موسم سرما میں وادی نیلم کی سیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”آپ کی وادی بہت خوبصورت اور قدرت کے دل کش رنگوں سے بھر پور ہے۔“ نصر بھٹی صاحب نے ارد گرد نظر دوڑاتے ہوئے کہا۔
اس وقت ہم پھلاوائی میں محترم خرم جمال صاحب کے مہمان تھے۔ یہ جولائی کا مہینا تھا اور موسم گرما میں وادی نیلم کا حسن اپنے جوبن پر ہوتا ہے۔ کوہسار سبز چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ دریائے نیلم کے پانی آپے سے باہر ہو جاتا ہے اور سیاحوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے یہ ویرانے آباد ہو جاتے ہیں۔

”جی ہاں بھٹی صاحب! آپ کی بات صد فی صد درست ہے لیکن آپ کو ان مشکلات کا اندازہ نہیں جن کا سامنا ہم چند ماہ بعد کرنے والے ہیں۔ موسم سرما کی برف باری شروع ہوتے ہی یہ آباد مقامات ویران ہو جائیں گے جہاں ما سوائے مقامی حضرات کے کوئی ذی روح نظر نہیں آئے گا۔ وادی کی واحد سڑک بھاری برف باری کے باعث بند ہو جائے گی۔ لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو جائیں گے۔ اشیائے ضرورت کا حصول دشوار ترین ہو جائے گا۔ آپ تو چند دن بعد واپس چلے جائیں گے اور اگلے موسم گرما کا انتظار کریں گے۔ اگر آپ ہماری مشکلات کا اندازہ کرنا چاہتے ہیں تو کبھی موسم سرما میں بھی نیلم آئیں۔“

خرم جمال صاحب کی باتیں سیدھی دل میں جا پیوست ہوئیں جس پر ہم نے فیصلہ کیا کہ موسم سرما میں وادی نیلم کی یاترا کی جائے تا کہ اندازہ ہو سکے کہ انہیں کس قدر مشکلات کا سامنا ہے؟ اپنے فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہم نے پہلے دسمبر، پھر جنوری اور پھر فروری کا مہینا منتخب کیا لیکن امسال ریکارڈ برف باری نے ہماری راہ روکے رکھی۔ آخر ماہ مارچ کے آخر پر وادی کے حالات ساز گار ہونے کی خبر ملی تو فوراً رخت سفر باندھ کر چل نکلے۔ یہ 28 مارچ 2019ء کی تاریخ اوردن ڈیڑھ بجے کا وقت تھا۔

رات مظفر آباد میں قیام کے بعد اگلے روز 29 مارچ 2019 ء کو صبح سارٓھے گیارہ بجے کیل رسائی کے لیے بذریعہ کوسٹر روانہ ہوئے۔ چلہانہ کے مقام سے وادی نیلم میں داخل ہوئے۔ اٹھ مقام میں بہار کی آمد آمد تھی۔ درختوں پر نئی کونپلیں اور مختلف اقسام کے پھول وادی میں آمد بہار کی اطلاع دے رہے تھے۔ دو گھنٹے بعد شاردہ پہنچے تو ہر طرف برف کے ڈیرے تھے۔ یہ نیلم کے ہی دل فریب رنگ ہیں کہ صرف ڈیڑھ گھنٹے اور 53 کلو میٹرکے سفر کے بعد آپ بہار کے پھولوں سے سرما کی برفوں میں پہنچ جاتے ہیں۔

شاردہ میں شام کی چائے وغیرہ کے لیے سفر معطل کیا گیا۔ کوہسار تو برف میں پوشیدہ تھے ہی، گھروں کی چھتیں اور نیلم کے کنارے بھی سفید چادر میں لپٹے تھے۔ شاردہ سے نکلے تو بارش شروع ہو گئی۔ کیل کے راستے میں دو نالے خاصے شوریدہ سر تھے۔ ایک نالہ پار کرتے ہوئے کوسٹر بری طرح پھسلی لیکن اللہ کا فضل ہی تھا جس نے ہمیں بخیر و عافیت یہاں سے گزار دیا۔ شام کا وقت تھا، تیز بارش اور کچے راستے پر پُر خطر سفر کرتے ہوئے رات ساڑھے آٹھ بجے کیل پہنچے۔ کیل کے ایک ہوٹل میں خرم صاحب کی معرفت ایک مناسب کمرا، پہلے ہی حاصل کر لیا گیا تھا۔ بس سے اترکر فوراً ہوٹل کا رخ کیا کہ بارش اب بھی جاری تھی۔

اگلے دن (30 مارچ کو) ہم بیدار ہوئے تو سخت سردی کی وجہ سے گرم لحاف چھوڑنے کو دل نہ چاہا لیکن اس وقت سردی کا کوئی ہوش نہ رہا جب واصل صاحب نے کھڑکی سے باہر دیکھ کر برف باری کی نوید سنائی۔ اب بستروں میں رہنے کا کوئی جواز نہیں تھا سو ہم نے اڑنگ کیل جانے کی تیاری مکمل کر لی۔ برف باری اب خاصی تیز ہو چکی تھی۔ ہم اسی برف باری میں اڑنگ کیل روانہ ہوئے۔ کیل شہر میں ڈیڑھ تا دو فٹ برف پڑی تھی۔ کچی گلیاں اور خستہ حال سڑک اپنی حالت زار پر نوحہ کناں تھیں۔ برف باری اور بارش کے باعث کیچڑ تھا جس نے شدید پھسلن پیدا کررکھی تھی۔ آنے جانے والے لوگوں کے کپڑے اور جوتے خراب ہونا معمولی بات ہے۔ ہمیں زندگی کی مشکلات کا اندازہ یہیں سے ہونا شروع ہو چکا تھا۔

انہی مشکلات کے باعث کیل کے اکثر ہوٹل بند تھے۔ سیاح موسم سرما میں کیل کا رخ کرنے کی ہمت نہیں کرتے۔ موسم کی یہ سختیاں مقامی ہی جھیلتے ہیں۔ زیادہ تر لکڑی سے تعمیر کردہ گھروندے سردی سے کس قدر تحفظ فراہم کرتے ہیں؟ اگر آپ جاننا چاہتے ہیں تو برف میں مستور کیل آپ کا منتظر ہے۔

برف باری تھمنے کے کوئی آثار نہیں تھے۔ کیل سے کیبل کار کے ذریعہ دریائے نیلم عبور کیا اور برف میں مستور پہاڑ کی ڈھلوانوں پر تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر پیدل چل کراڑنگ کیل پہنچے جہاں زمین پر ہر طرف 6 تا 7 فٹ برف کی تہہ موجود تھی۔ کیل میں ہمیں کراچی سے آئے ہوئے چند سیاح ملے تھے جن کا اڑنگ کیل آنے کا ارادہ تھا لیکن شاید بھاری برف باری کے باعث وہ ہمت نہیں کر سکے۔ اڑنگ کیل میں قیام کے دوران ہمیں اپنے علاوہ یہاں کوئی سیاح نظر نہ آیا۔

تیز ہوا کی وجہ سے سردی خاصی تھی۔ ایک مناسب ہوٹل میں کمرا کرائے پر حاصل کیا۔ لکڑی کی آگ سے سرد پڑتے بدنوں کو حرارت پہنچائی۔ نیلم کے لوگ سردی سے بچاؤ کے لیے بے تحاشا لکڑی جلانے پر مجبور ہیں۔ اور اس وجہ سے بے دردی سے درخت کاٹے جا رہے ہیں۔ وہ کوہسار جن کی ڈھلوانیں چند ماہ قبل درختوں کی بہتات کی وجہ سے نظر نہ آتی تھیں، اب درختوں سے بے نیاز ہو چکے تھے جس کی وجہ سے لینڈ سلائیڈنگ اور اس کے نتیجے میں سڑک کا بند ہو جاناعام ہے۔ نیلم روڈ کی خستہ حالت کے باعث گیس کے سلنڈر یہاں پہنچانا خاصا مشکل ہو جاتا ہے نیز گیس سلنڈر کی ہوش ربا قیمتیں عوام کی استطاعت سے کہیں باہر ہیں۔

سامان ہوٹل میں رکھ کر ا ور دُپہر کے کھانے کے بعد گرتی برف میں اڑنگ کیل کی سیر کو نکلے۔ برف باری اب بھی خاصی تیز تھی۔ بادل خاصے نیچے آئے ہوئے تھے اور پہاڑ بادلوں میں مستور تھے۔ کوہساروں اور وادی کا منظر خاصا سحر انگیز تھا۔ عصر کا وقت تھا جب برف باری تھمی اور بادل منتشر ہونا شروع ہو گئے۔ مشرقی پہاڑ پر سورج کی کرنیں بادلوں میں سے نکل کر پہاڑ کی چوٹی پر پڑ رہی تھی اور پہاڑ کی چوٹی سونے میں تبدیل ہو چکی تھی۔ یہ کوہساروں کا ہمارے لیے شاید سب سے حسین تحفہ تھا۔ رات کے اندھیرے میں تاروں بھرے آسمان کا نظارہ بھی دل کشی میں اپنی مثال آپ تھا۔ اڑنگ کیل میں جو کم سے کم درجہ حرارت ہم نے نوٹ کیا وہ سات ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔

اگلے روز 31 مارچ کو اڑنگ سے واپسی ہوئی۔ نصر بھٹی صاحب کی ہر ممکن کوشش تھی کہ تاؤ بٹ تک لازمی پہنچا جائے۔ اگر تاؤبٹ تک رسائی ممکن نہیں تو کم از کم خرم جمال صاحب کے ہاں پھلاوائی تک پہنچا جائے۔ جیپ ٹریک مچھل نامی مقام تک کھلا تھا جو کیل سے تقریباً 8 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس سے آگے راستے پر کم و بیش 4.5 فٹ برف اور کیچڑ کے باعث بند تھا۔ ایک جیپ پر لفٹ لے کر مچھل پہنچے اور یہاں سے پیدل آگے روانہ ہوئے۔ چند مقامی لوگ ہم راہ تھے۔

کم و بیش 4 کلو میٹر چلنے کے بعد ہم بری طرح تھکاوٹ کا شکار ہو گئے۔ وجہ یہی تھی کہ اڑھائی تا تین فٹ نرم برف میں چلنا نہایت ہمت کا متقاضی ہے۔ ہمارے بوٹ برفیلے پانی سے بھر گئے جس سے پیر سن ہو گئے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ برف باری کے باعث دسمبر کے درمیانی عشرے میں سڑک بند ہو چکی تھی۔ ابھی چند روز قبل پھلاوائی میں ایک شخص چارہ کاٹ رہا تھا کہ اس کا بازو ٹوکا مشین میں آ کر کہنی سے کٹ گیا تھا۔ اس شخص کو تیس افراد آسمان سے گرتی اور زمین پر پڑی گہری برف میں اپنے کاندھوں پر اٹھا کر پاپیادہ کیل کے اسپتال پہنچے۔ یاد رہے کہ کیل سے پھلاوائی کا فاصلہ کم و بیش 21 کلو میٹر ہے۔ شاردہ سے تاؤ بٹ تک سڑک کی تعمیر، مقامی لوگوں کا سب سے بڑا اور جائز مطالبہ ہے۔

سڑک کی بندش کی وجہ سے کیل سے تاؤ بٹ کے درمیان آباد لوگوں کو بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جیپ ٹریک چند روز قبل صرف 8 کلو میٹر تک کھولا جا سکا تھا۔ کیل سے تاؤ بٹ 43 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ درمیان میں آباد فلوائی، پھلاوائی، سرداری، ہلمت، نیکروں اور تاؤ بٹ تک کے رہائشیوں کو کس قدر دشوار حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ضروریات زندگی کے حصول کے لیے انہیں کئی کئی فٹ برف میں کئی کئی گھنٹے پیدل چلنا پڑتا ہے۔ صرف اس وجہ سے کہ سڑک نہیں ہے۔

نیلم کے مذکور بالا علاقوں میں اسپتال تو دور کی بات، ڈسپنسری یا شفا خانے تک کی سہولیات موجود نہیں۔ قریب ترین اسپتال کیل میں ہے۔ ایسے میں کسی مریض یا خاص طور پر کسی حاملہ خاتون کو فوری طبی امداد فراہم کرنا ممکن نہیں اور اسی وجہ سے کئی انسان جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ مریض کو کاندھوں پر اٹھا کر پیدل ہی کیل پہنچانا پڑتا ہے صرف اس وجہ سے کہ سڑک کی حالت نا گفتہ بہ ہے۔ مقام حیرت ہے کہ اس قدر ترقی یافتہ دور میں بھی لوگ ایسی زندگی گزار رہے ہیں کہ انہیں بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔

یہ سب ہمارے اپنے لوگ ہیں۔ ایک انسان کی حیثیت سے، ایک مسلمان کی حیثیت سے، ایک پاکستانی کی حیثیت سے۔ ہم ان کے علاقے میں سیاحت کی غرض سے بہت شوق سے جاتے ہیں جب ہر طرف راستے کھلے ہوتے ہیں، موسم خوش گوار ہوتا ہے۔ کھاتے ہیں۔ پیتے ہیں، عیش کرتے ہیں اور واپس آ جاتے ہیں۔ کبھی موسم سرما کی گرتی برفوں میں بھی جائیے۔ آپ کو معلوم ہو گا کہ مشکل زندگی کسے کہتے ہیں؟ ہم صرف 5 گھنٹے برف میں رہے اور ان 5 گھنٹوں میں جتنی دشواریوں کا سامنا ہم نے کیا اس سے ہمیں بخوبی اندازہ ہوا کہ جو لوگ 5 ماہ برف باری میں یہاں رہتے ہیں وہ کن حالات کا سامنا کرتے ہوں گے؟

نیلم روڈ شاردہ سے تاؤ بٹ تک ہنگامی بنیادوں تعمیر ہونی چاہیے۔ اگر ممکن ہو تو ہر گاؤں میں ایک شفا خانہ اور پھلاوائی، سرداری اور تاؤ بٹ میں مناسب سہولیات سے آراستہ اسپتال تعمیر کیے جانے چاہیں، تا کہ ان غریب لوگوں کی مشکلات کم ہو سکیں اور ہمارے یہ بھائی اور بہنیں زندگی کی مشکلات سے چھٹکارا پا سکیں۔ علاج معالج کی مناسب سہولیات فوراً فراہم کی جانی از حد ضروری ہیں۔

مچھل کے مقام پر پاکستان آرمی کی ایک چوکی ہے۔ فوج کے جوانوں نے ہمیں واپسی پر روک لیا اور چائے کی دعوت دی۔ ان کی پر خلوص دعوت رد کرنے کو دل تو نہیں چاہتا تھا لیکن چونکہ پروگرام کے مطابق ہم نے آج شام تک پیدل ہی شاردا پہنچنا تھا سو دل پر ہمالیہ کی بھاری بھر کم چٹانیں رکھ کر معذرت کر لی۔ فوجی جوانوں کے چہروں سے عیاں تھا کہ وہ ہم سے مل کر کس قدر خوش تھے۔ بچوں کی طرح ان کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے تھے۔ صرف اس وجہ سے کہ انہوں نے کئی ماہ بعد سیاحوں کو اپنے درمیان پایا۔

فوجی جوانوں نے ہماری ہمت کی خاصی تعریف کی کہ ہم اس موسم میں جب کوئی بھی سیاح نیلم کا رخ کرنے کی ہمت نہیں کرتا صرف لوگوں کی مشکلات معلوم کرنے کی خاطر یہاں آئے تھے۔ وہ فوجی جوان جو صرف ہماری پر سکون نیند کے لیے اس قدر سخت موسم اور علاقوں میں دشمن کے سامنے ڈٹے کھڑے ہیں۔ سلام ہے خاکی وردی پہنے ان مٹی کے بندوں پر۔

جم گڑھ نامی پر مقامی لوگوں نے ہمیں یہ کہہ کر آگے جانے سے روک دیا کہ آگے راستہ بے حد خطرناک ہے۔ برف کے تودے گرنا معمول ہے جو آپ کے لیے نقصان کا باعث بن سکتے ہیں سو ہم نے یہیں سے وا پسی کر لی اور شام چھے بجے پا پیادہ شاردا پہنچے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •