کنگ شاہ سلمان فوڈ پیکج تنقید کی زد پر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سعودی عرب کے بادشاہ، شاہ سلمان کے فلاحی ادارے اور پاکستان بیت المال کی طرف سے ضلع ہنزہ میں پانچ سو گھرانوں میں رمضان فوڈ پیکج تقسیم کردیا گیا ہے۔ ضلع ہنزہ کے ہیڈ کوارٹر علی آباد میں امدادی اشیا کی تقسیم کی تقریب منعقد ہوئی۔ جس میں ڈپٹی کمشنر ہنزہ بابر صاحب دین مہمان خصوصی تھے۔ تقریب میں تحریک انصاف کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی اور شاہ سلمان کے فلاحی اقدامات کو سراہتے ہوئے امدادی سامان پر شکریہ ادا کیا۔

مذکورہ تقریب کی تصاویر سوشل میڈیا میں پہنچتے ہی وائرل ہوگئیں۔ ان میں ایک تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک کھلے میدان میں امدادی سامان وصول کرنے والی خواتین موجود ہیں، جو کہ قطار بنا کر بیٹھی ہوئی ہیں۔ اس تصویر پر سوشل میڈیا میں موجود گمنام پیجز اور بعض ’سرگرم‘ لوگوں نے بھرپور تبصرہ کیا اور خواتین کو یوں قطار میں بٹھانے کو ’انسانیت کی تذلیل‘ قرار دے دیا۔ سوشل میڈیا میں کم و بیش اکثر ہی پیجز اور لوگوں نے ایک ہی سکرپٹ کے مطابق اس تصویر کو پھیلانا شروع کر دیا۔

موضوع اتنا سنجیدہ نہیں تھا کہ اس پر کالم لکھا جا سکے لیکن یہ موضوع ایسے تمام مقامات میں قابل بحث بن گیا جہاں پر گلگت بلتستان کے مسائل پر گفت و شنید اور بحث ہوتی ہے۔ وٹس ایپ اور فیس بک کے مفکرین نے تمام تر سرگرمیوں کو معطل کر کے اپنی ساری توجہ اور توانائی اسی ایک تصویر پر صرف کی۔ اور اسے خواتین اور انسانیت کی ایک ساتھ تذلیل قرار دیا۔

تبلیغی جماعت کا ایک لطیفہ یاد آرہا ہے، کہ بشیر نامی ایک نشئی تبلیغی جماعت کے دعوت سے متاثرہوا اور تبلیغی جماعت کے دوستوں کے ساتھ اُن کے نصاب کے مطابق وقت گزارنے لگ گیا۔ تبلیغی نظم کے مطابق ان کی جماعت کا مختلف مقامات پر تشکیل ہو گئی، بشیر صاحب کو ہر مقام پر خصوصی خطاب کے لئے بلایا جاتا تھا کہ بشیر بھائی پہلے پکے نشئی تھے، ہر قسم کے منشیات کا استعمال کرتے تھے لیکن تبلیغی جماعت کے برکات سے اس نے نشے سے توبہ کر لی اور ابھی پکے دیندار بن گئے ہیں۔

بشیر صاحب اس بات کو محسوس کررہے تھے اور جب معاملہ حد سے بھی بڑھ گیا تو انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ شروع میں میں نشئی تھا اور ہر قسم کے منشیات کا استعمال کرتا تھا لیکن یہ معاملہ میرے اور میرے اللہ کے درمیان تھا، لیکن تبلیغی جماعت کے دوستوں کی برکت سے میرے منشیات استعمال کرنے کی داستان کئی مساجد اور شہروں تک جا پہنچی ہے۔

سوشل میڈیا میں سرگرم رہنے کی قسم کھانے والوں نے اس بات کی بھی قسم کھائی ہے، نکتہ چینی کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جائے، بے شک نزلہ کسی پر بھی گر جائے۔ اس سے قبل بھی متعدد ایسے واقعات موجود ہیں جن میں بھرپور مہم چلائی گئی لیکن آخر میں کھودا پہاڑ نکلا چوہا کے مصداق، ہاتھ میں کچھ بھی نہیں آیا۔ ضلع ہنزہ سے امدادی سامان وصول کرنے کے لئے قطار میں بیٹھنا اگر خواتین کی تذلیل تھی تو سامان تقسیم کرنے والوں نے اتنی تذلیل نہیں کی ہو گی، جتنی لوگوں نے اس بات کو سوشل میڈیا پر پھیلا پھیلا کر کردی ہے۔ وہ تو خوش قسمتی ہے کہ تصویر میں کوئی بھی خاتون نمایاں نہیں ہے اور نا ہی ان کی پہچان ہو رہی ہے۔ اگر کسی کی آسانی سے پہچان ہوتی اور سوشل میڈیا میں ان کی تذلیل وائرل ہو جاتی تو کیا ہونا تھا؟ اس کے باوجود بھی وہ خواتین خود کیا سوچتی ہوں گی، جب امدادی سامان کی وصولی پر اتنی تنقید ہو رہی ہے۔

اجتماعیت کو پاک صاف قرار دینے میں ایک گروہ کا ہمیشہ مفاد ہوتا ہے، مثلاً کسی بھی علاقے میں تعلیم کی کارکردگی کو بہتر سے بہتر قرار دینے کے پیچھے ان اداروں کا زور ہوتا ہے جو وہاں پر تعلیمی سہولیات فراہم کر رہے ہوتے ہیں، لیکن ان کی اس بہتر سے بہترین ظاہر کرنے کی کوشش میں اصل مسائل زیر زمین چلے جاتے ہیں۔ ہنزہ ہی کی مثال لی جا سکتی ہے کہ جس میں سرکاری سکولوں کا نتیجہ اب تک قابل ذکر نہیں رہا ہے لیکن صد فی صد تعلیمی شرح دکھانے کی وجہ سے حکومت اور محکموں کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی ہے، کہ اس علاقے میں مزید اقدامات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس وجہ سے اصل مسائل قالین تلے دب گئے ہیں۔

اسی طرح اجتماعی طور پر خود مختاری ظاہر کرنے سے جہاں اپنا تعارف کراتے ہوئے یا اپنا رشتہ ظاہر کرتے ہوئے فخر محسوس کیا جا سکتا ہے لیکن کبھی بھی صد فی صدغربت کا خاتمہ کہیں پر بھی نہیں ہو سکا۔ لیکن علاقے کو نام نہاد خود دار ظاہر کرنے کی کوشش کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ امیری کی علامتوں کے تلے غریبوں پر کیا گزر جاتی ہے۔ کنگ عبد اللہ کے فلاحی ادارے کی جانب سے 500 گھرانوں میں امدادی سامان تقسیم کرنا اپنے طور پر خوش آیند ہے، اور یقینا امدادی سامان وصول کرنے کے لئے تیار بیٹھنے والوں میں 500 سے زیادہ لوگ بھی ہوں گے۔

ہنزہ کی خواتین گلگت بلتستان میں سب سے زیادہ خود مختار، مستحکم اور اپنے پاؤں پر کھڑی ہونے والی ہیں، اگر یہ واقعتاً تذلیل تھی تو خواتین اس امدادی پیکج کو مستر د کرکے بیت المال، کنگ عبد اللہ فاؤنڈیشن اور ضلعی انتظامیہ کے منہ پر مار دیتی، لیکن وہ اپنا اچھا برا خود بہتر جانتی ہیں۔ اس لئے قطار میں منظم انداز میں بیٹھی رہیں۔

سماجی دنیا کے سرگرم دوستوں کی سرگرمیاں اکثر حقائق اور اصل مسائل سے دور لے جاتے ہیں، جس وقت یہ پیکج تقسیم ہو رہا تھا اور سوشل میڈیا میں چیخیں سنائی دے رہی تھیں، عین اس وقت عزت مآب، فخر گلگت بلتستان گورنر جی بی جناب راجا جلال حسین خان مقپون آف سکردو نے سید ارشاد حسین سے چیف جسٹس سپریم اپیلٹ کورٹ کے عہدے کا حلف لے لیا۔ گلگت بلتستان سپریم اپیلٹ کورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری کا طریقہ کار مبہم ہونے یا واضح نہ ہونے کی وجہ سے سیاسی اثر رسوخ کے حامل لوگوں کی تقرریاں عمل میں لائی جا رہی ہیں، جب کے بنچ کے دیگر ارکان کے لئے بھی شرائط اس سے کچھ کم نہیں ہیں۔

فیس بک اور وٹس ایپ میں ہونے والی پوسٹوں کا بھی بغور جائزہ لینے کے بعد اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اگر ’کنگ عبداللہ‘ کا نام اس تقسیم سے نہیں جڑتا تو شاید یہ خبر ہی نہیں بن جاتی۔ خواتین کو قطار میں رکھنا ہے، یا ان کے گھروں میں تقسیم کرنا ہے اس کا فیصلہ ضلعی انتظامیہ نے کرنا تھا اور ضلعی ڈپٹی کمشنر خود وہاں پر موجود بھی تھے، لیکن ان کا نام تک کسی نے ذکر نہیں کیا۔ اب تک کوئی بھی ایسی تقسیم نہیں ہے کہ جس میں خواتین کو مدعو کرکے تصاویر نہیں کھینچی گئی ہیں، بعض اوقات تو غیر مستحق خواتین بھی قطار اندر قطار پنڈالوں کی طرف رخ کرتے ہیں۔ ایک واقعہ کی بنیاد پر نئی تشریحات نہیں ہو سکتییں۔ با شعور اور تعلیم یافتہ ہونے کا ثبوت دیتے، شعورسے عاری حرکتیں کرنا، اور غیر منطقی گفتگو کو پروان چڑھانا کسی حماقت سے کم نہیں ہوتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •