رمضان نشریات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور اللہ پاک کی بے شمار نعمتوں والا مہینا ہے۔ یہ مقدس مہینا ہم سب کو صبر کا درس دیتا ہے، کہ کس طرح ہم صبر کر کے اور اپنی نفسانی خواہشات پہ قابو پا کر، اللہ پاک کی خوش نودی حاصل کر سکتے ہیں۔ یعنی ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں، یہ اللہ پاک کا قرب اور خوش نودی حاصل کرنے کا مہینا ہے۔ ویسے تو ہم پورا سال عبادات کرتے ہی ہیں لیکن اس مبارک ماہ میں عبادت کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

اگر آپ آج سے نوے کی دہائی یا اس سے پہلے کا جائزہ لیں تو رمضان المبارک یا عید کی جو رونقیں ہوا کرتی تھیں، جو روایتیں تھیں، وہ یک سر تبدیل ہو کر رہ گئیں ہیں۔ نوے کی دہائی سے پہلے جب ہم نومولود تھے تو رات کو سوتے وقت خصوصاََ اپنے والدین سے التجا کر کے سویا کرتے تھے، کہ ہمیں سحری پر اٹھا دیجیے گا۔ جب بعض اوقات ہمارے والدین ہمیں سحری پر نہیں اٹھاتے تو ہم صبح اٹھ کر ان سے بہت دیر تک ناراض ہو جایا کرتے تھے۔ اس وقت جب ہم کبھی سحری پر اٹھتے تھے تو پاکستان ٹیلی ویزن کی اسپیشل ٹرانسمیشن دو بجے رات شروع ہوا کرتی تھیں، جو اس دور میں ہمارے لئے بہت اہمیت رکھتی تھیں، اور اس نشریات کو دیکھنے کا لطف ہی الگ تھا۔ بصیرت سے نشریات کا آغاز ہوا کرتا تھا اور پھر صراط مستقیم۔ فہم القران جیسے پروگرام صابری برادرز کی مشہور قوالیاں خصوصا تاج دار حرم ایک الگ ہی فضا قائم دیا کرتی تھی۔

مجھے یاد ہے ڈاکٹر غلام مرتضی ملک مرحوم ’’صراط مستقیم‘‘ کہ نام سے سحری پر روزانہ آدھے گھنٹے کا پروگرام پیش کیا کرتے تھے۔ اور سیرت نبی بیان کیا کرتے تھے۔ ان کا انداز بیاں ان کا دھیما لہجہ دل و دماغ میں رس گھول دیا کرتا تھا۔ اس وقت شیعہ، سنی، دیو بندی و اہل حدیث سب وہ پروگرام سنا کرتے تھے۔ کوئی اختلاف رائے نہیں ہوا کرتا تھا۔ کسی کو اس سے غرض نہیں تھی، کہ ڈاکٹر صاحب کس مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔ مقابلہ حسن قرات اور مقابلہ نعت خوانی بھی روازنہ کی بنیاد پر ہوا کرتے تھے۔ جس میں شرکت کر کے کئی ثنا خواں ملک کہ نام ور ثنا خواں بن گئے۔ پورے پاکستان سے محافل شبینہ براہ راست پیش کی جاتی تھیں جو ایک سماں باندھ دیا کرتی تھیں۔

مگر سن 2000 کے بعد جب پرائیویٹ چینلز وجود میں آئے تو رمضان المبارک کو صرف ایک فیسٹول بنا دیا گیا۔ بے ہنگم انداز میں کامیڈین نما کمپیئر وجود میں آ گئے۔ عوام کو فہم القران اور صراط مستقیم سے ہٹا کر مختلف قسم کہ بے ہنگم گیم شوز میں لگا دیا گیا۔ لوگ رمضان المبارک کی برکتیں سمیٹنے کہ بجائے کیو موبائلز اور موٹر بائیکوں کو سمیٹنے کی جست جو میں لگ گئے۔ پھر اس سے بڑھ کر ان شوز کی میزبانی ایسے جوکروں کو دے دی جو سارا سال ناچ گانا یا دوسروں پر کیچڑ اچھالتے رہے ہیں۔

اس بے ہنگم نشریات کا سہرا ایک خود ساختہ مذہبی اسکالر کہ سر جاتا ہے جس نے رمضان المبارک کہ تقدس کو بری طرح پا مال کیا اور اس کہ بعد دیکھا دیکھی کئی اور گلوکار اداکار رمضان نشریات کہ دائی بن گئے۔ جنھوں نے اس ماہ مبارک کا تقدس بری طرح پا مال کیا۔ حد تو یہ سحر و افطار کہ اوقات میں اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لئے یہ خود ساختہ مذہبی اسکالرز مختلف مکاتب فکر کہ علما اکرام کو لڑواتے ہیں۔ اس ہی بنیاد پر پچھلے سال اسلام آباد ہائی کورٹ کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ رمضان ٹرانسمیشن میں سرکس لگتے رہے، بے ہودگی ختم نہ ہوئی تو عدالت ان شوز پر پا بندی لگا دے گی۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا تھا، ہم کوئی ایسا حکم جاری نہیں کر سکتے جس پر عمل در آمد نہ کروا سکیں۔ مگرمضان نشریات کے نام پر اسلام کے ساتھ تمسخر برداشت نہیں کیا جائے گا، پیمرا اور پی بی اے احکامات پر فوری عمل در آمد کے لئے کام شروع کریں۔ افسوس پیمرا نے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا رمضان نشریات کہ نام پر سرکس نما ٹرانسمیشن جاری رہیں۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس ماہ رمضان آیا۔ یہ مبارک مہینا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض کیے ہیں۔ اس میں آسمانوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور بڑے شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں۔ اس (مہینا) میں اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی رات (بھی) ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو اس کے ثواب سے محروم ہو گیا، سو وہ محروم ہو گیا۔

مگر ایسے میں کچھ شیاطین مختلف ٹی چینلز پر بیٹھ کر تفرقہ پھیلا رہے ہوتے ہیں۔ ارباب و اختیار کو فوری سدباب کرتے ہوئے ایسے خود ساختہ مذہبی اسکالرز کو رمضان المبارک کی با برکت نشریات سے دور رکھنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •