It’s the economy, stupid

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1992 میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے اپنی انتخابی مہم میں نعرہ بلند کیا کہ

”It ’s economy، the stupid“

’’نادان، یہ معیشت ہی ہے۔‘‘ بل کلنٹن نے اس وقت امریکا کی معیشت کی نا گفتہ صورت احوال پر سیاسی مخالفین کو آڑے ہاتھوں لے کر انتخاب جیت لیا۔ عمران خان نے دور اپوزیشن میں حکمران طبقات کو معیشت کی زبوں حالی اور ابتر صورت احوال پر جس طرح رگیدا اس کی باز گشت ابھی تک یاداشتوں میں گونج رہی ہے۔ اگر کسی کو مزید ثبوت درکار ہوں تو ٹوئٹر پر خان صاحب کے اکاؤنٹ کے ماضی کو کھنگال لے کہ جس پر حکمرانوں کے خراب معیشت پر لتے لینے کی داستانیں بکھری پڑی ہیں۔

یہ معیشت ہی تھی جس نے زرداری اور نواز حکومت کے خلاف عوامی جذبات کو آتشیں بنایا جب ماضی کے دونوں حکمران کے نامہ اعمال بیڈ گورننس، بد عنوانی اور معیشت کی زبوں حالی سے عبارت تھے۔ عمران خان کے نو مہینوں کے اقتدار کے بعد اگر سب سے بڑی سونامی اس ملک کے سیاہ بخت عوام پر قیامت بن کر ٹوٹی تو وہ معیشت کی وہ خراب تر صورت احوال جو باشندگان ارض کے منہ سے روٹی کا آخری نوالہ چھیننے کے در پے ہے۔ عمران خان صاحب کی حکومت میں معیشت جس جان کنی کی حالت میں ہچکیاں لے رہی ہے اس کے لیے معاشی اعدادو شمار کا ماہر ہونا ضروری نہیں۔

کسی بازار، گلی اور چوراہے پر نکل کھڑے ہوں اور زرا عوام سے پوچھ لیں تو جواب میں حکومت کے لیے کسی کلمہ خیر کی توقع نہیں رکھیے گا۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے مدینہ کی ریاست کے ماڈل پر اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے سارے خوش نما عزائم معیشت سے جڑے تھے۔ ایک فلاحی میں بھوکے کے پیٹ میں نوالہ، ننگے بدن پر کپڑا اور بے آسرا کے سر پر چھت فراہم کرنا ہوائی قلعے بنانے سے ممکن نہیں ہو پاتا بلکہ اس کے لیے معیشت کو مضبوط سائنسی فکر پر استوار کر کے اس میں جدت و پیداوار کے موتی ٹانکنے ہوتے ہیں تا کہ ملکی دولت و وسائل میں اضافے کو ممکن بنایا جا سکے۔

اگر لفظوں کی جگالی سے یہ ممکن ہو پاتا تو یہ ماضی کے ان مسخرے حکمران کے دور میں عملی جامہ پہن چکا ہوتا جو ایشائی ٹائیگر سے لے کر خدا جانے اس ملک کو کیا کیا بنانے کے نعرے لگا کر قصہ پارینہ ہو چکے۔ عمران خان کی سوچ میں اگر یہی نسخہ کار فرما ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس ہی بیمار معیشت کا نسخہ مسیحائی ہے تو پھر پرانے حکمران ہی بھلے ٹھہرے کہ ان کے پاس بھی ائی ایم ایف کا نام نہاد تریاق ہی تھا کہ جس نے اقتصادیات کے بدن سے زہر تو خاک چوسنا تھا بلکہ اسے مزید نڈھال بن ڈالا۔

پاکستان کی معیشت کو عالمی مالیاتی اداروں کی نام نہاد مالی اعانت جو در اصل قرضوں کی ہی ایک قسم ہوتی ہے میں جکڑا جاتا ہے۔ ان قرضوں کو خوش نما ناموں کے لبادوں میں اوڑھ کر ملک کو عالمی اداروں کی ڈکٹیشن کے تابع فرمان بنا دیا جاتا ہے۔ ان قرضوں سے اگر آسودگی نصیب ہوتی تو ماضی کے اکیس پروگرام جو پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان طے ہوئے وہ معیشت کو قوت و توانائی کا ایسا انجشکن لگاتے کہ یہ زقندیں بھرتی ہوئی آگے کو دوڑاتی نظر آتی۔

ہماری معیشت کی بنیادی خرابی اس کی ساخت میں ہے کہ جو آج بھی ایک پرانے ڈھانچے پر کھڑی ہے۔ اکیسویں صدی علم پر مبنی معیشت کی صدی ہے لیکن ملکی معیشت میں یہ عنصر سرے سے عنقا ہے۔ معیشت کے پیداواری عمل میں جدت اور تخلیق کے عناصر اسے جدید رجحانات سے ہم کنار کرتے ہیں تا کہ مسابقت کے اس دور میں ملکی مصنوعات کو عالمی منڈی میں بیچا جا سکے۔ عمران خان کی حکومت کا معاشی وژن اگر ابھی تک اس مفروضے پر قائم ہے کہ لوٹی ہوئی ملکی دولت کی بر آمدگی اور اس کی واپسی سے معیشت کا سست روی کا شکار پہیہ یکلخت تیزی سے گھومنے لگے گا تو معذرت کے ساتھ یہ ایک سراب سائے سے زیادہ کی حثیت نہیں رکھتا جو ما سوائے نظر کے دھوکے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

یہ معیشت ہی ہے جو کسی حکومت کی کامیابی اور نا کامی کا تعین کرتی ہے اور عمران خان کی حکومت کی کارکردگی بھی معیشت کی کارکردگی سے مشروط یے۔ اب تک حکومت اس محاذ پر سوائے چند نمایشی اقدامات کے علاوہ کوئی ایسی کامیابی نہیں سمیٹ سکی کہ جس پر سر دھنا جائے۔ آٹھ نو ماہ کے بعد اسد عمر کی جگہ عالمی بنک سے منسلک حفیظ شیخ کی بطور مشیر خزانہ تعیناتی اس بات کی غماز ہے کہ معاشی پالیسیاں اب عالمی مالیاتی اداروں کے ہاتھوں میں دیے جا رہے ہیں۔ اس پر مہر تصدیق اس وقت ثبت ہو گئی جب ائی ایم ایف کے ملازم رضا باقر اسٹیٹ بنک کے گورنر مقرر کر دیے گئے۔ ایف بی آر میں تبدیلی آ چکی ہے کہ سابق چیئرمین کو ہٹا کر نئے سربراہ کی تعیناتی بھی بس ہونے کو ہے۔

وزرات خزانہ اور کلیدی مالیاتی عہدوں پر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی ہدایات پر مزید تعیناتیوں کی خبریں گردش میں ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں کے ملازمین اور ان کے تابع فرمان افراد کی اہم اور کلیدی مالیاتی عہدوں پر دھڑا دھڑ تعیناتیوں پر جسٹس رستم کیانی یاد آئے جو آمریت کے تیرہ و تاریک ماحول میں روشنی کا منارہ تھے۔ ایوب خان کے مارشل لا کے نفاذ کے بعد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس کیانی نے کہا ”مارشل لاء کا نفاذ سب سے بڑی آفت ہے جو کسی قوم پر نازل ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا بد نصیبی تنہا نہیں آتی اس کے ساتھ فوجی دستے آتے ہیں لیکن اس بار تو پوری فوج اس کے ساتھ ہے۔“ معیشت پر بد نصیبی تنہا نہیں آئی اس بار حفیظ شیخ کے ساتھ عالمی مالیاتی اداروں کی پوری فوج ظفر موج کی آمد آمد ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •