مہاراجہ رنجیت سنگھ: تاریخی تناظر میں پنجابی، پختون تعلقات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مہاراجہ رنجیت سنگھ، پنجابی شاونسٹ، قوم پرستوں کی بالادستی کا علامتی اسطورہ ہے چونکہ تاریخی طور پر مسلمان پنجابی، نامعلوم وقت سے، مزاحمتی اسطوروں، سیاسی اور جنگی قیادت اور اسی قسم کی علامتوں کی لحاظ سے بانجھ پن کا شکار ہے۔ اس لیے، مذہبی طور پر الگ سہی، لیکن نسلی طور پر پنجابی قوم پرست مسلمان اور سکھ دونوں کے لئے مہاراجہ رنجیت سنگھ سے بڑھ کر کوئی مشترکہ ہیرو نہیں۔ پھر مسلمان پنجابی اور سکھ پنجابی دونوں کا، تاریخی مقابل اور مخالف بھی مشترکہ طور پر ایک یعنی پختون ہے۔

سکھ پنجابی نے ماضی قریب میں پشاور تک حکومت کرکے پختونوں کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنے کے بعد اپنے دلی ارمان بڑی حد تک پورے کرلیے ہیں۔ لیکن مسلمان پنجابی کو، باوجود سکھ حکمرانوں کے ساجھے دار کے، ابھی تک کوئی ایسا کھلم کھلا موقع نہیں ملا، جس میں وہ صدیوں پر محیط اپنی ذاتی، مذہبی اور نسلی توہین کا حساب کتاب چکا سکے۔ کیونکہ پختون کبھی خود، افغانستان کے کوہ و دمن سے، ہندوستان کو باجگزار بنانے کی نیت سے اترا، تو کبھی کسی اور حملہ اور کے ہراول دستے میں شامل ہوا۔

اس نے ہندوستان جانے کے لئے لازماً، راستے میں پڑنے والے پنجاب کے دیہات کو لوٹا ہوگا، محنت سے اگائی گئی ان کی قیمتی فصلوں کو اپنے گھوڑوں کے لئے چارے کے طور پر استعمال کیا ہوگا، ایسے مویشیوں کو جو ان کے مذہب میں مقدس تھے، کاٹ کر پیٹ کی دوزخ بجھائی ہوگی، ان کے قیمتی سامان اور زر و جواہر پر ہاتھ صاف کیے ہوں گے ، ان کے مندروں، مقدس مذہبی علامات، شخصیات اور مورتیوں کی توہین کی ہوگی۔ انسانی جانوں اور عزتوں کے ساتھ کھلواڑ کیا ہوگا۔

اس لیے آج تک پنجابی مائیں، اپنے بچوں کو پٹھان کے چک (اٹھا) کر لے جانے کی تنبیہہ کرتی سنائی دیتی ہیں۔ پنجابی ماؤں کی اس ایک تنبیہہ میں، بے بسی، نفرتوں، ظلم اور بے حسی کی پوری تاریخ بیان کی جاتی ہے۔ باوجود اسکے، کہ آج کل مختلف وجوہات کی بنا پر، بلوچ پنجابیوں کو مار رہے ہیں، کسی پنجابی اسطورہ یا رویے میں بلوچ کے لئے نفرت کا کوئی اظہاریہ نہیں ملتا۔ کیونکہ یہ حالیہ واقعات اور واردات ہیں۔ ابھی پنجابی فطرت اور رویوں کے سانچوں میں نہیں ڈھلے۔

پھر یہ واردات پنجابی سرزمین اور آنکھوں سے دور بلوچستان میں وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ اس لیے اتنے موثر نہیں کہ پنجابی نفسیات پر چرکے لگاسکے۔ نہ پنجابی رویئے میں سندھی کے لئے توہین یا نفرت موجود ہے۔ (البتہ بلوچ سرزمین پر بلوچوں کے ساتھ ہونے والے واقعات بلوچوں کے لئے زیادہ معنی خیز اور سیاسی حرکیات پر مبنی ہیں ) ۔

پنجابیوں میں میرے بہت اچھے دوست موجود ہیں۔ ذاتی طور پر وہ میرے بہت قدردان اور مہربان ہیں۔ بعض حالات اور واقعات میں وہ پختونوں سے بڑھکر دوستی نبھاتے ہیں۔ لیکن تاریخی تناظر میں قومی سطح پر پنجابی اور پختون نہ کبھی دوست رہے اور نہ ماضی قریب میں ایسا ہونا ممکن ہے۔ کیونکہ دونوں اقوام کے درمیان صدیوں کی نفرتوں کا ٹھاٹیں مارتا ہوا سمندر موجود ہے، یہ نفرتیں بھی یک طرفہ پنجاب کے اندر ہیں۔ کیونکہ زیادتی ہمیشہ متاثرہ فریق کو یاد رہتی ہے۔ چونکہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی چند سالہ حکومت کے علاوہ حملہ اور ہمیشہ پختون سرزمین سے پنجابی سرزمین پر وارد ہوئے ہیں۔ اس لیے ان حملوں کے دوران لگائے گئے نفسیاتی چرکے آج تک صرف پنجابی رویوں سے رستے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔

مہارانی جنداں کور

مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکومت سکھوں کی مذہبی حکومت نہیں تھی۔ بلکہ مسلمان اور سکھ دونوں پنجابیوں کی مشترکہ حکومت تھی۔ جس میں مسلمان پنجابی سکھ پنجابی کا برابر کا ساجھے دار تھا۔ اور چونکہ دونوں ماضی میں پختونوں کے ہاتھوں نفسیاتی زخموں سے چور چور تھے۔ اس لیے دونوں نے ملکر اپنے حملوں کا رخ کسی اور ہمسایہ یعنی بلوچ اور سندھی کی بجائے پختون کی طرف کردیا تاکہ صدیوں پر مشتمل ذاتی، نسلی اور مذہبی توہین، لوٹ مار اور شکستوں کے بدلے میں جمع شدہ غصے کا اظہار کیا جاسکے۔

مذہبی منافرت، بدترین اندھی منافرت ہوتی ہے۔ جس کے بدترین وحشیانہ مظاہرے تقسیم ہند کے وقت، پنجابی سکھوں اور پنجابی مسلمانوں نے ایک دوسرے کی جان لینے، جائیدادیں اور عزتیں لوٹنے کے دوران پاگل بن کر کیے ۔ اور حال ہی میں مذہبی منافرت کے مظاہرے پختون طالبان نے قوم پرست پختونوں کے خلاف کیے ۔ تاریخ کا تجزیہ کرتے ہوئے بندہ، انگریزی جادوگری کو دیکھ کر حیرت زدہ ہوجاتا ہے، کہ کچھ عشروں پہلے جو سکھ اور مسلمان پنجابی یک جان ہوکر پختونوں کے خون سے اپنی پیاس بجھا رہے تھے چند عشروں بعد وہی پنجابی سکھ اور پنجابی مسلمان ایک دوسرے کی جان و مال اور عزتیں لوٹنے میں مصروف تھے۔

آپریشن بلیو سٹار، اندرا گاندھی کے فتل کے بعد سکھوں کی قتل عام، پاکستان آنے والے سکھ زائرین کے ساتھ پنجابی مسلمانوں کا برادرانہ سلوک، پاکستانی نصابی کتب میں، سکھ مسلم فسادات کو ہندو مسلم فسادات کا نام دینا، کرتار پورہ کی کھلی سرحد، سدھو کی جپھی، اور اب مہاراجہ رنجیت سنگھ کی مفتوحہ، پشاور کے، بالاحصار قلعے میں تصویر کی تنصیب، پنجابیوں کے قوم پرستی کی طرف جاری، سفر معکوس میں آنے والے سنگ میل ہیں۔ جو موہوم حالات و واقعات کی پیش بندی کی نشاندھی کے ساتھ ساتھ مستقبل میں بہت ساری سیاسی اور نظریاتی تبدیلیوں کی نقیب ہو سکتی ہیں۔

رانی جند کور کی پوتی اور دلیپ سنگھ کی بیٹی صوفیہ
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •