کیا آپ مہاجروں کے عذابوں اور خوابوں سے واقف ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے مہینے میرے عزیز شاعر ’ایکٹر اور ڈائریکٹر دوست جاوید دانش ملنے آئے۔ کہنے لگے کہ ان کی بیگم عظمیٰ دانش مغرب میں بسنے والے مشرقی مہاجرین کے لیے ایک پروگرام کا اہتمام کر رہی ہیں جس میں اوشوا شہر کے MAYOR AND MEMBERS OF THE PARLIMENT بھی شرکت کریں گے۔ جاوید دانش اور عظمیٰ دانش کی خواہش تھی، کہ میں مہاجروں کے مسائل اور کنیڈین زندگی میں ان کی شرکت کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کروں۔ میں نے ان کی پر خلوص دعوت قبول کر لی۔

آج شام میں اور میرے مزاح نگار دوست سید حسین حیدر اس تقریب میں شامل ہوئے جس میں موسیقی بھی تھی ’شاعری بھی تھی اور رقص بھی تھا، جسے جوش ملیح آبادی اعضا کی شاعری کہتے تھے۔ جب مجھے اسٹیج پر بلایا گیا تو میں نے حاضرین سے کہا کہ مختصر تقریر کرنا طویل تقریر کرنے سے زیادہ مشکل ہے۔ ایک دفعہ محمد علی جوہر سے کسی نے پوچھا تھا کہ آپ نے اخبار کا اتنا طویل ایڈیٹوریل کیوں لکھا ہے۔ کہنے لگے مختصر لکھنے کا وقت نہیں تھا۔

میں نے حاضرین سے کہا کہ میرے پاس پانچ منٹ ہیں اس لیے میں آپ کو CULTURAL INTEGRATION کے حوالے سے تین مختصر کہانیاں سناؤں گا، تا کہ میرا نقطہِ نظر آپ پر واضح ہو سکے۔ ایک ذاتی کہانی۔ ایک سیاسی کہانی اور ایک فلسفیانہ کہانی۔ پانچ منٹ میں بس اتنا ہی ممکن ہے۔ آج سے چالیس سال پیش تر اکتوبر 1977 میں جب میں کینیڈا میں نفسیات کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے آیا اور سینٹ جانز نیوفن لینڈ کے جنرل اسپتال کے نفسیات کے وارڈ میں کام کرنے لگا تو ایک شام میری ایک بزرگ رفیق ِ کار نرس لورنا میکڈولنڈ نے مجھ سے پوچھا ’ڈاکٹر سہیل آپ کرسمس ڈنر کہاں کریں گے؟‘‘

میں نے کہا، میں نے زندگی میں نہ کبھی کرسمس منائی ہے اور نہ ہی کرسمس ڈنر کیا ہے۔ میں کینیڈا میں کسی کو نہیں جانتا۔ لورنا میکدونلڈ نے بڑی مادرانہ شفقت سے کہا، کرسمس مسلمانوں کی عید کی طرح ایک اہم تہوار ہے جو سب لوگ اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کے ساتھ مناتے ہیں۔ آپ کرسمس ہمارے خاندان کے ساتھ گزاریں۔ میں نے وہ دعوت قبول کر لی۔ اس دن مجھے اپنے پشاور کے پروفیسر الف خان یاد آئے جنہوں نے پاکستان سے جاتے ہوئے مجھے نصیحت کی تھی، ’’ڈاکٹر سہیل، آپ جب کسی مغربی ملک جائیں تو وہاں کے مقامی شہریوں کے ساتھ دوستی کریں ان کا کلچر سیکھیں ان کا ادب پڑھیں، ان کی موسیقی سنیں۔ چنانچہ میں نے لورنا میکڈونلڈ اور ان شوہر کے ساتھ کرسمس سے ایک دن پہلے کی رات کے MIDNIGHT MASS میں شرکت کی اور انہیں اپنے گرجا گھر میں موم بتیاں جلاتے دیکھا۔ اگلے دن ان کے بچوں اور بچوں کی دادی کے ساتھ ٹرکی ڈنر کیا۔ جب لورنا میکڈونلڈ اور ان کے شوہر جیمز مجھے اپنی گاڑی میں واپس چھوڑنے آ رہے تھے تو میں نے لورنا سے کہا، ’’اگر آپ برا نہ مانیں تو آپ سے ایک ذاتی سوال پوچھوں؟‘‘
’’ضرور پوچھیں۔‘‘ لورنا نے کہا۔
آپ کے دو بیٹے اور ایک بیٹی شکلوں سے ایک دوسرے کے بہن بھائی نہیں لگتے، لورنا مسکرائیں اور کہنے لگیں یہ میرے اپنے بچے نہیں ہیں۔ ان کا تعلق مختلف ممالک سے ہے میں نے انہیں اڈاپٹ کیا ہے۔ اس شام میرے دل میں لورنا کی عزت اور بھی بڑھ گئی۔ لورنا میکڈونلڈ کا دل محبت کا سمندر تھا اسی لیے انہوں نے کینیڈا میں میرا خیر مقدم کیا۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا، تو لورنا کے شوہر نے کہا، YOU ARE MORE THAN WELCOME یہ جملہ مجھے اتنا پسند آیا کہ میں اسے آج بھی استعمال کرتا ہوں۔ یہ جملہ مجھے YOU ARE WELCOME سے زیادہ محبت بھرا لگتا ہے۔

میں نے سامعین کو مہاجروں کے بارے میں ذاتی کہانی سنانے کے بعد ایک سیاسی کہانی سنائی جو میں نے کسی پرانی کتاب میں پڑھی تھی۔ جب ایران میں پارسیوں کا دائرہِ حیات تنگ کر دیا گیا تو وہ ایک کشتی میں بیٹھ کر ہندوستان گئے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو خیمے لگا کر رہنے لگے۔ ایک دن یہ مہاجر اپنے خلیفہ کے ساتھ دائرے میں بیٹھے تھے کہ ہندوستان کے شہزادے کا پیغام بر آیا۔ اس نے خلیفہ کو ایک گلاس دیا جو پانی سے لبا لب بھرا تھا اور کہا کہ شہزادے نے یہ تحفہ بھیجا ہے۔

خلیفہ اپنے خیمے میں گئے تھوڑی سے چینی کے دانے لائے اور اس گلاس میں ڈال کر کہنے لگے، اسے اپنے شہزادے کے پاس لے جاؤ اور کہو کہ اسے چکھیں۔ جب مہمان چلا گیا تو لوگوں نے خلیفہ سے کہا، ’’ہمیں کچھ سمجھ نہیں آیا کہ آپ نے کیا پیغام بھیجا ہے!‘‘ خلیفہ نے کہا کہ شہزادے کا پیغام تھا کہ گلاس بھرا ہوا ہے مزید جگہ نہیں ہے آپ لوگ کشتی میں بیٹھ کر وا پس وہیں چلے جائیں جہاں سے آپ آئے ہیں۔ میں نے چینی ڈال کر کہا ہے کہ ہم گلاس کا پانی نہیں چھلکائیں گے بلکہ پانی کو میٹھا کر دیں گے۔ مہاجر قوم کو بہتر بناتے ہیں بد تر نہیں۔ اسی لیے کینیڈا ہر سال بہت سے مہاجروں اور ریفیوجیوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔ یہ مہاجر بہت محنت کرتے ہیں اور کینیڈینز کی دن رات خدمت کرتے ہیں۔ یہ مہاجر رات کی ڈیوٹی کی طرح بہت سے وہ کام بھی کرتے ہیں جو باقی کینیڈینز نہیں کرنا چاہتے۔

پھر میں نے سامعین کو ایک لوک کہانی سنائی اس شام کی تیسری کہانی جو فلسفیانہ تھی۔ میں نے کہا کہ ایک پادری نے خدا سے کہا کہ میں ہر اتوار کو اپنے شاگردوں کو جنت اور دوزخ کی کہانیاں سناتا ہوں لیکن میں نے نہ کبھی جنت دیکھی نہ دوزخ۔ کیا آپ مجھے یہ دونوں جگہیں دکھائیں گے۔ خدا نے پوچھا، ’’پہلے کیا دیکھنا چاہتے ہو؟‘‘ پادری نے کہا، ’’دوزخ۔‘‘ خدا نے کہا تو بائیں طرف جاؤ وہاں ایک دروازہ ہے۔ اسے کھول پر اندر جاؤ تمہیں دوزخ نطر آ جائے گی۔ جب پادری بایاں دروازہ کھول کر اندر گیا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک بہت بڑی دیگ ہے جس میں بہت سا کھانا ہے۔

اس کے ارد گرد بہت سی قوموں کے کالے گورے ’امیر غریب‘ مرد اور عورتیں بیٹھے ہیں لیکن شکلوں سے حیران پریشان دکھی، فاقہ زدہ، رنجیدہ اور افسردہ دکھائی دیتے ہیں۔ پادری نے جب انہیں غور سے دیکھا تو اسے پتا چلا کہ کہ ہر انسان کے ہاتھ میں ایک چھے فٹ لمبا چمچ ہے جس سے وہ کھانا اٹھا تو لیتا ہے لیکن کھا نہیں سکتا اس لیے وہ سب لوگ بھوکے بھی ہیں اور پریشان بھی۔ پادری کو دوزخ کا اندازہ ہو گیا۔ جب لوگ بہت کچھ ہونے کے با وجود محروم اور مجبور رہیں۔

پادری نے واپس آ کر خدا سے کہا کہ اب مجھے جنت دکھائیں۔ خدا نے کہا کہ اس دفعہ دائیں طرف جاؤ وہاں ایک دروازہ ہو گا۔ دروازے سے اندر جاؤ گے تو جنت نظر آ جائے گی۔ پادری جب دائیں دروازے سے داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہے کہ پہلے کی طرح ایک بڑی سی دیگ ہے چاروں طرف مختلف قوموں کے کالے گورے، امیر غریب، مرد اور عورتیں بیٹھے ہیں لیکن سب خوش ہیں۔ مسکرا رہے ہیں۔ ہنس رہے ہیں۔ وہ صحت مند دکھائی دے رہے ہیں۔ پادری نے انہیں غور سے دیکھا تو اسے اندازہ ہوا کہ انہوں نے خوشی کا راز پا لیا ہے۔

ہر شخص جب اپنے چھے فٹ لمبے چمچ سے کھانا اٹھاتا ہے تو خود کھانے کی بجائے وہ اپنے سامنے بیٹھے انسان کو کھلاتا ہے۔ کالے گوروں کو، گورے کالوں کو، امیر غریبوں کو، غریب امیروں کو، مرد عورتوں کو اور عورتیں مردوں کو کھانا کھلا رہے ہیں۔ پادری جنت اور دوزخ کا راز جان کر بہت خوش ہوا۔ میں نے سامعین سے کہا کہ کینیڈا میں مختلف قومیں بستی ہیں جو ایک دوسرے سے محبت پیار، خلوص اور اپنائیت سے ملتی ہیں۔ عورتوں، بچوں اور اقلیتوں کے انسانی حقوق کا احترام کرتی ہیں۔ یہی اس ملک کی کامیابی و کامرانی کا راز ہے۔ ہمیں اگلے جہان میں جنت کا انتظار کرنے کی بجائے اسی دنیا میں ایک جنت بنانی ہو گی۔ یہی CULTURAL INTEGRATION کا راز ہے۔ محفل کے آخر میں میں نے حاضرین کو اپنی غزل کے چند اشعار سنائے۔ آپ بھی سن لیں۔

یہ جو ٹھہرا ہوا سا پانی ہے۔ اس کی تہہ میں عجب روانی ہے

ایک عورت جو مسکراتی ہے۔ اس کی غم گیں بہت کہانی ہے

ایک چاہت جو عارضی سی لگے۔ اس کی تاثیر جاودانی ہے

جس کو قوسِ قزح کی خواہش تھی۔ اس کی بے رنگ اب جوانی ہے

جو بظاہر نئی سی لگتی ہے۔ ۔ در حقیقت بہت پرانی ہے

اس کو گھر بیٹھ کر گنواؤ گے۔ شام خالدؔ بہت سہانی ہے

محفل کے اختتام پر میں نے جاوید دانش اور عظمیٰ دانش کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے موسیقی، رقص اور شاعری سے بھری ایک سہانی شام کا اہتمام کیا اور مجھے مہاجروں کے مسائل، ان کے خوابوں اور آدرشوں کے بارے میں اپنے خیالات کے اظہار کا موقع عطا کیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 221 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail