کیا آپ روحانی تجربات کے بارے میں جدید سائنسی نظریات سے واقف ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسانی تاریخ کا ایک وہ دور تھا جب روحانیات کا ذکر مذہبی کتابوں اور سنتوں، سادھئوں اور صوفیوں کی سوانح عمریوں میں ہوتا تھا اور روحانی تجربات کا رشتہ عقائد اور عبادات سے جوڑا جاتا تھا۔

انسانی تاریخ کا ایک یہ دور ہے جب روحانیات کے ذکر سائنس، طب اور نفسیات کی کتابوں میں ملتا ہے اور محققین روحانی تجربات پر سائنسی اور نفسیاتی لیبارٹریز میں تحقیق کر رہے ہیں۔

انسانی تاریخ میں ایک وہ زمانہ تھا جب انسانی PSYCHE کا ترجمہ SOUL کیا جاتا تھا۔ روح پر ایمان رکھنے والوں کے دو گروہ تھے۔

پہلا گروہ ان لوگوں کا تھا جن کا عقیدہ تھا کہ روح انسانی جسم سے علیحدہ اپنا وجود رکھتی ہےاور عالمِ ارواح میں رہتی ہے۔ وہ روح رحمِ مادر میں بچے کے جسم میں داخل ہو جاتی ہے، ساری عمر اس کے ساتھ رہتی ہے اور موت کے وقت جسم سے جدا ہو کر قیامت کا انتظار کرتی ہے۔ قیامت کے دن اس کے اعمال کا حساب ہوگا۔ اگراس شخص نے اپنی زندگی میں نیکیاں زیادہ کی ہیں تو وہ روح جنت میں چلی جائے گی اور اگر اس شخص نے اپنی زندگی میں برائیاں زیادہ کی ہیں تو وہ روح جہنم میں چلی جائے گی۔ بہت سے مسلمان عیسائی اور یہودی آج بھی انسانی روح، یوم حساب اور جنت دوزخ پر ایمان رکھتے ہیں۔

دوسرا گروہ ان لوگوں کا تھا جن کا عقیدہ تھا کہ انسانی روح بار بار اس دنیا میں آتی ہے اور پچھلے جنم کے اعمال کی بنیاد پر کسی جانور یا انسان کے جسم میں داخل ہو جاتی ہے۔ جب کوئی شخص جنم جنم کے ریاض کے بعد نروان حاصل کر لیتا ہے تو اس کی روح روحِ کل کا حصہ بن جاتی ہے اور دوبارہ دنیا میں نہیں آتی۔ بہت سے ہندوازم اور بدھ ازم کے ماننے والے آج بھی اواگون پر ایمان رکھتے ہیں۔

ان دونوں گروہوں کی یہ خواہش ہے کہ وہ ایک ابدی زندگی پائیں۔ اس ابدی زندگی کی خواہش نے ایک ابدی روح، ازلی و ابدی خدا، عالمِ ارواح اور روحِ کل کے تصورات، نظریات اور اعتقادات کو جنم دیا ہے۔

پچھلی دو صدیوں میں ایک تیسرا نظریہ مقبول ہو رہا ہے۔ یہ سیکولر اور سائنسی نظریہ ہے۔ اس نظریے کے ماننے والے انسانی سائیکی کا ترجمہ soul نہیں  mind کرتے ہیں۔ اس ذہن کا تعلق انسانی دماغ اور انسانی شخصیت سے ہے۔ یہ ذہن انسانی جسم سے جدا نہیں جو انسان کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اور اسی کے ساتھ مر جاتا ہے۔ ذہن کا یہ تصور پچھلی دو صدیوں کے سائنسدانوں ڈاکٹروں اور نفسیات دانوں کی تحقیق کا نتیجہ ہے۔ وہ تمام طالب علم جو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سائیکولوجی، سائکاٹری اور سائیکوتھیریپی کا مطالعہ کرتے ہیں وہ سائیکی کا ترجمہ ذہن کرتے ہیں روح نہیں۔ وہ انسان کے روحانی مسائل کی بجائے ان کے ذہنی مسائل کو سمجھنے اور پھر ان کا علاج کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ دنیا میں زیادہ سے زیادہ انسان ایک صحتمند اور پرسکون زندگی گزار سکیں۔

سائنسدانوں نے اپنی تحقیق سے یہ جانا ہے کہ روحانی تجربات کا تعلق انسان کے دائیں دماغ سے ہے۔ وہ NEUROLOGISTS جو دماغ کے مختلف حصوں کا مطالعہ کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ انسان کے دائیں دماغ کا انسان کے تخلیقی اور روحانی تجربات سے گہرا تعلق ہے۔

کینیڈین انسان دوست ڈاکٹر رابرٹ بکمین نے اپنی کتاب CAN WE BE GOOD WITHOUT GOD? میں اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ میں یہاں اس گفتگو کا خلاصہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ڈاکٹر بکمین کا کہنا ہے کہ انسان کے دماغ کے دو حصے ہیں۔ بائیں دماغ کا تعلق زبان اور گفتگو سے ہے جبکہ دائیں دماغ کا تعلق اپنی ذات اور کائنات کی پہچان اور شعور سے ہے۔ 1940 میں انسانی دماغ کی لہروں کے ٹیسٹ EEG…ELECTROENCEPHALOGRAPHY نے ہمیں اس معمہ کو حل کرنے میں مدد کی ہے۔ بکمین نے ہمیں بتایا ہے کہ دائیں دماغ کی حساسیت کی وجہ سے ہم انسانوں کو تین گروہوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔

پہلا گروہ ان لوگوں کا ہے جن کے دائیں دماغ کے ٹمپورل لوبز حد سے زیادہ حساس ہیں۔ جب یہ حصے خود بخود فعال ہو جاتے ہیں تو انسانوں پر مرگی TEMPORAL LOBE EPILEPSYکے دورے پڑنے شروع ہو جاتے ہیں۔ DR HUGHLINGS JACKSON نےمرگی کے مریضوں پر تحقیق کر کے ہمیں بتایا کہ دائیں دماغ کے ٹمپورل لوب کی مرگی کا تجربہ روحانی تجربے سے مشابہت رکھتا ہے۔ ایسے مریض کی ایک مشہور مثال فیوڈور دوستووسکی تھے جنہیں مرگی کے دورے پڑتے تھے۔ وہ اپنے ایک دورے کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں ‘ میرے شعور میں اچانک ایک حیرت انگیز تبدیلی آئی۔ مجھے یوں لگا جیسے میرے ذہن میں ایک در کھل گیا ہو اور اس میں روشنی داخل ہو رہی ہو‘

DR WELDER PENFIELD  نے بھی انسانی دماغ پر کافی تحقیق کی۔ ان کی تحقیق نے ہمیں بتایا کہ جب بائیں دماغ کو لیبارٹری میں سٹیمولیٹ کیا جاتا ہے تو جسم کے مختلف حصوں میں حرکت ہوتی ہے لیکن جب دائیں دماغ کے ٹمپورل لوب کو سٹیمولیٹ کیا جاتا ے تو جسم کے کسی حصے میں حرکت نہیں ہوتی بلکہ انسانی شعور میں تبدیلی آتی ہے اور اسے کسی غیبی ہستی کے ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ بعض لوگوں کو یوں لگتا ہے جیسے ان کا کسی فرشتے یا خدا سے رشتہ جڑ گیا ہو۔

دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جن کا دایاں دماغ کا ٹمپورل لوب حساس ہے لیکن حد سے زیادہ نہیں۔ ایسے لوگ فنکار بنتے ہیں۔ چاہے وہ ادیب ہوں یا شاعر، ایکٹر ہوں یا دانشور وہ ایک خیالی دنیا میں چلے جاتے ہیں اور فن پارے تخلیق کرتے ہیں۔

تیسرا گروہ عام لوگوں کا ہے جن کے دائیں ٹمپورل لوب حساس نہیں ہوتے۔ انہیں نہ تو مرگی کے دورے پڑتے ہیں اور نہ ہی وہ شاعر، ادیب اور دانشور بنتے ہیں۔

سائنسدان M A PERSINGER نے اپنی تحقیق سے ہمیں یہ بتایا کہ اگر ہم عام انسانوں کے دائیں ٹمپورل لوب کو لیبارٹری میں stimulate  کریں تو انہیں بھی روحانی تجربات ہو تے ہیں۔ وہ پرسکون محسوس کر تے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ وہ کسی غیبی طاقت کے ساتھ جڑ گئے ہیں۔ بعض کو تو فرشتوں یا خدا کی آواز بھی سنائی دیتی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم تخلیقی اورروحانی تجربات کو سائنس اور نفسیات کے علم سے کیسے سمجھ سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں کینیڈا کے ایک ماہرِ نفسیات JULIAN JAYNES ہماری مدد کرتے ہیں۔ وہ ان تجربات کی اس طرح تشریح کرتے ہیں کہ انسان ایک طویل عرصے تک یہ نہیں جانتے تھے کہ ان کے دماغ کے دو حصے ہیں۔ بایاں دماغ اور دایاں دماغ۔ دائیں دماغ کا تعلق تصوراتی دنیا سے ہے۔ شاعر کے اشعار دائیں دماغ میں تخلیق ہوتے ہیں لیکن جب وہ بائیں دماغ میں آتے ہیں تو بایاں دماغ یہ سمجھتا ہے کہ وہ کہیں باہر سے آئے ہیں۔ اگر وہ شخص مذہبی اعتقادات رکھتا ہے تو وہ ان کا رشتہ کسی فرشتے یا خدا سے اور اگر وہ شخص دہریہ ہے تو وہ اس کا رشتہ لاشعور سے جوڑتا ہے۔

مرزا غالب نے فرمایا

آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں

غالب صریرِ خامہ نوائے سروش ہے

غالب جسے سروش کہتے ہیں یونانی اسے میوسMuse کا نام دیتے تھے۔

ڈاکٹر بکمین کا کہنا ہے کہ ہم کسی بھی شخص کے دائیں ٹمپورل لوب کو فعال بنائیں تو اسے روحانی تجربہ ہو سکتا ہے اور اسے یوں محسوس ہو سکتا ہے جیسے وہ خدا سے بات کر رہا ہے کیونکہ GOD IS A STATE OF MIND ۔

جب ہم روحانیات کا سائنس اور نفسیات کے آئینے میں مطالعہ کرتے ہیں تو ہم پر یہ انکشاف ہوتا ہے کہ اس کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ تجربہ ہے اور دوسرا اس کی تعبیر اور تفہیم۔ وہ تجربات جنہیں مذہبی لوگ صدیوں سے روحانی تجربات کہتے ہیں اور ان کا تعلق مذہب اور عقیدے سے جوڑتے آئے ہیں وہ تجربات مخصوص حالات اور کیفیات میں کسی بھی انسان کو ہو سکتے ہیں۔ اگر وہ شخص مذہب پر یقین رکھتا ہے تو وہ اس تجربے کا تعلق کسی خدا یا فرشتے سے جوڑتا ہے لیکن اگر وہ لامذہب ہے تو وہ اس کا تعلق انسانی لاشعور سے جوڑتا ہے۔ روحانی تجربات دہریوں کو بھی ہو سکتے ہیں۔ سیکولر سائنسدانوں اور ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ روحانی تجربات کا تعلق انسان سے ہے بھگوان سے نہیں کیونکہ

SPIRITUALITY IS PART OF HUMANITY, NOT DIVINITY

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 234 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail