ہنزہ کا ذہین چور ۔۔۔ پکڑا گیا!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

باہر صحن کے واش روم میں آئے دن کوئی چیز غائب ہوتی۔ دن کیفے میں گزرتا اور شام واپس آتے تو کچھ نہ کچھ غائب ہوتا۔ کبھی صابن تو کبھی کنگھی۔ کبھی ٹوتھ پیسٹ تو کبھی ٹوتھ برش۔ ہنزہ میں ہمارے گھر کے صحن کی دیوار نہیں جو کہ اکثر گھروں کی نہیں ہےتو کوئی بھی آسانی سے آ جا سکتا ہے۔ مسئلہ یہ تھا کہ چوری کی نوعیت بہت عجیب تھی ۔ اسی واش روم میں کپڑے ، تولیہ یا دیگر بالٹی وغیرہ جوں کی توں پڑی ہوتی ۔

ہنزہ میں آپ چوری کے تصور کا تصوربھی نہیں کر سکتے۔ پہلے تو یہی سمجھ آئی کوئی بچہ شرارت کر رہا ہے۔ اب کیونکہ دن بھر ہم گھر پر نہیں ہوتے تھے تو بچے کو پکڑنا ناممکن تھا۔ ہم نے احتیاطاً یہ کیا کہ اس واش روم میں چیزیں رکھنا ختم کر دیا لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ رہ جاتا اور دوسرے دن وہ کچھ نہ کچھ بھی غائب ہو جاتا۔

ایک دن ہم نے اس چور کو پکڑ لیا۔ ہم نے بہت غور و فکر کیا تھا لیکن اس معصوم کی جانب ہمارا ذرا سا خیال بھی نہیں گیا تھا کہ یہ حرکت اس قدر معصوم مخلوق کر سکتی ہے۔ یہ غشپ صاحب تھے۔ ہنزہ والے تو غشپ کی عادات سے بخوبی واقف ہیں لیکن ہمیں یہ نہیں معلوم تھا کہ اخروٹ اور بادام کے ساتھ ساتھ یہ صاحب کچھ بھی لے اڑتے ہیں جو ان کے اٹھانے کی طاقت کے دائرے میں آتا ہو۔

غشپ سردیوں سے خوفزدہ ایک ذہین پرندہ ہے۔ سردیوں کے لیے ہر وقت چیزیں جمع کرتا رہتا ہے ۔ یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ غشپ ایسا کیوں کرتا ہے؟

Black-billed Magpie (Pica hudsonia), Aliabad, Hunza, Gilgit-Baltistan

غشپ کا شمار دنیا کے ذہین ترین پرندوں میں ہوتا ہے۔ جسم اور دماغ کے سائز کی مناسبت سے اس کا شمار آپ چیمپینزی اور ڈولفن وغیرہ سے کر سکتے ہیں یعنی جسم اور دماغ کے حجم کی نسبت کو دیکھا جائے اور انسانوں کے بعد ان انواع کا نمبر آتا ہے۔

غشپ نے اس ذہانت کی بدولت اوزار استعمال کرنا سیکھا۔ گھر کو صاف کرنا سیکھا اور غشپ خوراک کو بہت درست انداز سے چھوٹے حصوں اور بڑےحصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ چھوٹے حصے بچوں کے لیے اور بڑے حصے اپنے لیے۔

انسان کے علاوہ دنیا میں بہت کم انواع ایسی ہیں جو اپنے وجود سے یا اپنے ہونے سے متعلق کچھ ‘خبر’رکھتی ہیں۔ اس معاملے کو جانچنے کا ایک پیمانہ یہ ہےکہ کیا کوئی نوع اپنے آپ کو شیشے میں پہچاننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس صلاحیت کو دیکھا جائے تو پرندوں میں غشپ وہ واحد پرندہ ہے جو اپنی پہچان کی شدبد رکھتا ہے۔

ذہانت کی وجہ سے غشپ بہت پیچیدہ جذباتی عوامل کے تجربات سے بھی واقفیت رکھتا ہے۔ سائنسی تجربات نے ثابت کیا ہے کہ غشپ ‘دکھ اور غم’ سے آشنا ہوتا ہے۔ اسی ذہانت کی وجہ سے ‘ایپیسوڈک یادداشت’ کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی صلاحیت اس کو پیش بینی سے آگاہ رکھتی ہے جس کی وجہ سے غشپ زیادہ سے زیادہ ‘مال’ اکھٹا کرنے میں مصروف رہتا ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ایک اور بڑا گھمبیر مسئلہ یہ ہے کہ یہ خوراک جس جگہ اکھٹا کرتا ہے عموما اس جگہ کو بھول جاتا ہے۔ اسی لیے ہنزہ کے لوگ جب کاشتکاری کے لیے زمین کھودتے ہیں تو ان کو اخروٹ کے اچھے ذخائر مل جاتے ہیں۔ ہر ذخیرے کے ملنے پر ہنزہ کی خواتین و مرد، غشپ کی اس حرکت پر زیر لب ضرور مسکراتے ہیں۔ غشپ سے محبت بھی رکھتے ہیں اور اس کے منڈیر پر بیٹھنے کو خوش بختی بھی سمجھتے ہیں لیکن ایک احتیاط بہرحال ضرور کرتے ہیں کہ صابن وغیرہ کی ٹکیا کو کبھی باہر نہیں چھوڑتے۔

کالم کی دم: گذشتہ دنوں فیس بک پر ایک پوسٹ دیکھی جس میں ایک جاہل کو دیکھا جس نے بیسیوں غشپ مارے تھے۔ ایسا ہنزہ نگر میں تو ممکن نہیں لیکن معلوم نہیں یہ حرکت اس نے کہاں کی۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ ‘جسم اور دماغ کے حجم کے تناسب’ میں یہ صاحب غشپ سے کہیں کم دماغ رکھتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 160 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik