فراڈ شیٹ کی کہانی

کثرت التفات ہو یا الزامات دونوں ہی برے ہیں۔ اگر طاقتور حلقے زندگی کا یہ سادہ راز سمجھ لیں تو بہت سی مشکلات آسان ہو سکتی ہیں۔ مگر طاقت کا خمار منطق کو ہر موڑ پر پسپا کرتا ہے۔ لہٰذا سمجھ بوجھ کی بات بھینس کے آگے بجائی بین کی طرح بے اثر ہی رہتی ہے۔ براڈ شیٹ سکینڈل کے معاملے میں کچھ ایسا ہی ہوا۔ اس گڑے مردے کو برطانوی عدالت کے ایک فیصلے نے اکھاڑا۔ مشرف دور میں

Read more

جنرل باجوہ ایکس ہوں گے یا ایکسٹینشن لیں گے؟

اس نظام کے بہت سے عذاب ہیں مگر ایک ٹینشن ایکسٹینشن کی بھی ہے۔ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اس سال کے آخر میں اپنے عہدے کی مدت پوری کر لیں گے۔ اگر کوئی اور نظام ہوتا تو شاید اس واقعے پر دو حرفی تجزیہ بھی نہ بنتا۔ ایک سطری خبر سے کام چل جاتا، لیکن چونکہ ہمیں تاریخ نے اس عزت سے نوازا ہے کہ ہم ایسے معاملات کو ملک کے مستقبل اور استحکام سے جوڑنے پر مجبور

Read more

میڈیا سینسر شپ: پاکستان بھی سعودی اور چینی ماڈل پر عمل پیرا؟

گذشتہ ہفتے پاکستان میں صحافیوں کی سب سے پرانی قومی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (ایف پی یو جے) کی فیڈرل ایگزیکٹیو کونسل نے سخت الفاظ پر مبنی ایک بیان جاری کیا جس میں دوسری باتوں کے علاوہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی سینسرشپ کی مذمت کی گئی تھی۔ ایف پی یو جے نے پارلیمان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ‘آزادیِ اظہار’ کا تحفظ کرنے کے لیے مشترکہ آواز بلند کرے جسے اس کے مطابق ‘ریاستی اداروں’ کے ہاتھوں

Read more

امریکی عزائم اور ہمارا طرز ِعمل

خدا جھوٹ نہ بلوائے، وزیر ِخارجہ شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس کا دورانیہ اُن کی امریکی وفد سے ملاقات کے دورانیے سے دوگنا تھا۔ امریکی وفد کی قیادت سیکرٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو کررہے تھے۔ اسلام آباد کے واشنگٹن سے تعلقات میں افسوس ناک بگاڑ کو چھپانے کے لیے کیا کیا ملمع کاری کی جارہی ہے۔ اور ایسا اُس وقت ہورہا ہے جب ملک بیرونی تنازعات اور مخاصمت کا مطلق متحمل نہیں ہوسکتا۔ یہ حقیقت اتنی قوی ہے کہ

Read more

تمام لوگوں کو ہمہ وقت بے وقوف بنانے کی کوشش

گزشتہ ہفتے دفتر ِخارجہ کے ترجمان اُس وقت بہت مشکل صورت ِحال سے دوچار دکھائی دئیے جب اُن سے واشنگٹن کی طرف سے سیکرٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو اور وزیر ِاعظم عمران خان کے درمیان ایک متنازع فون کال کے ٹرانسکرپٹ پر ردعمل دینے کا کہا گیا۔ وہ اس خبر کی تصدیق نہیں کرسکتے تھے کہ یہ بات اُن کے ادارے اور وزیر ِاعظم کے لیے شرمندگی کا باعث بنتی۔ لیکن وہ اس کی تردید بھی نہیں کرسکتے تھے کیونکہ

Read more

عمران خان اب اپنی آواز مدہم رکھیں، الفاظ کا وزن بڑھائیں

کبھی آواز بلند کرنے کا وقت ہوتا ہے، اورکبھی الفاظ۔ رہنما دونوں مواقع کا انتخاب دانشمندی سے کرتے ہیں۔ گزشتہ پانچ برسوں سے عمران خان، جو اب پاکستان کے بائیسویں وزیر ِاعظم منتخب ہوئے ہیں، نے درست موقع پر اپنی آواز بلند کی۔ بیانات کا کوڑا مخالفین پر خوب برسایا۔ آواز کی گولہ باری سے مخالفین کی ساکھ مسمار کی۔ حریفوں کو مجسم برائی قرار دیا۔ زہریلی نفرت میں بجھا ہوا بیانیہ ارزاں کیا۔ دراصل وہ قوم کی مایوسی کو

Read more

عمران خان کی خوش بختی

اس وقت اُن مسائل پر بات کی جارہی ہے جن کا ملک کے متوقع وزیر اعظم عمران خان کو سامنا کرنا پڑسکتا ہے، لیکن اُنہیں حاصل آسانیوں کا تذکرہ نہیں ہورہا ہے۔ مرکز میں کولیشن حکومت جیسے مسائل، انتخابی نتائج پر دھاندلی کے کھلے الزامات، قومی اسمبلی میں تگڑی اپوزیشن، سینیٹ میں عددی برتری کا نہ ہوناکسی بھی حکومت کے لیے کٹھن مسائل ہوسکتے ہیں۔ اور پی ٹی آئی کی حکومت تو ویسے بھی اصلاحات اور تبدیلی کے ایجنڈے کے

Read more

موجودہ انتخابات کی انفرادیت

آج پاکستان میں قومی انتخابات ہورہے ہیں۔ یہ انتخابات ہماری ڈگمگاتی ہوئی سیاسی تاریخ میں کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہونے جارہے، اور نہ ہی یہ آخری ہوں گے۔ لیکن ان سے پہلے چند ہفتوں کے دوران پیش آنے والے واقعات کو دیکھتے ہوئے، اور ا ن کے بعد پھیلنے والی افراتفری کا تصور کرتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ یہ انتخابات انتہائی منفر د ہوں گے ۔ بدقسمتی سے یہ پیشرفت اور انتخابات کے بعد کے امکانات روشن اور مستحکم

Read more

سیاسی کشمکش کا نقطہ ٔعروج

اس وقت نوازشریف حتمی سچ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اُن کے سامنے ’’آر یا پار‘‘ کی سی صورت ِحال ہے۔ اپنے سیاسی کیرئیر میں اُنہیں ایسے حالات کا کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا۔ لیکن وہ اس راہ کے اکیلے مسافر نہیں ہیں۔ اُن کے بھائی، اور اب مسلم لیگ ن کے چیف شہباز شریف بھی ایسے ہی بحران کی زد میں ہیں۔ یہ بحران اُ ن کے سیاسی عزائم، جبکہ وہ نواز شریف کے متبادل کے طور پر سامنے

Read more

انتخابات قریب، لیکن تبدیلی کہاں ہے؟

اس وقت ہم 2018 ء کے اہم انتخابی معرکے کے قریب ہیں،لیکن انتخابی ماحول مکدر ہوتا جارہا ہے ۔ اگرچہ ہر کسی کا کہنا ہے کہ موجودہ انتخابات ملکی تاریخ کے اہم ترین انتخابات ہوں گے، لیکن ان دعوئوں پر اعتماد کرنے کے لئے کوئی ٹھوس وجہ دکھائی نہیں دیتی۔ مجموعی طور پر تمام سیاسی ماحول اس قدر آلودہ ہوچکا ہے کہ اس سے دودھ اور شہد کی نہروں کا بہہ نکلنا محال ہے ۔ ا س کی بجائے کشمکش،

Read more

انتخابات کی پیش گوئی

قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں جیتنے اور ہارنے والوں کی پیش گوئی کرنا آسان نہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی طوطے کو بذریعہ فال ایسی ٹیم منتخب کرنے کا کہے جو فٹ بال ورلڈکپ جیت لے ۔ انتخابی سرگرمیوں کا بہتر جائزہ لینے ، اور صورت ِحال کو قبل ازوقت بھانپنے کے کچھ طریقے ہیں۔ لیکن یہ دو اور دو جمع چار والا معاملہ نہیں ہے۔ مندرجہ ذیل عوامل ہوا کا رخ جاننے میں معاون ثابت ہوسکتے

Read more

اُٹھتے ہیں حجاب آخر

حکومت کی پانچ سالہ آئینی مدت تمام ہونے پرملک میں عارضی سیاسی بھونچال دکھائی دے رہا ہے۔لیکن یہ ہنگامہ سطحی ہے۔ اس کے نیچے مخفی توانائی رکھنے والی ایک زبردست لہر موجود ہے۔ عین ممکن ہے کہ ملک کے سیاسی منظر نامے پر نظر رکھنے والے بہت سے مبصرین اسے نہ دیکھ پارہے ہوں۔ اور یہ بات قابل ِ فہم ہے ۔نگراں حکومتوں، حلقہ بندیوں اور حتیٰ کہ انتخابی فارمز پر ہنگامے سے اٹھنے والی گرد اتنی دبیز ہے کہ

Read more

سچائی ظاہر ہوکر رہتی ہے

سچائی کو سلام! اسے نہ دیر تک دبایا جاسکتا ہے نہ چھپایا۔ یہ غیر متوقع مقامات، عجیب اوقات اور غیر معمولی طریقوں سے ابھر کر سامنے آجاتی ہے ۔ اُس وقت اسے چھپانے والوں، یا اس کا گلا گھونٹنے والوں کو سبکی اور ندامت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ایک عظیم ادارے کی طاقت، جو قسمت نے اُس کی کمان میں دے دی، کو استعمال کرتے ہوئے اپنا کیرئیر بنانے کا متمنی ایک طاقتور آرمی چیف، اپنی محفوظ پوزیشن

Read more

امریکی اور ہماری حادثاتی قوم پرستی

ملک کی حکمران اشرافیہ اور آبادی کے کچھ دھڑے اس پر انتہائی مشتعل ہیں کہ واشنگٹن نے ہمارے سفارت کاروں کی حرکات و سکنات محدود کردی ہیں۔ یہ پابندیاں اُن کی معمول کی سماجی اور سرکاری سرگرمیوں کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ ان دھڑوں کے نزدیک اسلام آباد کو بھی واشنگٹن کو انہی سکوں میں جواب دیتے ہوئے امریکی سفارتی عملے کو حاصل بہت سی مراعات واپس لے لینی چاہئیں۔ ان کے نزدیک قومی غیرت ایسے اقدامات کا ہی تقاضا

Read more

شیر دریا کے قریب ہے

انسانوں کا جدید زندگی اپنانے اور سوچ بچار کا حامل جاندار بننے کا ارتقائی عمل کم و بیش دو لاکھ سال پر محیط ہے۔ اس دوران 70,000 سے لے کر 32,000 سال قبل کے ہزاری سال(millennia) بہت اہمیت کے حامل تھے۔ یہ وہ عرصہ تھا جب انسانوں نے زبان اور ابلاغ کی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا۔ ایسا کرتے ہوئے وہ دیگر تمام جانداروں سے ممتاز حیثیت اختیار کرگئے۔ حیوانات کی دنیا میں ہماری برتری کی وضاحت یوول نوح حریری(Yuval Noah

Read more