کپتان کی دودھ اور شہد کی نہریں کہاں بہہ رہی ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جن کو شک تھا کہ حقیقی ”تبدیلی“ نہیں آئی ہے، ان کی تسلی کے لئے تحریک انصاف کی حکومت نے وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں پٹرول فی لٹر 108 روپے 31 پیسے، جب کہ ڈیزل فی لٹر 122 روپے 31 پیسے کر دیا ہے۔ یوں پٹرول کی فی لٹر قیمت میں ایک جھٹکے میں 9 روپے 14 پیسے، جب کہ ڈیزل فی لٹر میں 4 روپے 89 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح مٹی کے تیل میں فی لٹر 7 روپے 46 پیسے، لائٹ ڈیزل فی لٹر قیمت میں 6 روپے 40 پیسے کی گولی عوام کو دی گئی ہے۔

حکومت کی طرف سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اتنے بڑے اضافہ کے بعد ملک میں مہنگائی کا سیلاب آ چکا ہے، ادھر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں یہ اضافہ اس وقت کیا گیا، جب رمضان کا مقدس میہنا آ چکا ہے۔ اس بات کو حکومت سمیت سارے ادارے اور لوگ بھی جانتے ہیں کہ ماہ رمضان مٰیں تو ذخیرہ اندوز پہلے ہی اشیائے خور و نوش کی قیمتوں کو آگ لگا دیتے ہیں، اس بار تو ان کی چاندی یوں ہو گئی ہے کہ حکومت نے ان کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا کر ایک جواز فراہم کر دیا ہے کہ اپنی من مانی کریں۔ اس صورت احوال میں جو لوگ قیمتوں میں بے جا اضافہ پر سوال اٹھانے کی کوشش کریں گے، ان کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اتنے بڑے اضافے کا جواز پیش کر کے لاجواب کر دیا جائے گا، اور غریب آدمی سے لے کر سفید پوش طبقہ کا جینا حرام کر دیا جائے گا۔ مطلب ان سے جینے کا حق چھین لیاجائے گا۔ پٹرولیم مصنوعات پر حکومت کی طرف سے سب اچھا کا راگ الاپنے کا جو ڈرام کیا جا رہا ہے، اس سے لوگ مطمئن نہیں ہوئے۔

عوام کو جس ”تبدیلی“ کا، تحریک انصاف کے جلسوں میں بڑے بڑے بلند و بانگ دعوے کر کے بتایا گیا تھا کہ وہ حکومت میں آتے ہی دودھ اور شہد کی نہریں بہا دیں گے، وہ ان کو دیکھنے کو نہیں مل رہی ہیں۔ تبدیلی کی دعوے دار حکومت اس بات کو تسلیم کرے یا کان اور آنکھیں بند کر لے لیکن یہ دیوار پر لکھا سچ سب کو نظر آ رہا ہے، کہ جوں جوں وقت گزر رہا ہے عوام میں بے چینی کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے اور حکومت کے فیصلوں پر عدم اعتماد کیا جا رہا ہے۔

پٹرول کی قیمتوں کے اثرات اپنی جگہ پر ہوں گے اور پورے ملک کے شہری متاثر ہوں گے لیکن ڈیزل کی حکومت کی طرف سے فی لٹر قیمت 122 روپے 31 پیسے کرنے کے بعد زراعت اور اس کے ساتھ وابستہ کسانوں پر ایک نئی قیامت توڑ دی گئی ہے۔ کسان ابھی موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے گندم کی فصل جو کہ بارشوں اور ژالہ باری ہونے کی وجہ سے تباہ کروا چکے ہیں، اس کے صدمے سے نہیں نکلے ہیں، ان کی 6 ماہ کی محنت اور سرمایہ ڈوبنے کے ساتھ ان کے بچوں کی سال کی روزی چلی گئی ہے۔ گندم صرف کسان کی نہیں بلکہ اس سے جڑے غریب خاندانوں کی سال کی روزی ہوتی ہے، یہاں تک کے جانوروں کے لئے بھی گندم کی فصل بھوسا کی صورت میں اہم ہوتی ہے۔

ادھر کسان نے کپاس، تل سمیت دیگر اگلی فصلیں کاشت کرنی ہیں، ان کے لئے کسانوں کو پیسہ چاہیے، پچھلی گندم کی فصل تو اس کے ہاتھ نہیں آ رہی۔ کسان دُہرے عذاب کا شکارہیں، ادھر حکومت نے ابھی تک کسانوں کو گندم تباہ ہونے کے بعد کوئی امداد نہیں دی۔ کسان کے ہاتھ سے اگلی فصلوں کی کاشت کے لئے وقت تیزی کے ساتھ نکل رہا ہے، لیکن حکومت ابھی تک خاموش ہے۔ مطلب یوں لگ رہا ہے کہ حکومت کے لئے مسائل میں گھرے کسان کے لئے وقت ہی نہیں ہے۔

ادھر کسان کے لئے پارلیمنٹ میں آواز اٹھانے والے ارکان کی تعداد یوں لگ رہاہے کہ ختم ہو گئی ہےم و گرنہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے جاری اجلاسوں میں اس پر بات کی جاتی کہ کسان کو اس مشکل حالات میں حکومت کی مدد کی ضرورت ہے اور حکومت کو مجبور کیا جاتا کہ وہ پہلے کسان کے لئے بارشوں کی وجہ سے تباہ ہونے والی گندم کے معاوضے کا اعلان کرے۔ حکومت کو اس بات کی بھی پروا نہیں، کہ کسان اگلی فصل کیسے کاشت کرے گا۔ اس بارے میں کوئی لمبی بات لکھنے کی ضرورت نہیں ہے، آپ اچھی طرح کسان اور اس کے ساتھ جڑے غریب خاندانوں کی مشکلات کو سمجھ سکتے ہیں، جب اگلی فصل وقت پر کاشت نہیں کر سکیں گے تو پیدوار پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

ادھر اپنے تئیں وزیر اعظم عمران خان نے اپنی کابینہ میں ”تبدیلی“ خاص طور پر وزیر خزانہ اسد عمر کو نکالنے اور ان کی جگہ حفیظ شیخ کو لانے کی صورت میں خوش خبری دی تھی لیکن معاملہ سلجھنے کی بجائے الجھ گیا ہے۔ خیال تھا کہ حفیظ شیخ کوئی ان ہونی کر کے پاکستانی قوم کو ان دودھ اور شہد کی نہروں پر لے جائیں گے، جن کے بارے میں کپتان اپنے جلسوں میں بتایا کرتے تھے، وہ خیال تو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک دم اضافے کے بعد دور ہو گیا ہے۔

اب تو حفیظ شیخ کی کاری گری کے بعد صورت احوال یہ ہو چکی ہے، عوام کو ریلیف خاک ملنا تھا، اُلٹا بوجھ ڈالنے کا سلسلہ تیزی پکڑ گیا ہے۔ اسد عمر کو جب وزیر اعظم عمران خان نے اپنی کابینہ سے نکالا اور حفیظ شیخ کو لایا گیاتو راقم الحروف کو چاچا بخشو یاد آگیا جس کے بیٹے سے بدقسمتی سے ایک شخص قتل ہوگیا تھا۔ ویسے ہی ہوا جیسا کہ سب کے ساتھ ہوتا ہے، چاچا کا بیٹا تھانے سے ہوتا ہوا جیل جا پہنچا۔ ادھرعدالت میں پیشیاں چلتی رہیں، چاچا وکیلوں کے پاس جاتا رہا، ان کی فیسیوں اور مشوروں پر امید و نومید ہوتا رہا۔

آخر وہ وقت آن پہنچا کہ اس کو کسی ایسے وکیل کی ضرورت تھی جو کہ آخری بحث کی پیشی پر اس کے بیٹے کی زندگی بچانے میں اپنے ایسے دلائل دیتا، کہ جج اس کے بیٹے کو رہائی دے دیتا۔ چاچا کے ایک گاؤں کا وکیل بھی کچہری میں تھا، وہ بھی چاچا کے سارے کیس کو جانتا تھا۔ اور اس نے چاچا کو اس دلیل کے ساتھ آفر بھی دی ہے کہ چاچا بخشو ایک طرف تمہارا بیٹا جیل میں ہے اور دوسری طرف تیری جائیداد بک رہی ہے، دُہرا نقصان ہو رہا ہے۔ میں بھی قانون کو سمجھتا ہوں، وکیل ہوں۔ اگر تومجھے پانچ دس ہزار دے تو میں وہی فیصلہ اپنی بحث کی بدولت کروا دوں گا، جو کہ دوسرے وکیل تم سے دو لاکھ روپے لے کر کروائیں گے۔

چاچا کی تسلی نہیں ہورہی تھی، وہ پانچ ہزار وکیل کی بجائے دو لاکھ والے وکیل سے اپنے بیٹھے کے لئے بحث کروانے پر بضد تھا، پیشی آ گئی، چاچا بخشو لاکھوں کی فیس دے کر عدالت پہنچ گیا، بحث ہوئی، چاچا بخشو کے بیٹے کو عدالت میں سزائے موت ہو گئی، چاچا بخشو روتا دھوتا کچہری سے نکل رہا تھا کہ آگے وہی گاؤں والا وکیل آ گیا، اس کو پتا تو چل چکا تھا، کہ چاچا بخشو کے بیٹے کو سزا ہو گئی ہے لیکن اس کے با وجود اس نے پوچھا چاچا بخشو سناؤ بیٹے کی بحث کی پیشی تھی، اس کا کیا بنا؟

چاچا نے روتے ہوئے بتایا، کہ وکیل صاحب، بیٹا کو عدالت نے سزائے موت دے دی ہے، تو وکیل نے کہا چاچا بخشو یہی کام تو میں نے آپ کو پانچ ہزار میں کروانے کی آفر دی تھی لیکن تم نے میری بات نہیں مانی تھی۔ اب تو بیٹا کو سزائے موت بھی کروا آیا اور ساتھ جمع پونجی جو کہ دوسرے بچوں کے کام آنی تھی، وہ بھی لاکھوں کی فیس کی صورت میں وکیلوں کو دے آیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ عمران خان نے اپنی کابینہ کے وزیر خزانہ اسد عمر جو کہ پاکستانی قوم کوگاؤں کے وکیل کی طرح پانچ ہزار میں پڑ رہاتھا، اس کو نکال کر اور اس کے مشوروں کو رد کر کے حفیظ شیخ کو جو ملک کو معاشی دلدل سے نکالنے کا ٹاسک دیا ہے، وہ تو ایک طرف قوم کو چاچا بخشو کی طرح لاکھوں میں پڑے گا اور ساتھ الٹا پٹرول اور ڈیزل سمیت دیگر سخت فیصلوں سے عوام کو اسی طرح لٹکا کے رکھے گا، جس طرح چاچا بخشو کے بیٹے کو سزاملی تھی۔ آخر میں بہاول پور سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر انجینئر بلیغ الرحمان کی اہلیہ اور ان کے بیٹے کی ایک کار حادثے میں جان بحق ہونے پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہیں، اور دعا گو ہیں کہ پروردگار ان کوصبر جمیل عطا کرے اور ان کی اہلیہ اور بیٹے کے درجات بلند کرے۔ آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •