ریپ: کپڑے مسئلہ ہیں تو برقع والی کا کیا قصور تھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے معاشرے میں دن بہ دن بڑھتے جنسی زیادتیوں کے کیس جن میں سے اکثر چھوٹی بچیوں کے ساتھ ہوتے ہیں، کا سن کر میں اکثر سوچتی ہوں کہ کسی چیز کی خواہش انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے، اس کا اندازہ اسے خود بھی نہیں ہوتا۔ یہ خواہش جب حد سے بڑھ جاتی ہے تو ہوس کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ انسان کو صحیح اور غلط میں فرق کرنا ہی بھول جاتا ہے، اسے بس اپنے نفس کی تسکین چاہیے ہوتی ہے۔ یہ ہوس اکثر نظر سے شروع ہو کر عزت پر ختم ہوتی ہے۔

پہلے مذاق میں لڑکی کو دیکھنا اور گھورنا اور اس بات پر خوشی محسوس کرنا اور پھر اس کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اس پر طرح طرح کی آوازے کستے ہیں۔ اس کو چھیڑ تے ہیں۔ اور اسی خوشی کو مزید بڑھانے کے لیے اس کو ہوس کا نشانہ بناتے ہیں۔ اور بعد میں اس بات کا الزام بھی اس لڑکی پر ہی لگا دیا جاتا ہے، کہ وہ خود ہی ایسی ہے، اسی کا ہی کردار خراب ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ ہر لڑکا برا اور ہر لڑکی اچھی ہے۔ آج کل کے دور میں لڑکیاں خود بھی جانتے بوجھتے اپنے آپ کو ان کاموں میں الجھاتی ہیں مگر ان چند لوگوں کی وجہ سے ہم ان معصوم لڑکیوں کے کردار پر شک نہیں کر سکتے جو بے گناہ ہونے کے باوجود ہوس کا نشانہ بن جاتی ہیں۔

ہماری ٹیپکل سوسائٹی کی یہ سوچ ہے کہ اس لڑکی کے ساتھ تو ہونا ہی ایسا تھا کیونکہ کہ وہ خود ہی تنگ کپڑے، جینز پہن کر لوگوں کو دعوت دے رہی ہوتی ہے۔ جو بھی اس کے ساتھ ہوا، وہ اس کی خود ذمہ دار ہے۔ چلو ٹھیک ہے مان بھی لیا کہ اس کو چھوٹے کپڑوں میں اور بغیر دوپٹے کے، دیکھ کر لوگوں کی نظر اور نیت خراب ہو جاتی ہے۔

پر اس کا کیا جو پورے عبایا میں تھی؟ تمہیں لڑکیوں کے کپڑوں کے چھوٹے ہونے سے مسئلہ تھا تو اس برقع والی کا کیا قصور تھا؟ اس کا تو پورا جسم بھی ڈھکا ہوا تھا۔ اب کون کہے گا کہ لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کپڑوں کی وجہ سے ہوتی ہے؟ میرے مطابق اب جو ایسا کہے گا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، اسے زندگی جینے کا حق ہی نہیں۔ یہ ہی وہ لوگ ہیں جن کی کی وجہ سے ہمارا معاشرہ آ گے نہیں بڑھ پا رہا۔ ہمیں اس گھٹیا سوچ کو بدلنا چاہیے، جو بھی عورتیں حتی کہ چھوٹی چھوٹی بچیاں جنسی زیادتی کا شکار ہوتی ہیں، وہ دو کوڑی کی نیت کی وجہ سے ہوتی ہیں، اور نیت کا کپڑوں سے کوئی تعلق نہیں۔ 6 سال کی بچی سے لے کر جوان لڑکی تک، یہ ہوس پرست آدمی کسی کو نہیں چھوڑ رہے۔ اور لوگ کہتے ہیں کہ اس نے کپڑے چھوٹے پہنے تھے، یہ تو ہماری بیوکوفی ہے کہ ہم اصل بات سمجھنے کے بجائے، سارا الزام کپڑوں پر ڈال دیتے ہیں۔ میرے خیال سے اس ہوس کی سب سے بنیادی وجہ ضد، انا، غصہ اور نفس کی کمزوری ہے

جب کسی لڑکی کو دوستی کے لیے کنوینس کرتے ہیں اور وہ اپنے کردار کو گندا نہ کرنے کے لیے اور اپنی شرافت میں انکار کر دیتی ہے تو اسے اپنی آنا کا مسئلہ بنا لیا جاتا ہے۔ اور اپنی اس جھوٹی انا کو پہنچی ہوئی ٹھیس کا بدلہ لینے کے لیے اس کو ہوس کا نشانہ بنا لیتے ہیں۔ جیسے یہ ثابت کر دیا ہو کہ لو ہار گئی میرے سامنے، تم اور تمہاری پارسائی۔

لیکن میرے دل کو سب سے زیادہ تکلیف وہ خبریں سن کر ہوتی ہے، جن میں چھوٹی بچیوں کے ساتھ ہوئی زیادتی کے بارے میں بتایا جاتا ہے، حقیقی معنوں میں دل دہل جاتا۔ جس عمر میں بچیوں کے لیے سب سے پسندیدہ کام گڑیوں سے کھیلنا ہوتاہے، اس عمر میں یہ درندہ صفت مرد ان سے ان کی معصومیت چھین لیتے ہیں۔ وہ پھول جو ابھی کھلے بھی نہیں ہوتے مرجھا جاتے ہیں۔

ایسے ہوس کے پجاری لوگ، یہاں تک کے بچوں کو بھی اپنی ہوس کا نشانہ بنا لیتے ہیں۔ کچھ دن پہلے ہمارے گھر میں کام کرنے والی خاتون کو، دوپہر کے وقت اس کے گھر سے فون آیا، جسے سن کر وہ فوراً بغیر کچھ کہے اور بتاے ہی چلی گئی۔ اس کے بعد وہ کافی دنوں تک غیر حاضر رہی، نہ ہی وہ فون اٹھا رہی تھی میری دادی نے آخر کار کسی اور خاتون کو کام پر رکھ لیا، جب اچانک ہی تقریباً ایک ماہ کے بعد وہ ہمارے گھر آی، وہ شکل سے بہت پریشان حال لگی، بہت اصرار سے جب ہم نے پوچھا تو تب اس نے بتایا کہ اس کا 8 سال کا بیٹا چند دنوں کے لیے گاؤں گیا تھا، وہاں اس کے ساتھ کسی نے زیادتی کر دی، اور یہ سب گھر میں ہی ہوا، اس کی حالت کافی دن خراب رہنے کے بعد اس کی وفات ہوگئی۔

اس بچے کے دنیا سے چلے جانے کے کچھ بعد اس کی خالہ کے بیٹے نے خود ہی اعتراف کر لیا کہ یہ سب اس نے کیا تھا اور معافی مانگی، اس کے شوہر نے یہ کہہ کر معاف کر دیا کہ اب ہمارا بچہ ہی نہیں رہا تو سزا دلوا کر کیا کریں، رپورٹ درج تو انہوں نے پہلے ہی نہیں کروائی تھی۔ اس نے بتایا کہ اب وہ مستقل گاؤں ہی جا رہی تھی۔ یہ سب سن کر میرے ذہن میں بس یہ سوال ابھر رہا تھا کہ کیا یہ دنیا انسانیت سے ہی خالی ہو گئی ہے۔ ایسی نگری بن گئی ہے جہاں اب کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔

نفس کا اتنا بھی کیا کمزور ہونا کہ خود پہ قابو ہی نہ رہے۔ ایسے نفس کے پجاری کو میں ”مرد“ ہی نہیں سمجھتی، کیونکہ کہ وہ مرد کہلانے کے قابل ہی نہیں۔ وہ تو ایسا بھوکا جانور ہے، جو انا، غصے، نفس اور ضد کا سہارا لے کر اپنی ہوس کو پورا کرتا ہے اور اپنی مردانگی کا ثبوت دیتا ہے۔ جبکہ وہ اس بات سے انجان ہے کہ وہ مرد ہی نہیں۔ وہ تو ایسا جانور ہے جس کو بس اپنی بھوک مٹانے سے غرض ہے، نہ ہی اسے حلال اور حرام میں فرق کرنا آتا ہے، اس کے اندر اس قسم کی کوئی حس ہی موجود نہیں۔ یا پھر وہ اپنی چاہ میں اتنا آگے بڑھ گیا کہ یہ سب فرق اس نے خود ہی ختم کر دیے۔

میں ہمیشہ یہ سوچتی ہوں کہ آخر قصور کیا تھا ان بچیوں کا؟ یہ کہ وہ ظالم درندوں کی دنیا میں انسان پیدا ہوگئی۔

اکثر لوگ جب ایسے کسی واقعے کے بارے میں سنتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان درندہ صفت لوگوں کو بھی بیٹی دے۔ مگر میں کہتی ہوں کہ اللہ ایسے لوگوں کو کبھی بیٹی نہ دے، جو لوگ دوسروں کی بیٹیوں کی عزت نہیں کر سکتے وہ اپنی کی کیا حفاظت کریں گے۔ اس بچی کا ایسے جانور کے گھر پیدا ہونا اس کے لیے بدعا ہے۔

ایسے جانور کو دنیا میں ہی ایسی اذیت ناک سزا ملی چاہیے کہ آئندہ کوئی اپنی چاہ میں آگے بڑھ کر انسان سے جانور بننے کے خیال سے ہی خوف کھائے۔

اللہ تعالیٰ کسی بھی معصوم پر ایسا وقت نہ لائے، سب کی حفاظت فرمائے اور آج کل کے بڑھے ہوئے واقعات جن میں سے کچھ کا ہمیں علم ہے لیکن بہت سے ہم انجان ہیں اللہ ان تمام بچیوں کے گھر والوں کو صبر دے جو اس ہوس کا نشانہ بنیں آمین۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •