سائنس اور روحانیات کو معاف کر دیا جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈین سائنس کانگریس ایسوسی ایشن ایک صدی قبل وجود میں آئی تھی تب سے اب تک اس کے ممبران کی تعداد تیس ہزار سائنسدانوں سے بڑھ گئی ہے۔ اپنے وجود میں آنے کے بعد سے کانگریس اپنا سالانہ اجلاس کا بلا تعطل انعقاد کرتی آئی ہے اور اس سال جنوری میں منعقد ہوئے 106 ویں اجلاس میں بھی دنیا بھر سے سائنسدانوں نے شرکت کی۔

اس سال کے اجلاس میں بچوں کے لئے بھی ایک سیشن کا انتظام کیا گیا تھا جس میں کچھ ہندوستانی سائنسدانوں کی طرف سے نئی نسل کو ایسی باتیں بھی بتا دی گئیں جو سائنسی اعتبار سے نا قابل فہم تھیں۔ ا ن باتوں میں ٹسٹ ٹیوب بے بیز سے لے کر نیوٹن اور آئین سٹائین کے نظریات پر حقائق کے نام پر غیر منطقی اور عقل کے دائرے سے باہرگفتگو کی گئی۔ ایک سائنسدان نے نیوٹن اور آئین سٹائن کے نظریات کو بہت جلد رد کرنے اور ایک اپنا نیا ’ہرش وردان‘ اور ’نریندر مودی‘ کے نام سے نظریات دینے کا اعلان بھی کر ڈالا۔

ہندوستان کی انڈین سائنس کانگریس میں سائنسی حقائق میں مذہبی عقائد کی ملاوٹ کا میلان مودی سرکار کے بر سر اقتدار آنے کے بعد منعقد ہونے والے 2014ء کے کانگریس سے ہی شروع ہوا تھا جب ایک اساطیری کردار گنیش کو پلاسٹک سرجری سے جوڑ کر ہندو مذہبی میتھالوجی سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے بعد 2015 ء میں منعقد ہونے والے انڈین سائنس کانگریس میں بھی جہازوں کے تصور اور موجودگی کا ہزاروں سال پہلے سے موجود ہونے کا اساطیر اور مذہبی کہانیوں کی بنیاد پردعویٰ بھی دنیا کو چونکا دینے کے کافی تھا جس میں مہا بھارت کی کہانی میں لنکا ڈھانے کے واقعے میں ان جہازوں کا استعمال ہی نہیں بلکہ آج کے سری لنکا نام کے ملک میں ائیرپورٹ کی بھی ہزاروں سال پہلے سے موجود گی کو بطور ثبوت پیش کیا گیا۔ بی جے پی کے حکومت میں آنے کے بعد وقتاً فوقتاً ایسی باتیں اور خیالات سامنے آتے رہے جن کا سائنس سے کوئی تعلق نہ ہونے کے باوجود سائنس سے نتھی کرنے کو کوشش کی گئی جس کے پیچھے حکومت کا بظاہر ہاتھ دکھائی تو نہیں دیتا تھا مگر سائنسی حلقوں کے شکوک و شبہات حکمران جماعت پر ہی رہے۔

اس بار ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارتی پنجاب کی ایک نجی یونیورسٹی میں منعقد ہونے والے 106 ویں کانگریس کے اختتامی اجلاس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور ایسی کوئی بات بھی نہیں کی جو ان کے مذہبی اور سیاسی نظریات کی بظاہر عکاسی کرتی ہو۔ مگر اس کے باوجود جو کچھ یہاں بچوں کے لئے مخصوص سیشن میں کہا گیا تھا وہ سنجیدہ سائنسی حلقوں کے نزدیک سرکاری شہ کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد انڈین سائنس کانگریس میں فروغ پانے والی ایسی غیر سائنسی فکر نے ہندوستان کے سائنسی حلقوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا جس کی وجہ سے کانگریس میں ہونے والی ان غیر سائنسی کاروئیوں کے خلاف مظاہرے ہوئے اور سرکار سے سائنس اور مذہب دونوں سے دور رہنے کا مطالبہ سامنے آیا۔

ڈارون کے نظریہ ارتقاء کے منظر عام پر آنے کے بعد سے ریاستہائے متحدہ امریکہ سمیت دنیا بھر میں سائنس اور مذہب کے تعلق کے بارے میں ایک طویل بحث جاری ہے۔ امریکہ میں سکولوں میں نظریہ ارتقاء کو پڑھانے کے خلاف مذہبی حلقوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جن کا کہنا تھا کہ نظریہ ارتقاء امریکی مذہبی عقائد کے خلاف ہے اس لئے اسے سکولوں میں نہ پڑھایا جائے۔ نظریہ ارتقا کے مخالفین کا مطالبہ تھا کہ اگر نظریہ ارتقاء کا سکولوں میں پڑھانا اتنا ہی ناگزیر ہے تو پھر تخلیقی مفروضے کو بھی پڑھایا جائے تاکہ بچوں کو دونوں نظریات سے یکساں طور پر آگاہی حاصل ہو۔

 دسمبر 2005 کو ڈویر ایریا ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج جون ای جونز سوئم نے تاریخی فیصلہ دے کر اس بحث کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیا۔ جج جونز نے کہا کہ تخلیقی مفروضے کو سائنس اس لئے نہیں مانا جا سکتا ہے کہ اس پرآج تک کوئی تحقیقی مقالہ ایسا نہیں لکھا گیا جس پر دوسرے سائنسدانوں نے تنقید کی ہو یا سائنسی شہادتوں کی بنیاد پر اتفاق کیا ہو۔ ڈویر اریا کے سکولوں کو تخلیقی مفروضے کو بطور سائنس نہ پڑھانے کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا کہ اگر تخلیقی نظرئے کو پڑھانا بھی ہو تو اس کو سائنس ہر گز نہ کہا جائے۔ جج جون کے اس فیصلے کو فیڈرل کورٹ نے بھی برحق قرار دیا جس کے بعد یہ بحث اب امریکہ میں سمٹ چکی ہے۔

سائنس اورمذہب کی بحث بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی ان کا تصور پرانا ہے۔ قدیم زمانے سے ہی انسانی سماج میں ماورائے عقل اشیا اور مظاہر کی پوجا کی جاتی رہی یا ان کا خوف غالب رہا۔ جیسے جیسے انسانی مشاہدات اور تجربات سے مظاہر قدرت کی سمجھ آتی گئی وہ سائنس کی نئی دریافتیں بنتی گئیں۔ مگر اب بھی انسان لاشعوری طور پر اپنے ماضی کے عقائد کی قید میں ہونے کی وجہ سے ان مظاہر کے خوف اور تقدیس سے باہر نہیں آسکا۔ سورج بطور ستارہ سمجھ میں آنے کے باوجود آج بھی کئی سماجوں میں قابل تقدیس و پرسش ہے۔

سائنس کا ظہور انسانی مشاہدات اور تجربات کے نتیجے میں ہوا۔ جب پہلی بار زمین کے سورج کے گرد چکر لگانے کا دعویٰ کیا گیا تو یہ اس دور کے مذہبی عقائد کے لئے ایک کھلا چیلنج تھا جس کو مقتدرہ نے یکسر مسترد کردیا۔ سائنس نے ہمیشہ مذہبی عقائد کو چیلنج کیا اس لئے کم و بیش سارے قدمائے سائنس مصلوب و معتوب ہوئے۔ زمین پر حکومت کرنے والوں پر ہمیشہ آسمانی دیوتاؤں کا آشیرباد اور خداؤں کا سایہ رہا اس لئے وہ ظل سبحانی، مستنصر باللہ، آقا اور خدا کہلاتے تھے جن کی اطاعت عامۃالناس پر واجب تھی۔ سائنس کے مشاہدات اور تجربات کی روشنی میں آسمانی دیوتاؤں اور خداؤں کے وجود سے ہی انکار ان کی تقدیس کی بنیاد پر حکومت کا استحقاق کا دعویٰ کرنے ولوں کے لئے قابل قبول نہیں رہا۔

روحانیات اور سائنس کا تعلق بھی اتنا ہی قدیم ہونے کے ساتھ ساتھ متصادم بھی رہا۔ مثلاً چھ سو سال قبل مسیح پیدا ہونے والے فیثا غورث کو ہم اس کی سائنسی تخلیقات کی وجہ سے جانتے ہیں مگر ا س کے باطنیت کی فکر سے بیشتر لوگ نا اشنا رہے۔ فیثا غورث اپنے شاگردوں کو باطنیت کا درس بھی دیا کرتا تھا جس میں وہ علم کے باطنی معنی سمجھایا کرتا تھا جو روح اور انسانی باطن سے سے متعلق ہوتی تھیں۔ فیثا غورث کا یہ علم اس دور کے مقبول مذہبی عقائد رکھنے والوں کے نزدیک متنازع اور معترضہ ہونے کی وجہ سے معتوب ٹھہرا۔

 اس کے سو سال بعد افلاطون نے اس کے باطنیت کے علم کو بطور روحانیات آگے بڑھایا مگر ہم افلاطون کو بھی اس کی روحانیات کی وجہ سے نہیں جانتے کیونکہ اس نے بھی اپنے روحانی فکر کو اپنا ایک نجی معاملہ رکھا ہوا تھا جس کا عامۃالناس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ہم کبھی کبھار تصوف کے تصور نو افلاطونیت کو افلاطون کے افکار سے خلط ملط کرتے ہیں حالانکہ فلاطینوس زمانہ افلاطون سے دو اڑھائی صدی بعد پیدا ہوا تھا۔

سائنس مادی شواہد اور شہادتوں کا علم ہے جس کو تشکیک کی کسوٹی سے گزار کر ہی علم کے درجے پر فائز کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ مذہب سراپا تیقن ہے جس کا تشکیک کی کسوٹی پر پرکھنا ارتداد کے مترادف ہے۔ روحانیت ہر فرد کا ذاتی مشاہدہ ہے جس کا دوسرے فرد پر یکساں اطلاق نہیں ہوتا اور نہ ہی اس مشاہدے اور تجربے میں کسی دوسرے کو شریک کرنا ممکن ہے۔ اگر اہل سائنس و فلسفہ کے لئے کسی دوسرے شخص کو اپنے روحانی مشاہدے میں شریک کرنا ممکن ہوتا یا لوگوں کو سمجھایا جا سکتا تو فیثا غورث اور افلاطون سے بہتر کون ایسا کرسکتا تھا لیکن انھوں نے بھی اپنے روحانی مشاہدے کو اپنی ذات تک محدود اور اپنی سائنسی تفکر سے بہت دور رکھا۔

ہندوستان میں بی جے پی سرکار کا سائنسی تخلیقات پر مذہب کے چھاپ کی طرح پاکستان کے وزیر اعظم کا روحانیت کو سپر سائنس قرار دے کر اس کی سرپرستی کا اعلان بھی سائنس اور روحانیت دونوں میں سرکاری مداخلت کے مترادف ہے۔ حکومت کا کام لوگوں کے مذہبی اور روحانی معاملات میں دخل اندازی نہیں بلکہ لوگوں کے لئے اپنے مذہبی اعتقادات اور روحانی تجربات کی آزادی کو یقینی بنانا ہے۔ سائنس کی ترقی اور اس کے فروغ کے لئے سرکاری سرپرستی لائق تحسین اور احسن عمل ہے لیکن اس میں کسی قسم کی نظریاتی یا فکری اختلاط خدمت نہیں بلکہ رکاوٹ ثابت ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 202 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan