مئی :ماؤں کے بچھڑنے کا مہینہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مئی کے مہینے کو ماؤں سے منسوب کیا گیا ہے۔ اس کے دوسرے ہفتے میں پوری دنیا ماؤں کا عالمی دن مناتی ہے۔ دیکھا جائے تو سال کے سب ہی دن ماؤں کی عظمت کے لئے منانا بھی ناکافی ثابت ہوں گے۔ کیونکہ ماں کے احسانوں کو کسی دن سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اولاد ازل سے ابد تک کی عبادت کا اجر بھی ماں پر قربان کرے، تب بھی اس کی ممتا کے ایل پل کا احسان اتارنا بھی ناممکن، قطعی ناممکن ہے۔ اسی لیے کسی ایک مہینے کا ایک دن ماؤں سے منسوب کرنا عقیدت کا بہت ادنیٰ اظہار ہے۔

اس کے باوجود مئی کی یہ تاریخ ہمارے لئے محترم ہے، جو ماں سے منسوب ہوئی ہے۔ جہاں تک میرے مشاہدے اور تجربے کا تعلق ہے تو اس کی بناء پر میں یہ بات کر سکتا ہوں کہ مئی ماؤں کے بچھڑنے کا مہینہ بھی ہے، یہ بات پچھلے سال اسی ماہ مئی میں کنفرم بھی ہوئی تھی، جب میں اپنے دوست کی والدہ کے سوئم کے موقع پر اس کے ساتھ بیٹھا تھا۔ اسی دن ہمارے ایک اور مشترکہ دوست نے اسے کال کر کے یہ دکھ دینے والی خبر دی کہ اس کی والدہ بھی گزر گئی ہے۔ اس سے چند دن قبل بھی دو عزیز ساتھیوں کی مائیں بچھڑنے کی دکھی کرنے والی خبریں ملی تھیں۔

۔ اور مئی کے مہینے کی ستائیسویں تاریخ میری اماں کی بھی برسی ہوتی ہے۔ اماں، جس کو ہم کوئی بھی سکھ نہ دے سکے اور نہ اس نے ہم بھائیوں کی پیدائش سے پہلے والی اپنی زندگی میں کوئی سکھ دیکھا تھا۔ وہ لوگوں سے بھرے پرے اپنے گھر میں بھی اکیلی اکیلی ہوتی تھی۔ ان کی اولاد، ہم دو بیٹے اور دونوں ہی روزگار کی وجہ سے ’پردیس‘ میں ہوتے تھے۔ مطلب یہ کہ آبائی گاؤں سے دور، کراچی میں ہوا کرتے تھے۔ پوتے اور پوتیاں ہمیشہ سانپ کی طرح زہریلے : ’دادی ایسے ہے، ویسے نہیں ہے! ’۔

میں جب بھی بیٹھ کر اماں کے حال پر سوچتاتھا، تب نور (بصارت) سے محروم اور بیماریوں میں گھری ہوئی ہونے کے باوجود وہ اپنا اور اپنے گھر کا ہر کام خود کرتے ہوئے نظر آتی تھیں۔ بڑا بیٹا شادی شدہ تھا لیکن اس کا خاندان ایک الگ قصبے میں آباد تھا۔ بابا اور اماں اپنے پرانے گھر میں ہوتے تھے۔ اور میں پڑھائی کے سبب گھر سے دور اور پھر نوکری کی وجہ سے ان سے الگ رہا۔ ایک دو مہینے کے بعد جب گھر جاتا تو ان کی جیسے عید ہوجائے۔ اور اگر بڑے بھائی بھی پہنچ جائیں تو ہماری ڈبل عید۔ وہ اماں کا پہلوٹھی کا بیٹاتھا۔ ملازمت کے باعث اس کے گھر سے دور رہنے کی وجہ سے، اماں رو رو کر اپنی آنکھوں کا نور کھو بیٹھی تھی۔

میرے بچپن ہی سے امّاں کی نظر ختم ہوچکی تھی لیکن پھر بھی اپا پورا گھر وہ خود ہی سنبھالتی تھیں۔ گھر کی ہر چیز صاف ستھری، اجلی، گھر بھی صاف ستھرا اور چمکتا ہوا۔ نظر سے محروم ہوجانے کے باوجود ہمارے گھر پہنچنے پر وہ ضد کر کے خود کھانا پکا کر کھلاتی تھیں۔ روٹی پکانے کے دوران، اندازے کی غلطی سے ان کی انگلیاں اگر تپتے ہوئے توے پر پڑتیں تو جل جاتیں۔ پھر بھی وہ انھیں گھی لگا کر، کپڑے کی دھجیاں باندھ لیتیں اور جتنے دن ہم گھر پہ ہوتے، شوق سے خود کھانا پکا کر کھلاتیں۔ جب کہ ہماری عدم موجودگی میں بابا روٹیاں ہوٹل سے لے کر آتے تھے، سالن امی گھر میں بنا لیتی تھیں۔ اس طرح امّاں ابا زندگی کی گاڑی خود کھینچتے چلے آئے کیونکہ میں بھی بعد میں اپنی فیملی سمیت کراچی میں بس گیا تھا۔

کچھ لوگ اس دنیا میں آتے ہی دکھ دیکھنے کے لیے ہیں۔ میری اماں بھی مجھے انھی لوگوں میں سے لگتی تھیں۔ لیکن عجب اسرار یہ تھا کہ اتنے دکھ، تکلیفوں، بیماریوں اور محرومیوں کے باوجود ان کی زبان پر شکوے کے بجائے ہر وقت شُکر ہی رہتا تھا۔ ماں، اماں، جیجل، اَمَڑ، انھیں کسی بھی نام سے پکارا جائے، یاد کیا جائے یا ان کا ذکر ہی کیا جائے دل بھر آتا ہے۔ دنیا کے اس بھرے میلے میں بیٹا خود کو اکیلا، کمزور، یتیم بلکہ اس سے بھی بد تر سمجھتا ہے۔ بھلے باپ کا ساتھ میّسر کیوں نہ ہو، لیکن ماں کے بچھڑ جانے کے بعد، ٹوٹ کر چور ہوجانے کا احساس لپیٹ لیتا ہے۔ کیوں کہ دعا کا دروازہ جو بند ہو چکا ہوتاہے۔

کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کلیم اللہ کی امّاں جب ان سے بچھڑ گئی تھیں اور اس کے بعد جب وہ کوہِ طور پر کائنات کے خالق سے ہم کلام ہونے پہنچے تو انھیں پہلے ہی خبردار کردیا گیا تھا کہ موسیٰ! آج کے بعد خیال سے چلنا پھرناکیوں کہ تمہارے لیے ہر لمحے دعا ئیں کرنے والی تمھاری ماں کا سایہ اب تمھارے سر پر نہیں رہا! ۔ ایک نبی، جو خالقِ کائنات کا پسندیدہ بندہ ہو، اسے بھی ماں کی التجاؤں کی اتنی ضرورت ہے کہ غیب کی ندا اسے خبردار کر رہی ہے کہ اب رحم و کرم کی زیادہ امید نہ رکھنا کیوں کہ جس کی دعاؤں کے طفیل تم چل رہے تھے، اس کی آنکھیں بند ہو چکی ہیں۔

اللہ کے اس نبی کے مقابلے میں ہم جیسا عام گنہگار انسان، آدم کی عام اولاد، جب ماں سے محروم ہوتا ہے تو اس کے لیے دنیا اور آخرت دونوں بنانا مشکل ہوجاتا ہے۔ انسان کتنا بھی بڑا کیوں نہ ہو جائے، علم و عقل میں بڑا یا دانشور اور مفکر ہی کیوں نہ بن جائے، لیکن ماں کے آگے، اپنی عمر کے آخری لمحات تک وہ بچہ ہی رہتا ہے۔ ماں کی مہانتا اور ممتا یہ ہوتی ہے کہ رات کے پچھلے پہرمیں گھر پہنچنے والے جوان بیٹے کو بھی اپنے ساتھ بٹھا کر پوچھتی ہے کہ بیٹا! کھانا کھایا ہے یا نہیں؟ بھلا ماں کے علاوہ گھر میں کسی کو کبھی یہ سوال پوچھنے کی توفیق ہوتی ہے؟ کبھی نہیں۔ ا ب تو خود کو خود کے گھر میں مانگ کر کھانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ بے شک، مائیں دنیا کی محترم ہستیاں ہیں لیکن جوان لڑکوں میں محبوباؤں کے لئے بڑی کشش ہوتی ہے۔ مجھے اگر اخلاق، پیار اور احترام کے روایتی ٹھیکیدار تھوڑی سی اجازت دیں تو میں یہ بات کروں کہ فقط مائیں فقط مائیں نہیں ہوتیں بلکہ مائیں محبوبائیں ہوتی ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •