انگریزوں نے پنجاب پر کیسے قبضہ کیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اب پنجاب کی باگ لاہور دربار کے ہاتھ میں نہ رہی۔ خالصہ فوج کے ’پنچ‘ اب پنجاب کے اصل حاکم بن چکے تھے۔ جبکہ انگریزوں کے ایجنٹ لال سنگھ اور تیج سنگھ خالصہ فوج کو تباہ کروا کر اپنی مرضی کا راج کرنا چاہتے تھے۔

جب ہیرا سنگھ ڈوگرا وزیر بنا تو اس نے خالصہ فوج کو بھڑکایا کہ وہ انگریزوں پر حملہ کر دے۔ اس سے انگریزوں میں ڈر پیدا ہو گیا۔ وہ پہلے ہی پنجاب کے حاکموں کی کمزوری سے یہ امید کرنے لگے تھے کہ ایک دن لاہور کی سلطنت خود بخود ہی ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی۔ اب ذمہ دار انگریزی افسر یہ محسوس کرنے لگے کہ پنجاب پر جلد سے جلد قبضہ کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ ستلج پار کر کے حملہ کرنے کے بجائے انگریز خاموشی سے اپنی طاقت بڑھانے لگے۔ دوسری جانب کابل میں انگریزی ایجنٹ نے شاہ شجاع کو راضی کیا۔ شاہ شجاع پشاور کو کابل کی سلطنت میں ضم کرنا چاہتا تھا۔ اس نے لاہور دربار سے کیے گئے تمام معاہدے ختم کرنے کا اعلان کیا۔

مہارانی جند کور اور اس کے ہم خیال سردار شام سنگھ اٹاری جنگ کے حامی نہیں تھے۔ وزیر لال سنگھ نے 1845 کے نومبر میں، رنجیت سنگھ کی سمادھی پر ایک بیٹھک بلائی جس میں انگریزوں کے ساتھ جنگ سے متعلق غور و خوض ہوا۔ مہارانی، شام سنگھ اٹاری اور دوسرے سرداروں کی رائے تھی کہ پنجاب کے اندرونی غیر مستحکم حالات میں انگریزوں کے خلاف جنگ ابھی نہ چھیڑی جائی۔ وزیر لال سنگھ اور تیج سنگھ کے بڑھکائے ہوئے فوجی پنچوں نے جنگ کو ترجیح دی۔ اس بیٹھک میں وزیر لال سنگھ اور کمانڈر انچیف تیج سنگھ کو سارے اختیارات سونپ دیے گئے۔

17 نومبر کو انگریزوں کے ساتھ جنگ کا اعلان کیا گیا:

• انگریزی فوج ستلج کی طرف بڑھ رہی ہے اور اس نے پنجاب پر چڑھائی کرنے کا پکا ارادہ کر لیا ہے۔

• فیروزپور انگریزی بینک میں راجا سچیت سنگھ کا 18 لاکھ روپیہ رکھا ہے جو لاہور دربار کی طرف سے کئی بار مطالبہ کرنے پر بھی ادا نہیں کیا گیا۔

• سورگ واسی راجا سچیت سنگھ کی جائیداد پر لاہور دربار کا حق ہے۔

• ستلج کے مغربی کنارے (بفر زون) پر آباد گاؤں، جو کہ لاہور دربار کے تحت ہیں، انگریزی سرکار نے وہاں سکھ سپاہیوں کو آنے جانے سے روک دیا ہے۔

اس اعلان کے بعد سکھ زور و شور کے ساتھ جنگ کی تیاری کرنے لگے۔ انھوں نے یہ ٹھان لیا تھا کہ دلی کو فتح کر کے لوٹتے ہوئے کلکتے جا کر دم لیں گے۔ انھیں اپنی جیت سامنے کھڑی مسکراتی نظر آنے لگی۔ اسی جوش و خروش میں 30 ہزار فوج ستلج کی طرف بڑھی۔

11 دسمبر 1845 کو خالصہ فوج نے ستلج پار کر کے، فتح گڑھ کے علاقے میں مورچہ بندی کر لی۔

خالصہ فوج کے دریا پار کرنے کی خبر لارڈ ہارڈنگ کو لدھیانہ میں 12 دسمبر کو ملی۔

سکھوں کی طرف سے دریا پار کرنے کو صلح شکنی اور کھلی دشمنی قرار دے کر اگلے دن 13 دسمبر کو جنرل لارڈ ہارڈنگ نے جنگ کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس اعلان میں لاہور دربار پر 1809 کا دوستی کا معاہدہ توڑنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ خالصہ فوج ستلج پار کر کے انگریزی علاقوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔

خالصہ فوج دو گروہوں میں تقسیم ہو کر، بیک وقت فیروزپور اور لدھیانہ چھاؤنیوں پر حملہ کرنا چاہتی تھی لیکن لال سنگھ نے فوج کو روک دیا۔ 18 دسمبر کو فیروزپور سے 32 کلومیٹر کے فاصلے پر مدکی کے علاقے میں پہلی لڑائی ہوئی۔ لال سنگھ اپنی فوج کو دھوکہ دے کر میدان سے بھاگ گیا۔ سکھ فوج اپنے کمانڈر کے بغیر ہی حوصلے کے ساتھ لڑی۔ آدھی رات تک لڑائی چلتی رہی۔ سکھ فوجی 17 توپیں ہار کر پیچھے ہٹ گئے جبکہ اس جنگ میں برٹش آرمی کا بھاری جانی نقصان ہوا۔

اس لڑائی میں یہ ثابت ہوا کہ سکھ ان سب فوجوں میں سے تگڑے سپاہی ہیں، جن سے ہندوستانی انگریزی فوج کا اب تک پالا پڑا تھا۔ چنانچہ انگریزی فوج میں یہ اعلان کیا گیا کہ اب ہمیں کم از کم ایک اور سخت لڑائی کا سامنا کرنا پڑے  گا۔ انھیں لال سنگھ اور تیج سنگھ کی قوم سے غداری کا یقین تھا۔ کیونکہ ان کی جنگ کے دوران خط و کتابت چل رہی تھی۔

اگلی لڑائی 21 دسمبر کو فیروزپور سے 16 کلومیٹر دور فیروز شاہ (پھیرو شہر) کے مقام پر ہوئی۔ یہ لڑائی انگریزوں کے لیے، ہندوستان بھر میں تب تک لڑی جانے والی جنگوں میں سے سب سے بھیانک جنگ تھی۔ اس جنگ کے دوران بھاری نقصان ہونے پر انگریزی فوج میں ہتھیار ڈال دینے سے متعلق صلاح مشورے شروع ہو گئے، لیکن لال سنگھ اور تیج سنگھ پھر انگریزوں کی مدد کو آئے۔ لال سنگھ رات میں ہی جبکہ تیج سنگھ اگلی صبح 22 دسمبر کو سکھ فوج کو چھوڑ گیا۔ اس سے انگریز ہار کو جیت میں بدلنے کے قابل ہو گئے۔ فیروز شاہ کے لڑائی کے بعد مار دھاڑ عارضی طور پر بند ہو گئی۔ انگریز دلی سے توپوں اور مزید فوجی کمک کے آنے کا انتظار کرنے لگے۔

31 دسمبر 1845 کو گورنر جنرل لارڈ ہارڈنگ نے اعلان کیا جس کے تحت ہندوستان کے اُن تمام باشندوں پر زور دِیا گیا جنہیں حکومت لاہور کی ملازمت میں لیا گیا تھا کہ وہ فوری طور پر اپنی ملازمت ترک کرکے خود کو گورنر جنرل کے زیر احکامات لے آئیں۔ اُنہیں حکم دیا گیا کہ وہ انگریزوں کی جانب سے دریائے ستلج کے کنارے کی طرف آجائیں اور برطانوی حکام کے سامنے حاضر ہو جائیں۔ اگر وہ حکم کی بجا آوری میں ناکام رہے تو اُنہیں برطانوی پناہ کے تمام حقوق سے دستبردار سمجھا جائے گا اور اُن کے ساتھ اپنے ملک کے غداروں اور حکومت برطانیہ کے دشمنوں جیسا سلوک کیا جائے گا۔

21 جنوری 1846 کو رنجور سنگھ مجیٹھیا کی کمان میں بدووال کے مقام پر لڑائی ہوئی۔ جس میں انگریزوں کو شکست کا سامنا ہوا۔ 27 جنوری کو ستلج کے کنارے علی وال کے مقام پر رنجور سنگھ مجیٹھیا کی کمان میں لڑائی ہوئی۔ اِس جنگ میں سکھوں کو شکست ہوئی۔ انہی دنوں میں لاہور دربار نے جموں سے گلاب سنگھ ڈوگرا کو بلایا۔ 27 جنوری کو وہ 3 ہزار ڈوگرا فوج کے ساتھ لاہور پہنچا۔ اسے پنجاب کا وزیر بنا دیا گیا۔ پھر وہ سبھراواں پہنچا اور ہاری ہوئی خالصہ فوج کو ایک طاقتور ہمسائے کے ساتھ جنگ شروع کرنے پر بھلا کہا۔ پھر انگریزوں کے ساتھ سودے بازی شروع کر دی۔

سکھ اور انگریز افسر اس جنگ کو جلد سے جلد ختم کرنا چاہتے تھے۔ مدکی کی لڑائی اور فیروزشاہ کی لڑائی کے بعد انگریز گورنر جنرل لارڈ ہارڈنگ نے گلاب سنگھ سے خفیہ رابطہ کیا۔ انگریز اب لڑائی میں ہونے والے مزید نقصان سے بچنا چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ گلاب سنگھ کسی نہ کسی طریقے سے خالصہ فوجوں کو یہ ماننے کے لیے تیار کرے۔ لیکن گلاب سنگھ نے لارڈ ہارڈنگ پر یہ واضح کیا کہ خالصہ فوجوں کی موجودگی میں انگریز ایک پیر بھی پنجاب کی دھرتی پر نہیں رکھ سکے گا۔

آخر میں یہ سمجھوتا ہوا کہ جب تک انگریزوں کی بڑی توپیں اور جنگی سامان نہیں پہنچ جاتا تب تک لڑائی نہ چھیڑی جائے۔ یہ بھی طے ہوا کہ جب لڑائی شروع ہو جائے تو خالصہ فوجوں کے لیے گولہ بارود اور راشن کی سپلائی بند کر دی جائے۔ اس سمجھوتے کے تحت ایڈورڈ لارنس نے انگریز سرکار کی طرف سے گلاب سنگھ کو ایک تحریری اقرارنامہ دیا۔ جس کے مطابق جنگ کے اختتام پر جموں کشمیر کا علاقہ خالصہ راج سے الگ کر کے گلاب سنگھ کو ’غداری انعام‘ کے طور پر دے دیا جائے گا۔ تاریخ دانوں کے نزدیک، سبھراواں کی لڑائی سے پہلے دونوں طرف کے جرنیلوں میں ہونے والے اس ’شرم ناک سمجھوتے‘ کی مثال دنیا کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ اس طرح دیس کے غداروں نے انگریزوں کو لڑائی کی تیاری کرنے کے لیے کھلا وقت دے دیا۔

انگریزوں کی بڑی توپیں اور دیگر جنگی سامان فروری کے پہلے ہفتے میں سبھراواں پہنچ گیا۔ اس دوران خالصہ فوج ستلج کے کنارے اڑھائی میل لمبی مورچہ بندی کر چکی تھی۔ لڑائی سے دو دن پہلے جرنیل لال سنگھ نے مورچہ بندی کی تفصیل میجر لارنس کو بھیج دی۔ 10 فروری 1846 کو لڑائی شروع ہوئی۔ لال سنگھ مقابلہ کرنے کے بجائے محفوظ جگہ پر جا کھڑا ہوا۔ سکھ سپاہیوں کے زبردست مقابلے سے انگریزی فوج کے پاؤں اکھڑنے لگے۔ انگریزوں کی حالت پتلی ہوتے دیکھ کر لال سنگھ اور تیج سنگھ گبھرا گئے۔ وہ میدان جنگ سے بھاگ کر دریا پر بنے کشتیوں کے پل سے ہوتے ہوئے دوسری جانب اتر گئے۔ (جہاں گلاب سنگھ ڈوگرا کھڑا تھا) پل سے گزرتے ہوئے، انھوں نے توپوں کی مدد سے یہ پل تباہ کر دیا جس کے باعث خالصہ فوج کے لیے گولہ بارود اور رسد کی سپلائی لائن ٹوٹ گئی۔

اپنے جرنیلوں کے بغیر سکھ فوج گھبرا گئی۔ اتنے میں توپچیوں میں کہرام مچ گیا۔ بارود کی نئی پیٹییں کھولنے پر ان میں سے بارود کی جگہ ریت اور سرسوں نکلنے لگی۔ بارود کی کمی سے، خالصہ فوج کی توپیں، آہستہ آہستہ خاموش ہونا شروع ہو گئیں۔

فوجی، راشن کی کمی قریبی کھیتوں سے گاجر اور شلجموں سے پوری کرنے لگے۔ اپنے غدار جرنیلوں کے کرتوتوں کے باعث سکھ سپاہیوں کی پوزیشن کمزور ہونے لگی۔ لیکن کسی نے بھی ہتھیار نہ ڈالے۔ وہ آہستہ آہستہ پیچھے ہٹتے ہوئے دریا کے قریب ہونے لگے۔ تاکہ دریا کی دوسری طرف سے ہتھیار، گولہ بارود اور راشن حاصل کر کے جنگ جاری رکھ سکیں۔ پل پہلے ہی ٹوٹ چکا تھا۔ سپاہیوں نے دریا پار کرنے کے لیے دریا میں چھلانگیں لگائیں۔ اس وقت انگریزی فوج بھی دریا کے کنارے پہنچ گئی اور دریا میں تیرتے سپاہیوں پر توپوں کی مدد سے بمباری اور بندوق کی گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ سکھ جرنیلوں کی غداری کے باعث، انگریزوں کی ہار، جیت میں بدل گئی۔

ان لڑائیوں میں شکست کا الزام مہارانی جند کور پر لگایا گیا۔ تاکہ عوام، لال سنگھ، تیج سنگھ اور گلاب سنگھ کی چالوں کو سمجھ نہ پائیں۔ پہلی اینگلو سکھ جنگ میں شکست کی وجوہات میں پہلی وجہ یہ تھی کہ خالصہ فوج کے سپاہیوں اور افسروں میں ایکتا ختم ہو چکی تھی۔ دونوں طبقوں میں دوریاں پیدا ہو چکی تھیں۔ سب اپنے اپنے فائدے کے بارے میں سوچنے لگے تھے۔

فوج راج کے کاموں میں اپنا اٹل حکم قائم رکھنے کے حق میں تھی۔ افسر اس خودسر ہو چکی فوج کو تباہ کرکے انگریزوں کی مدد سے اپنی طاقت بڑھانا چاہتے تھے۔ دونوں کی منزل الگ الگ تھی۔

وزیر جواہر سنگھ کے قتل ہونے پر فوج کے ڈر سے کوئی پنجاب کا وزیر بننے کے لیے تیار نہیں تھا۔ کیونکہ فوجی پنچوں کے اشارے پر سپاہیوں کے ہاتھوں کئی لائق مہاراجے، نامور سردار، وزیر اور شہزادے مارے گئے تھے۔ آخر لال سنگھ اور تیج سنگھ، اس روگ کا علاج سوچ کر ہی وزیر اور کمانڈر انچیف بنے۔ ان کے نزدیک خالصہ فوج کا ایک ہی علاج تھا کہ اسے انگریزوں کے ساتھ لڑوا کر تباہ کر دیا جائے۔ خالصہ فوج کے یورپی افسر سکھ راج کے بھید انگریزوں تک پہنچاتے رہے تھے۔ وہ بھی اس شکست کے ذمے دار تھے۔

پہلی اینگلو سکھ جنگ میں سکھ راج شکست کے بعد گورنر جنرل لارڈ ہارڈنگ نے لاہور دربار سے معاہدہ کیا۔ اس کی اہم شقیں یہ تھیں :

• مہاراجا دلیپ سنگھ اپنے سب قلعے، علاقے پہاڑ اور میدان جو بیاس اور ستلج کے درمیان ہیں، محروم ہو گیا ہے۔

• لاہور دربار کو ڈیڑھ کروڑ روپے کا ہرجانہ، جنگی خرچے کے طور پر ادا کرنا ہو گا۔

• کیونکہ لاہور دربار اتنا روپیہ ادا نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس رقم کے لیے کوئی ضمانت دے سکتا ہے۔ اس لیے مہاراجا ایک کروڑ روپے کے بدلے، اپنے وہ تمام علاقے جو ستلج اور بیاس کے درمیان ہیں، ان کے علاوہ جموں کشمیر اور ہزارہ بھی کمپنی کو دیتا ہے۔

• اب مہاراجا کمپنی کو 50 لاکھ روپے صلح پکی ہونے سے پہلے یا اس موقعے پر ادا کرنے ہوں گے۔

• مہاراجا اپنی تمام باغی فوج کو تحلیل کر دے گا اور ہتھیار ضبط کر لے گا۔ اور ان اصولوں کے تحت، جو کہ مہاراجا رنجیت سنگھ کے وقت نافذ تھے، نئی تنخواھ دار فوج بھرتی کرے گا۔

• لاہور دربار کی فوج 20 ہزار پیدل اور 12 ہزار سوار سے زیادہ نہیں ہو گی۔ یہ گنتی کسی وقت بھی، انگریزی سرکار کے مشورے کے بغیر، نہیں بڑھائی جائے گی۔

• مہاراجا وہ 36 توپیں جو انگریزوں کے خلاف استعمال ہوئیں اور سبھراواں کی لڑائی میں انگریزوں کے ہاتھ نہیں لگیں، ادا کرے گا۔

• مہاراجا دلیپ سنگھ، جموں کے راجا گلاب سنگھ کو انگریزی سرکار اور لاہور دربار میں صلح کروانے کے بدلے، پہاڑی علاقوں کے ان ضلعوں کا ’مہاراجا‘ مان لے گا، جو انگریزی سرکار ایک الگ عہد نامے میں اسے دے گی۔

• اگر راجا گلاب سنگھ اور لاہور دربار میں اس سلسلے میں کوئی جھگڑا پیدا ہوا تو انگریزی سرکار ثالث بن کر اس کا فیصلہ کرے گی۔ اور مہاراجے کو یہ فیصلہ تسلیم کرنا ہو گا۔

• انگریزی سرکار کی اجازت کے بغیر، لاہور دربار اپنی سرحدیں بڑھا اور گھٹا نہیں سکے گا۔

• انگریزی سرکار لاہور دربار کے اندرونی معاملات میں کوئی دخل نہیں دے گی۔ لیکن اس سے جن معاملات کی بابت پوچھا جائے گا، ان معاملات میں گورنر جنرل اپنی نیک صلاح، لاہور دربار کے بھلے کے لیے دے گا۔

چنانچہ لڑائی سے پہلے ہوئے خفیہ سمجھوتے کے تحت جموں کشمیر کا علاقہ 75 لاکھ روپے کی رقم کے بدلے راجا گلاب سنگھ کو دے دیا گیا۔ یہ عہدنامہ 16 مارچ 1846 کو لکھا گیا۔

ستلج اور بیاس کا درمیانی علاقہ انگریزی راج کے ساتھ ضم کر لیا گیا۔ لاہور سرکار کے بچے کھچے باقی ماندہ علاقے پر دلیپ سنگھ کا راج تسلیم کر لیا گیا۔ پنجاب فوج کی نفری گھٹا دی گئی۔ انگریز ریزیڈینٹ لاہور میں رہنے لگا اور گورا فوج کی ایک چھاؤنی لاہور میں قائم کر دی گئی۔

لارڈ ہارڈنگ نے پنجاب کو انگریزی راج میں ضم نہ کیا۔ کیونکہ اس کے لیے خالصہ فوج کو دبا کر، پورے پنجاب میں امن قائم کرنے کے لیے ایک طویل لڑائی لڑنا پڑتی۔ اس مہم کے لیے کمانڈر انچیف کے پاس مطلوبہ فوج نہیں تھی۔

دوسری طرف دوست بن کر رہنے والی ایک حکومت قائم کرنے کی کوشش کی جو ہمیشہ انگریزوں کے دست نگر رہے۔ جس سے انگریزی سرکار کو ہندوستان میں کوئی ڈر اور اندیشہ نہ ہو۔ پنجاب کو اس لیے ضبط نہ کیا گیا کیونکہ ایسے وقت پنجاب کو انگریزی راج میں ملانا سیاسی طور پر مشکل تھا۔ لارڈ ہارڈنگ نے طویل مدتی سوچ سے کام لیا۔ اگر پنجاب کی غلامی کا اعلان کر دیا جاتا تو پورے پنجاب میں بلوا ہو جاتا۔ پنجاب کی ساری سکھ آبادی فوجی مزاج کی حامل تھی۔

لاہور اور امرتسر کے ارد گرد فوجی سپاہی پھر رہے تھے جن میں سینوں میں انگریزوں کے خلاف نفرت ابل رہی تھی۔ پنجاب کے بیشتر قلعوں پر سکھوں کا قبضہ تھا۔ انگریزوں کے لیے پنجاب کے ایک ایک قلعے کو فتح کرنا ناممکن تھا۔ اس سے مشکل کام، بلوے کی بھڑکتی ہوئی آگ کو دبانا تھا۔ اگر اس وقت سے تین سال بعد (جنوری 1849 ) ، ایک شیر سنگھ اٹاری والا کی بغاوت چیلیانوالہ کی گھمسان مچا سکتی ہے، تو یہ بات بالکل عیاں ہے کہ سارے ملک کی بغاوت کتنی بھیانک ہوتی۔

لارڈ ہارڈنگ کو یہ معلوم تھا کہ ستلج کے کنارے ہونے والی لڑائیاں، انگریز اپنی طاقت کے بل بوتے پر نہیں، بلکہ سکھوں کے سپاہ سالار کی غداری کے سبب جیتے ہیں۔ پنجاب کی غلامی کا اعلان سن کر عین ممکن تھا کہ وہی سردار انگریزوں کے خلاف ہو جاتے جنھوں نے ستلج کے کنارے اپنی ہار کے لیے ہی تمام کوششیں صرف کیں تھیں۔ لال سنگھ، تیج سنگھ اور گلاب سنگھ کے علاوہ کوئی بھی موجودہ صورتحال سے خوش نہیں تھا۔ اگر اس وقت پنجاب کے ایک ایک قلعے پر قبضہ کرنا پڑتا تو وہی ہوتا جو کانگڑے پر اپریل 1846 میں قبضہ کرتے ہوئے ہوا۔ چنانچہ اس گڑبڑ سے ڈرتے ہوئے پنجاب انگریزی راج میں ضم نہ کیا گیا۔

لاہور دربار کے پرانے سپاہیوں کو بلا کر تنخواھ دی گئی اور آئندہ کے لیے نوکری سے برخاست کر دیا گیا۔

لاہور کا سکھ راج اپنی حقیقیت میں ختم ہو چکا تھا۔ محض دکھاوے کے لیے ایک بادشاہ، ایک وزیر اور ایک فوج تھی۔ لیکن سب کے سب انگریزی طاقت کے سہارے ہی کھڑے تھے۔

جب راجا گلاب سنگھ جموں کشمیر راج کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے گیا تو وہاں لاہور دربار کی طرف سے نامزد حاکم ’شیخ امام دین‘ نے راج اختیار سونپنے سے انکار کر دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پنجاب کے وزیر لال سنگھ نے شیخ کو قبضہ دینے سے روکا ہوا تھا۔ انگریزوں نے فوجی طاقت کی زور پر راجا گلاب سنگھ کو راج دلوایا اور لال سنگھ کو انگریزوں کے فیصلے میں رکاوٹ بننے پر وزیر کے عہدے سے ہٹا دیا اور دو ہزار ماہوار پینشن دے کر پنجاب سے بنارس جلاوطن کر دیا۔

جنگ کے بعد ہوئے عہدنامے کے مطابق سن 1846 کے آخر تک انگریز فوج نے لاہور سے چلے جانا تھا۔ لیکن 16 دسمبر 1846 کو بھیرووال کے مقام پر نیا عہدنامہ کیا گیا۔

اس نئے معاہدے کے تحت انگریزی ایجنٹ کو لاہور دربار کے تمام محکموں میں، ہر قسم کی مداخلت کا اختیار مل گیا۔

مہاراجا دلیپ سنگھ کی حفاظت کے لیے انگریزی فوج کو لاہور میں رہنے کی اجازت ملی جسے لاہور دربار کی طرف سے 22 لاکھ روپے سالانہ دیا جائے گا۔

اس عہد نامے پر 26 دسمبر کو دستخط ہوئے۔

اس عہدنامے سے مہارانی جند کور کا لاہور راج پر اختیار اور عمل دخل ختم ہو گیا۔ انگریزوں کی طرف سے ہنری لارنس کو ریزیڈینٹ نامزد کیا گیا۔ اس عہدنامے کے مطابق تیج سنگھ، شیر سنگھ اٹاریوالا، دیوان دینا ناتھ، فقیر نوردین، رنجودھ سنگھ مجیٹھیا، بھائی ندھان سنگھ، عطر سنگھ سندھاوالیا اور شمشیر سنگھ سندھاوالیا پر مشتمل کونسل بنائی گئی جس کی ذمہ داری لاہور دربار کے اندرونی معاملات چلانا تھا۔ جولائی، 1847 میں گورنر جنرل نے ریزیڈینٹ کو یہ اختیار بھی دے دیا کہ وہ کونسل کے ممبروں کو ہٹا کر نامزد کر سکتا ہے۔ اور جہاں چاہے وہ سکھ فوج کو ہٹا کر انگریز فوج رکھ سکتا ہے۔ اس طرح انگریزوں کا لاہور دربار میں اپنا دباؤ حد سے زیادہ بڑھا لیا۔

بھیروال کا معاہدہ، جس سے انگریزوں کی لاہور دربار میں مداخلت حد سے زیادہ بڑھ گئی، ملتان اور شیر سنگھ کی بغاوت کا سبب بنا۔ یہی بغاوت، دوسری اینگلو سکھ جنگ پر منتج ہوئی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •