سندھ میں تعلیم کے ساتھ مذاق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر گزرتے دن کے ساتھ وطن عزیز آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس سے پیدا ہونے والے مسائل میں گرفتار ہوتا جا رہا ہے۔ آبادی میں اضافہ اپنے ساتھ بہت سے مسائل لے کر آتا ہے کیونکہ افراد تو بڑھ جاتے ہیں مگر وسائل وہی رہتے ہیں۔ ان مسائل میں سر فہرست بیروزگاری ہے۔ اداروں اور ان میں موجود اسامیوں کی تعداد محدود ہوا کرتی ہے مگر افراد کے بڑھ جانے سے بیروزگار بڑھ جایا کرتے ہیں۔ اسی لئے ہر سیاسی جماعت کی طرف سے ہر الیکشن میں یہ نعرہ لگایا جاتا ہے کہ ہم بر سر اقتدار آکر بیروزگاری ختم کریں گے۔

اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صوبے خود مختار ہوگئے ہیں لہٰذا صوبے کے عوام کو روزگار کی فراہمی بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ اگر چہ پورے ملک میں ہی اداروں میں افراد کی بھرتی کے عمل میں کوئی خاص شفافیت نہیں پائی جاتی مگر کیا کریں اس بد قسمتی کا جو خاص صوبہ سندھ کے حصے میں آتی ہے کہ جہاں ہر دور میں ہونے والی بھرتیوں پر سوال اٹھایا گیا۔ خاص کر محکمہ تعلیم میں جس طرح گدھے گھوڑوں کی طرح من پسند، سیاسی اثر و رسوخ کے حامل اور پیسے دے کر نوکری حاصل کرنے والوں کو بھرتی کیا گیا اس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔

یہ محکمہ خوش قسمت افراد کا محکمہ تصور کیا جاتا تھا اور یہاں نوکری شاہی نوکری کہلاتی تھی کہ جہاں گھر بیٹھے تنخواہ ملتی تھی۔ ہر سال دو ماہ دس دن کی تعطیلات سمیت ہر موسمی و سیاسی خرابی کے باعث اسکولوں کی چھٹیاں الگ ہوتی تھیں۔ یعنی پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں۔ مگر ایک وقت آیا کہ جب یہ سب عیاشیاں ختم ہو گئیں۔ اور محکمہ میں بہت سے ایسے کام ہوئے جو قابل ستائش ہیں مثال کے طور پر گھوسٹ ملازمین کو برطرف یا حاضری کا پابند کیا گیا اور حاضری یقینی بنانے کے لئے بائیو میٹرک حاضری متعارف کروائی گئی جس کی وجہ سے خاصی بہتری دیکھنے میں آئی۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایک محکمہ جو صحیح سمت میں گامزن تھا۔ اس میں اساتذہ اور دیگر ملازمین کی بھرتیوں کے عمل کو نہ ماضی میں شفاف رکھا گیا اور نہ تا حال اس میں بہتری کے آثار نظر آئے ہیں۔

ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی محکمہ کی جانب سے اساتذہ کی خالی اسامیوں پر بھرتی کا عمل شروع کیا گیا بظاہر اس عمل کو شفاف دکھانے کے لئے کچھ اقدامات کیے گئے مگر رسی جل گئی پر بل نہ گیا کے مصداق جہاں موقع ملا وہاں ہاتھ کی صفائی دکھانے کی بھرپور کوشش کی گئی۔

ہوا کچھ یوں کہ محکمہ تعلیم سندھ کی جانب سے ای۔ سی۔ ٹی (ارلی چائلد ہوڈ ٹیچر) اور جے۔ ایی۔ ایس۔ ٹی۔ (جونئیر ایلیمینٹری اسکول ٹیچر) کی خالی اسامیوں پر بھرتی کے لئے مورخہ 20 مارچ سنہ 2018 کو اخبارات میں اشتہار دیا گیا۔ جس میں ایک تھرڈ پارٹی آئی۔ بی۔ اے سکھر کو امیدواروں سے امتحان لینے کی ذمہ داری سونپی گئی جس نے 11، 18 اور 25 نومبر 2018 کو امتحانات کا انعقاد کیا۔ محکمے کی طرف سے امتحان میں کامیابی کے لئے 100 میں سے 60 نمبر لینا ضروری قرار پایا۔ آئی۔ بی۔ اے سکھر کی جانب سے امتحانی نتائج انتہائی افسوس ناک تھے۔ پورے صوبہ سندھ سے کامیابی کا تناسب 18 فیصد سے زائد نہ تھا جس کی وجہ سے بہت سی اسامیوں نے خالی رہ جانا تھا۔

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر وزیر تعلیم سندھ نے ایک ہنگامی اجلاس بلایا اور اس میں یہ فیصلہ کیا کہ پاسنگ مارکس 60 سے کم کر کے 50 کردیے جائیں تا کہ امیدواروں کی تعداد میں اضافہ ہو سکے۔ اس سے بڑھ کر اس قوم کے ساتھ اور کیا مذاق ہو سکتا ہے کہ جس محکمہ میں قابل لوگوں کی اشد ضرورت ہو وہاں صرف بھرتی پوری کرنے کے لئے پاسنگ مارکس کو کم کردیا جائے۔ دوسرے ترقی یافتہ اور تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک کا اگر جائزہ لیا جائے تو وہاں ایک بات مشترک نظر آئے گی کہ وہ تعلیم کو خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ ان کا تعلیمی بجٹ زیادہ ہوتا ہے۔ وہاں اساتذہ کے لئے زیادہ اور خصوصی تعلیم ضروری ہوتی ہے۔ مگر افسوس صد افسوس کہ اس قوم کو قابل اساتذہ اور بہتر تعلیم سے دور رکھنے کے لئے ایک اور شب خون مارا گیا۔

بات صرف یہاں ختم نہیں ہو گئی بلکہ محکمے نے ایک اور کارنامہ سر انجام دیا وہ یہ کہ بھرتی صرف تعلقہ وار بنیادوں پر کی گئی یعنی امیدواروں کو بھرتی صرف ان کے تعلقہ میں دستیاب اسامی پر کیا گیا۔ اگر ایک امیدوار نے 90 فیصد نمبر بھی حاصل کیے ہیں اور اس کے تعلقہ میں اسامی نہیں ہے تو وہ خود کو نا اہل سمجھے اور اگر اسامی ہے تو 50 فیصد والا بھی اہل ہے۔ اس سے بڑھ کر تعلیم کے ساتھ اور کیا مذاق ہو سکتا ہے؟

اب صورتحال یہ ہے کہ وہ امیدوار جو اچھے نمبر لے کر کامیاب قرار دیے گئے مگر ان کو تعلقہ میں اسامی موجود نہ ہونے کے باعث نظر انداز کیا گیا اور ان کے ضلع سے کم نمبر لینے والوں کو آفر لیٹر جاری کیے جارہے ہیں سراپا احتجاج ہیں۔ سوشل میڈیا پر گروپس بن گئے ہیں کہیں احتجاج اور کہیں عدالت میں کیس دائر کرنے کی کوششیں ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر تعلقہ وار بھرتی ہی پالیسی کا حصہ تھی تو ان امیدواروں سے امتحانی فیس کیوں لی گئی ان سے ٹیسٹ کیوں لیا گیا؟

2017 میں محکمہ تعلیم سندھ کی ایک پالیسی جاری ہوئی کہ تعلقہ وار بھرتی کی جائے تا کہ امیدواروں کی جانب سے تعیناتی کے بعد تبادلوں کی درخواستوں سے بچا جا سکے اور اساتذہ کو دور سفر نہ کرنا پڑے۔ تا کہ وہ اسکول وقت پر حاضر ہو سکیں۔ پالیسی کا یہ نکتہ یقینی طور پر قابل ستائش ہے کہ مگر کیا ہی اچھا ہوتا کہ پالیسی بنانے سے پہلے جو اساتذہ اپنا تعلقہ چھوڑ کر کسی اور تعلقہ میں نوکری کررہے ہیں انہیں واپس اپنے تعلقہ میں بھیجا جاتا۔ تا کہ ہر تعلقہ میں صحیح تعداد مل سکتی اور اس کے مطابق تعیناتی کی جاتی۔ اگر تمام اساتذہ کے ڈومیسائل، پی۔ آر۔ سی اور ان کی تعیناتی کے تعلقے دیکھے جائیں تو ایک انکشاف یہ بھی ہو گا کہ 60 فیصد سے زائد اساتذہ دوسرے تعلقوں میں اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ ایک اور ستم محکمہ کی جانب سے یہ کیا گیا کہ تعلقہ میں اسامیاں موجود ہونے کے باوجود انہیں شایع نہیں کیا گیا۔ جس سے امیدواروں میں شکوک و شبہات نے زیادہ سر اٹھایا کہ کییں اس کہ وجہ یہ تو نہیں کہ ان اسامیوں پر من پسند یا اثر و رسوخ اور پیسے دے کر نوکری لینے والے حضرات کو بھرتی کیا جانا ہے۔ اگر موجودہ وزیر تعلیم سندھ واقعی دیانتداری سے اپنے فرائض سر انجام دینا چاہتے ہیں اور صوبے میں تعلیم کی بہتری کے خواہاں ہیں تو فوری طور پر ان تحفظات کا نوٹس لیں جن کا شکار صوبے کے نوجوان ہو رہے ہیں۔ یاد رکھیں کہ قابل اساتذہ کی مدد سے ہی آیندہ نسلوں کی بہتر تعلیم و تربیت ممکن ہے، وگرنہ تو من پسند اور اثر و رسوخ والوں سے دیگر محکمے بھرے پڑے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •