ہم نفسوں کی بزم میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمیم حنفی سے کون واقف نہیں ہے۔ ہمسایہ ملک کی تہذیبی زندگی کا تصور جن شخصیات کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوتا، شمیم حنفی ان میں سے ایک ہیں۔ نقاد، خاکہ نگار، ڈراما نویس، کالم نگار، مترجم، مرتب، ان کی شخصیت کے خاص گوشے ہیں۔ بیسویں صدی کی ادبی حیثیت کی تفہیم اور تاریخ، تہذیب اور تخلیقی تجربے کی مباد یات کو شمیم حنفی کی تحریرں کو پڑھے بغیر سمجھا نہیں جا سکتا۔

” ہم نفسوں کی بزم میں“ شمیم حنفی کی شخصی تاثراتی، تنقیدی تحریروں کا مجموعہ ہے۔ ان تحریروں کا مطالعہ کرنے کے بعد جس شخصیت کا تصور ذہن میں آتا ہے، وہ شائستگی، متانت، دوستداری اور توازن کی حامل شخصیت کا پیکر ہے۔ یہی وہ خصائص ہیں جن کی عملی تصویریں ان پیکروں میں نظر آتی ہیں جو اس کتاب میں تراشے گئے ہیں۔

اس کتاب میں ہندوستان کی شخصیات بھی شامل ہیں اور پاکستان کی بھی۔ راجندر سنگھ بیدی، فراق گورکھپوری، آل احمد سرور، احتشام حسین، خلیل الرحمن اعظمی، بلراج مین را، جب کہ پاکستانی لکھنے والوں میں انتظار حسین، احمد مشتاق، ظفر اقبال، خالدہ حسین، صلاح الدین محمود، زاہد ڈار کے بارے میں کون جاننا نہیں چاہے گا۔

شمیم حنفی کے قلم نے ان لکھاریوں سے ملاقات کی سبیل پیدا کر دی ہے۔ وہ خاکہ لکھتے وقت شخصیت کے روشن پہلو زیادہ دکھاتے ہیں۔ منفی مزاج شمیم حنفی کا حصہ نہیں۔ تعصب، کینہ، نفرت، ان کے قلم اور ان کی شخصیت سے بہت دوری پر کھڑے ہیں۔ وہ سماج کی بدلتی ہوئی صورتوں اور اس میں انسان کی تہذیبی گراوٹ پر شاکی نظر آتے ہیں۔ ان خاکوں میں ان کا قلم اپنے وابستگان سے قلبی لگاوٹ کا آئینہ دار بن کر اُبھرا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کوئی اپنے تہذیبی ورثے کو سنبھال رہا ہو۔ ایک امانت دار، جوماہ و سال کے جبر کو تج کر کچھ نشانیوں کو سینے سے لگا کر رکھنا چاہتا ہو۔

شمیم حنفی اور انتظار حسین کی سنگت ایسا ساتھ تھا جو انتظار حسین کے سفر آخرت تک قائم رہا۔ جب کبھی اس ساتھ کی کوئی تعبیر کرنا چاہی تو ایک لفظ بار بار ذہن میں گونجا اور وہ احترام آدمیت کا لفظ ہے۔ ان خاکوں کو پڑھ کر زیر خاکہ شخصیت کے ساتھ محبت میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی تحریروں کی طرف طبیعت زیادہ مائل ہوتی ہے۔

ان پیکر وں سے ہندوستان اور پاکستان کا ایسا تہذیبی ورثہ مرتب ہوتا ہے جس میں رواداری اور خلوص ہے۔ پتا نہیں نفرتوں کے کاروباری کہاں سے آئے اور انہوں نے دونوں ملکوں کی زندگی کو گہنا دیا۔ باہمی احترام، شائستگی، رواداری، علم و تہذیب کی چلتی پھرتی تصویریں دیکھنا ہوں تو وہ شمیم حنفی کی آرائشی سہاروں سے دور جچی تلی نثر میں نظر آئیں گی۔ اس ملاقات کی سبیل ریڈنگز کے اشاعتی ادارے القا پبلشرز نے پیدا کی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •