دخترِ پختونخوا، ڈاکٹر ماریہ ضیا اور سپورٹس فزیو تھراپی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر ماریہ ضیا ایک چمکتے ستارے کی طرح ضلع مردان کے ایک دور افتادہ علاقے تازہ گرام میں ابھری اور بہت ہی قلیل مدت میں اسپورٹس فزیکل تھراپی کے میدان میں اپنا لوہا منوایا۔ ڈاکٹر ماریہ خیبر پختون خوا کی پہلی اور واحد خاتون اسپورٹس فیزیو تھراپسٹ ہیں، جو اس وقت خیبر پختون خوا کے سب سے بڑے اسپورٹس کمپلیکس قیوم اسٹیڈیم پشاور میں بطور اسپورٹس فزیو اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ ایک ہزار سے زائد رجسٹرڈ کھلاڑیوں کی فزیو تھراپی اکیلی سنبھال رہی ہیں۔

ماریہ کو نہ صرف صوبے کے پہلی خاتون اسپورٹس فزیو تھراپسٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہے بلکہ وہ اسپورٹس فزیو تھراپی کی تعلیم میں بھی اس وقت صوبے کی واحد خاتون ہیں جو کہ اسپورٹس فزیو میں اسپیشلائزیشن کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ پچھلے سال دبئی فنانشل سٹی کی طرف سے ماریہ ضیا کو ایک انٹرنیشنل کانفرنس میں مدعو کیا گیا تھا۔ جو کہ وہ اٹینڈ کر چکی ہیں۔ انٹر میڈیٹ کے امتحانات میں ٹاپ ٹونٹی میں آنا اور ملک کے بڑے انسٹی ٹیوشن سے فل اسکالر شپ آفر ہونا بھی ماریہ ضیا کے لئے باعث فخر رہا ہے۔

ماریہ ضیا کہتی ہیں، کہ اسپورٹس فیزیو یہاں پر ایک نیا شعبہ ہے اور پورے ملک میں صرف دو ہی یونیورسٹیاں اسپورٹس فزیکل تھراپی میں پی ایچ ڈی آفر کر رہی ہیں۔ رفاح انٹرنیشنل میں شروع میں تعداد کچھ خاطر خواہ نہیں تھی لیکن اب خاصی ہو گئی ہے۔ مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی اس طرف آ رہی ہیں۔ اس فیلڈ میں جاب نہ ملنے کا اندیشہ رہتا ہے، اس لئے بیش تر طلبا و طلبات ڈاکٹر آف فزیو تھراپی کرنے کے بعد اس طرف نہیں آ رہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ باہر سے فیزیکل تھراپسٹ بلواتے ہیں۔ اب بھی قومی کرکٹ ٹیم کے ساتھ فیزیو پاکستانی نہیں ہے۔ اب جب اپنے اسٹوڈنٹس اس فیلڈ میں آ رہے ہیں۔ کچھ گریجویٹ بھی ہو چکے ہیں، تو پی سی بی اور دیگر اسپورٹس بورڈز کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ غیر ملکی فیزیو تھراپسٹ کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کے ٹیلنٹ کو بھی موقع دیں۔ گریجویشن کرنے کے بعد ان اسٹوڈنٹس کے لیے کورس ارینج کر لے یا پھر کوئی بھی ایسا ماحول یا مواقع فراہم کریں کہ وہاں پر یہ خود کو منوا سکیں، اور نئی چیزیں سیکھ سکیں۔ خواتین کو خصوصی مواقع فراہم کرنا چاہیے تا کہ مردوں کے شانہ بشانہ کام کر سکیں۔ جب اپنے ملک کے اسپیشلسٹ موجود ہیں تو باہر سے اسپورٹس فزیو بلوانا قوم کے ٹیلنٹ اور بجٹ کا ضیاع ہے۔

ہر ایک گیم کے لیے فزیکل تھیراپسٹ کا ہونا بہت ضروری ہے۔ کیونکہ فزیکل تھراپسٹ ہر ایک کھیل کے بارے میں پڑھتا ہے ریسرچ کرتا ہے اور ان کو یہ پتا ہوتا ہے کہ اس گیم میں کھلاڑیوں کو کیا احتیاط کرنا چاہیے تا کہ وہ انجریز سے بچ سکیں۔ کیونکہ اگر کوئی بھی کھلاڑی بغیر فزیو کے گیم کھیلتا ہے۔ تو اس کو مکینک کا پتا نہ ہونے کی وجہ سے انجریز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ماریہ ضیا کہتی ہیں کہ کھیلوں کے بارے میں انہوں نے پہلے پڑھا ہے ریسرچ کیا ہے، تبھی وہ کھلاڑیوں کی اچھی ٹریٹمنٹ کرسکتی ہیں۔ ”جس گیم میں ایکسر سائزز اور بوڈی مومنٹ جتنی زیادہ ہوتی ہے اس میں انجریز بھی زیادہ آتی ہیں۔ جیسے کہ جمناسٹک میں فل باڈی مومنٹ زیادہ ہونے کی وجہ سے انجریز زیادہ ہوتی ہیں اور جس گیم میں کھلاڑی پروٹیکٹیو پیڈز استعمال کرتے ہیں تو اس میں انجریز کم ہوتی ہیں۔“

پشاور کے قیوم اسپورٹس کمپلیکس میں تقریباً 36 کے قریب کھیل کھیلے جاتے ہیں۔ ان سب کے لئے اگر چہ ایک فزیو کافی نہیں ہے لیکن پھر بھی ڈاکٹر ماریہ ضیا کوشش کرتی ہیں کہ کھلاڑیوں کو مختلف ٹیکنیکس سے آگاہ کریں، تا کہ کھیل کے دوران انجریز کی نوبت ہی نہ آئے۔

اپنے مستقبل کے بارے میں ماریہ ضیا کا کہنا ہے کہ جب بھی موقع ملے گا کسی بھی کھیل کے لئے نیشنل ٹیم کے ساتھ ضرور جوائن کریں گی۔ اس کے علاوہ انہیں اسپورٹس بایو مکینک میں دل چسپی ہے اسی میں ہی پی ایچ ڈی کریں گی۔ کیونکہ اس میں نارمل بائیو مکینک کا پتا چلتا ہے۔ اگر کھلاڑی اس کو فالو کرے تو انجریز روکنے کے ساتھ ساتھ ان کی کارکردگی بھی بہتر ہوتی جائے گی۔

خواتین کے لئے یہ شعبہ انتہائی محفوظ ہے۔ ان کو چاہیے کہ اس شعبے میں آئیں۔ اگر پشاور اسپورٹس کمپلیکس ہی میں دیکھا جائے تو کچھ گیمز ایسے ہیں، جن میں مرد ہے ہی نہیں۔ اور جس رفتار سے فی میل ایتھلیٹس بڑھ رہی ہیں، اس طرح فی میل فزیوز کی ضرورت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

کہتے ہیں جہاں کھیلوں کے میدان آباد ہوتے ہیں، وہاں اسپتال ویران ہو جاتے ہیں۔ خواتین ہو یا مرد، کرکٹ، فٹ بال، والی بال، جمناسٹک، ہاکی یا دیگر کھیلیں، دیکھنے اور کھیلنے کا شوق رکھتے ہیں۔ لیکن اکثر اوقات ان تمام گیمز کو کھیلتے وقت کھلاڑی کم علمی کی وجہ تکنیکی غلطیاں کرتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں جان لیوا انجریز ہو جاتی ہیں۔ حکومتی سطح پر کھیلوں کی حد تک تو کچھ نہ کچھ کیا جاتا ہے۔ لیکن اسپورٹس فزیو جو کہ سارے کھیلوں کے ساتھ منسلک ہیں، انھیں نظرانداز کیا جاتا ہے۔

وفاقی حکومت اور خاص کر خیبر پختون خوا کے وزیر کھیل کو چاہیے کہ کھیلوں کے ساتھ ساتھ اسپورٹس فزیو تھراپسٹ کو بھی توجہ دیں۔ اس سے نہ صرف کھیل کے دوران انجریز کو اسانی سے ہینڈل کیا جا سکے گا، بلکہ کھلاڑیوں کو یہ تربیت بھی میسر ہو گی اور پھر گیم کے دوران وہ ٹیکنیکل غلطیاں ہی نہیں کریں گے، جو انجریز کا سبب بنتے ہیں۔

اسپورٹس فزیو ایک وسیع شعبہ ہے۔ اگر حکومت اس شعبے کے ساتھ منسلک طلبا کے ساتھ تعاون کرے تو پھر اس ملک کے نوجوان اتنے باصلاحیت ہیں کہ یہاں سے اسپورٹس فزیو دوسرے ملکوں کو سروسز دیں گے اور اپنے ملک کے کھلاڑیوں کی بھی رہ نمائی کر سکیں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •