آؤ ایک ماہ کے لیے اچھے مسلمان بن جائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﻇﺎﮨﺮﯼ ﻣﻮﺳﻤﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺎﺭ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺭﻭﺣﺎﻧﯽ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ ﺑﮩﺎﺭ ﻣﺎﮦ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮨﮯ۔ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﺍٓﻗﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺼﻄﻔﯽؐ ﻧﮯ رمضان ﮐﯽ ﺍٓﻣﺪ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﯾﻮﮞ ﺩﯼ ﮐﮧ : ”ﺳﻨﻮ ﺳﻨﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﺎ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﭼﻼ ﺍٓﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺗﻢ ﭘﺮ ﻓﺮﺽ ﮐﺮﺩﯾﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺖ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮭﻮﻝ ﺩﯾﺌﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺯﺥ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﺩﯾﺌﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﮐﺶ ﺷﯿﻄﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﮑﮍ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﺍﯾﺴﯽ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺮﮐﺎﺕ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﺭﮨﺎ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮭﻮ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻧﺎﻣﺮﺍﺩ ﺭﮨﺎ“۔

رمضان کا برکتوں اور رحمتوں بڑا ماہ شروع ہوتے ہی، ہم عابد اور زاہد بن جاتے ہیں۔ جوں ہی ہلال چاند آسماں میں نمودار ہوتا ہے، ہم اپنی عبادتوں میں اضافہ کر دیتے ہیں، اور نیکیاں کمانے کے لیے اچھے اچھے کام کرنا شروع کردیتے ہیں۔ صرف رمضان کی ماہ میں ہمیں یاد آتا ہے کہ، مفلس اور ناداروں کی مدد کریں، غریبوں کو روزہ افطار کرانے کے لیے ان کو کھانے پینے کی اشیاء بِیھجیں۔ سال کے گیارہ مہینے ہم اپنے من مانی میں گذار دیتے ہیں، اور ایک ماہ کی عبادت کے بدلے میں ہم خداوند سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں بخش دے۔

بیشک اللہ تعالیٰ کی ذات بلند و بالا ہے، اور وہ اپنے بندوں کو بخش کرنے والا اور رحیم ہے۔ پر ہم سب مسلمان اپنے اچھے کاموں کو رمضان سے ہی کیوں منسوب کرتے ہیں، کیا ہم باقی کہ گیارہ ماہ مسلمان نہیں ہوتے، یا ہمارا عقیدہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ جہاں نظر گھماؤ ہر طرف نیک کام ہو رہے ہوتے ہیں۔ جو لوگ سال بھر نماز نہیں پڑھتے، تلاوت قران مجید نہیں کرتے، وہ ان دنوں پانچ وقت کے نمازی اور قران کی تلاوت کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

مجھے حیرت تو تب ہوتی ہے، جب سارے سال کندھے پہ دوپٹہ رکھے ہوئے نیوز اینکر خبریں پڑھ رہی ہوتی ہیں، رمضان میں اچانک سے ان کے سر پر دوپٹہ آجاتا ہے، جیسا کہ ان کا مسلمان ہونا ایک ماہ کے لیے ہی فرض ہو۔ سارا سال ٹی وی شوز میں بھنگڑے ڈالتی، ماڈلز بنی ہوئی خواتین، ماہ رمضان میں مذہب کی طرف راغب ہوجاتی ہیں۔ پورا سال جن کے پروگراموں میں ماڈل، اداکارائیں مہمان ہوئا کرتی ہیں، اور آپس میں شوٹنگ کے باری میں گپے لگاتی ہیں، وہی پروگراموں کی میزبانیں اس ماہ میں علماء اکرام کو مدعو کرکے قرآن و حدیث کے متعلق تبصرے کر رہی ہوتی ہیں، جیسے وہ اسلامیات یا مسلم ہسٹری کی طالبات ہوں۔

ماہ رمضان کا احترام ہم سب پر فرض ہے، اور اس پہ کوئی بحث نہیں، پر ان خواتین و حضرات پہ تعجب ہوتا ہے کہ، جو صرف ایک ماہ کے لیے اپنی چال ڈھال بدل کر، کندھے کا دوپٹہ سر پر رکھ کر، سیاست کے تبصروں سے ہٹ کر ایک ماہ مین صرف اور صرف دینی باتیں کر کے، خود کو ایک مکمل مسلمان سمجھتی ہیں۔ یہی حال مرد حضرات کا بھی ہوتا ہے، نیوز چئینل پر سیاسی تبصروں میں مشغول صحافی حضرات، ان دنوں رمضان کی خصوصی نشریات کی میزبانی کی ذمہ داری لے لیتے ہیں۔

مجھے کسی کے عقیدے پر کوئی شک و شبہ کرنے کا حق نہیں، بیشک و مجھ سے زیادہ اللہ کے نزدیک ہوں گے، اور ان کا عقیدہ مجھ سے زیادہ پختہ ہوگا۔ پر یہ بات مجھے تھوڑی چبھتی ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ نماز تو ایسی عبادت ہے جو ہم پر پورا سال فرض ہے، تلاوت قران مجید ہو یا مفلسوں کی مدد کرنا، یہ سب تو ہم پر سال کے بارہ ہی ماہ فرض کیا گیا ہے، تو پھر ہم ان سب عبادتوں اور نیک کاموں کو صرف رمضان تک ہی کیوں محدود کر دیتے ہیں۔

کیا یہ درست نہ ہوگا، کہ ہم جو بھی تھوڑی بہت عبادت کرتے ہیں یا کسی بے سہارا کی مدد کرتے ہیں، وہ سارا سال ہی کیا کریں۔ اللہ رمضان کے ماہ میں تو بیشک خوش ہوگا، پر کیا ہم سارا سال نیک کاموں میں حصہ لیں گے تو وہ مزید خوش نہ ہوگا۔ اللہ دلوں کا مالک ہے، اور وہ دکھاوے کو ناپسند کرتا ہے۔ تو ہم کیوں پھر دکھاوے کے نیک کام کرتے ہیں۔ بیشک روزے تو رمضان میں ہی فرض کیے گئے ہیں، وہ ہمیں اسی ماہ میں رکھنے چاہیے، پر دوسری عبادتیں اور نیک کام تو ہم رمضان کے علاوہ بھی کر سکتے ہیں۔

ٹی وہ شو کرنے والے تو رمضان کو ایک کمائی کا مہینہ بھی سمجھنے لگتے ہیں۔ رمضان آتے ہیں، لمبی لمبی لائیو نشریات کر کے مختلف کمپنیوں کی اشتہاری مہم چلا کر ان کے طرف سے انعامات بانٹتے ہیں۔ کیا یہ آپ کی نظر میں درست ہوگا کہ، ماہ رمضان میں ہم لوگوں سے اپیل کرتے رہیں، کہ آئیں ہمارے پروگرام میں سحری و افطار کے اوقات میں شرکت کر کے نیکی کمائیں۔ گھنٹوں بیٹھے خواتین و حضرات کو یہ تو نہیں کہا جاتا، کہ آپ گھر جائیں، نماز پڑھیں، دوسری عبادتیں کریں۔

ان کو تو بس اپنے پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے بٹھایا جاتا ہے۔ ہم مسلمان ایک ماہ کے لیے تو نہیں ہیں، پھر کیوں یہ دکھاوا رمضان میں کرتے ہیں۔ جب ہم پورا سال، پوری حیات کے لیے مسلمان ہیں، تو پھر کیوں ہم لوگوں کو دعوتیں دیتے رہتے ہیں کہ، آؤ ایک ماہ کے لیے اچھے مسلمان بن جائیں۔ اور پھر وہی پرانا سا روٹین، اور پرانے کام۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •