوتے ہیں۔ جب بولے تو ریاکاری کی انتہا۔ یہاں پر انہوں نے اپنے ایک سابقہ پرنسپل کی بھی مثال دی جو نقص امن کے خوف سے حذف کر دی گئی ہے

آخرمیں ٹھرکیوں سے درخواست ہے کہ خود بھی جیو، دوسروں کو بھی جینے دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •