رمضان الکریم کی فضیلت و اہمیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو طرح طرح کی نعمتوں سے نوازا ہے، وہ ہم سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔ چند دنوں سے رمضان کریم کا بابرکت مہینہ شروع ہو گیا ہے۔ رمضان کا مہینہ مسلمانوں کے لیے انعامات کا مہینہ ہے، یہ مہینہ مسلمانوں کے لیے دوزخ سے نجات کا ذریعہ بن سکتا ہے، اِس مہینے میں نیکیوں کی بہاریں لگ جاتی ہیں، مسلمان باقاعدگی سے نمازیں پڑھتے ہیں اور سحرو افطار کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ حدیث قدسی ہے،

”روزہ میرے لیے ہی اور میں ہی اِس کا اجر دوں گا“۔ حدیث قدسی اسے کہتے ہیں جس میں الفاظ اللہ تعالیٰ کے ہوں اور زبان ہمارے پیارے نبی حضرت محمدؐ کی ہو۔ اس سے آپ روزے کی اہمیت اور فضیلت کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اللہ تعالٰی کا اجر کتنا بڑا ہو گا۔

رمضان المبارک کا مہینہ اسلامی مہینوں میں نواں مہینہ ہے۔ قرآن اور حدیث میں اس مہینے کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے کہ ”رمضان کے مہینے میں قرآن مجید نازل کیاگیا۔ البقرہ: 58“۔ اور ایک جگہ قران پاک میں ارشاد ہے ”اس مہینے میں ایک رات (لیلتہ القدر) ایسی آتی ہے جو ہزار راتوں سے افضل و بہتر ہے۔ (القدر: 3 ) “۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شعبان کی آخری تاریخ کو فرمایا، ”کہ تمہارے اوپر ایک مہینہ آرہا جو بڑا مبارک مہینہ ہے۔ اس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس ماہ کے روزوں کو فرض فرمایا ہے اور اس میں رات کے قیام کو ثواب کا ذریعہ بنایا ہے“۔

اس بابرکت مہینے میں مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکتوں اور رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔ یہ مہینہ لوگوں کے ساتھ غمخواری کا مہینہ ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ، ”جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین اور سرکش جنات قید کر دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے سارے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ پھر اس کا کوئی دروازہ کھلا نہیں رہتا اور جنت کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں پھر اس کا کوئی دروازہ بند نہیں رہتا اور فرشتہ اعلان کرتا ہے، اے بھلائی اور نیکی کے طلب گار! اللہ تعالٰی کی طرف متوجہ ہو جا۔ اے برائی کا ارادہ رکھنے والے! برائی سے باز آجا کیونکہ اللہ تعالیٰ اس ماہ مبارک کے وسیلے سے لوگوں کو آگ سے (جہنم کی آگ) سے آزاد کرتا ہے اور ہو سکتا ہے تو بھی ان لوگوں میں شامل ہو جائے یہ اعلان رمضان کی ہر رات میں ہوتا ہے“۔

اس مہینے میں رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ اس مہینے کی برکتوں کا اندازہ آپ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ اس مہینے میں تمام شیاطین اور جنات کو قید کر دیا جاتا ہے۔ جنت کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے تمام دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ شیاطین جو کہ انسانوں کو اچھے کاموں سے روکتے ہیں اور برے کاموں کے ذریعے اس کو گمراہ کر کہ سبز باغ دکھاتے ہیں۔ وہ اس مہینے میں مکمل طور پر بے بس کر دیے جاتے ہیں تاکہ اس مہینے کی برکتوں سے فائدہ اٹھا کر تمام انسان اپنی مغفرت کروا سکیں اور اچھے کام کر سکیں۔

ایسا اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو ایک ماں سے بھی ستر گنا زیادہ پیار کرتے ہیں اور اس مہینے کو نازل فرما کر وہ اپنے پیارے بندوں کے لیے نہ صرف آسانیاں پیدا کرتا ہے بلکہ وہ اس مہینے کو انسانوں کے لیے نجات کا ذریعہ بناتا ہے۔ غفلت میں پڑے ہوئے لوگوں پر یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے۔ اور بخشوانے کا ذریعہ ہے، ہمارے پیارے نبیؐ نے فرمایا، ”ہر چیز کی زکٰوة ہوتی ہے اور جسم کی زکٰوة روزہ ہے“۔

الحمد للہ ایک بار پھر یہ برکتوں والا مہینہ شروع ہو گیا ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس مہینے کو پا کر اللہ کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس مہینے میں ہر طرف سے یہ پکار آتی ہے! ہے کوئی بخشش کا طلبگار۔ کوئی ہے جو اپنے گناہوں سے معافی مانگ کر اپنی مغفرت کرانا چاہتا ہے اور میں اس کو معاف کر دوں۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر بے حساب کرم ہے۔ وہ اپنے بندوں کی بخشش اور مغفرت کے بہانے تلاش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو رمضان کا تحفہ دیا۔ اس مہینے میں ہمیں چاہیے کہ ہم خود کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔ اس مہینے میں عبادت کے ذریعے اپنے نفس کو پاک کرنے کی کوشش کریں۔ گناہوں سے بچیں اور روزے کی حالت میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔

اور اس سب کے دوران حقوق العباد یعنی ہمساؤں اور رشتہ داروں کو نا بھولیں، ایسے لوگوں کو نہ بھو لیے گا، جن کو اس تپتی لو اور جان لیوا گرمی میں روزے کی حالت میں ائیر کنڈیشنر یا ائیر کولر تو کیا سادہ پنکھا بھی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے میسر نہیں ہوتا۔ اور سحرو افطار کے لیے ٹھنڈا پانی اور روٹی سالن بمشکل دستیاب ہوتا ہے۔ ہو سکے تو ایسے لوگوں کے لیے سحرو افطار اور راشن یعنی آٹا، گھی، دال، چاول، شربت، اور چینی وغیرہ کا بندو بست کریں۔ اس کا بہت بڑا اجر ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •