پائلو کاہلو کی Adultery، مولانا رومی اور محبت کے چالیس اصول

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چیزوں، آسائشوں اور سہولیات کا انتخاب ایک آسان حل ہے مگر ان سب کو ٹھکرا کر یا آتش نمرود میں بے خوف کود جانا ایک بہت مشکل چناؤ ہے جسے کرنے کی ہمت محض چند انسان کر پاتے ہیں۔ زندگی میں بہت بار انسان رستوں میں بیٹھ کر یہ سوچنے لگتا ہے کہ اس کے ہاتھ کیا آیا۔ ایلا بھی یہ سوچتی ہے اور پھر بالآخر اس زندگی کو رد کر دیتی ہے جو اس کے دامن میں محض خالی پن پیدا کر سکا۔ دوسری طرف سوئٹزر لینڈ کی لنڈا کی محبت اس کے لئے ایک خسارہ تھی۔

اس کی زندگی مکمل تھی اس محبت کے بغیر بھی جو اسے دکھائی نہیں دیتی۔ محض ہیجان کی کمی کے علاؤہ اسے اپنی زندگی کی کاملیت سے کوئی شکایت نہ تھی۔ اگرچہ ایک بظاہر مکمل زندگی میں اس روح کی کمی اسے بھی تھی جو بے شمار مادی نعمتوں کے ہوتے بھی مل نہیں پاتا۔ مگر وہ پہچان نہ پائی اور وہی سکون ایک تعلق بنا لینے کے باوجود وہ حاصل کرنے سے قاصر رہی۔ وہ سکوں جو ایلا بغیر کوئی ناجائز تعلق بنائے اور نبھائے اپنی زندگی سے کشید کر لیتی ہے۔

ایک ایسا سکون جو اس کے گھر، میاں اور بچوں سے بڑھ کر تھا۔ ایک سچے تعلق کے ہونے کا یقین، ایک وجود کے ہمیشہ اپنے ساتھ ہونے کا سکوں، دو لوگوں کے لئے ایک دوسرے کے لئے لازم ملزوم ہونے کا احساس بغیر کسی مجبوری بغیر کسی عزر کے۔ آخری سانس لیتے شخص کے ساتھ زندگی کے کچھ پل گزار دینے کا سودا جہاں ایلا کو عمر بھر سے قیمتی لگتا ہے وہیں لنڈا کو اپنی بے مائیگی اور بے معانی خواہشات کا ادراک ہوتا ہے اور وہ لوٹ کر اپنی اسی زندگی کی طرف آتی ہے جو بلآخر اس کا بہترین مقام اور پناہ گاہ ثابت ہوتی ہے۔

۔ رسائی اور نارسائی ایلا اور لنڈا کے بیچ بنیادی فرق رہا۔ سب کچھ لٹا کر ایلا اس رسائی تک جا پہنچتی ہے جو کچھ ہی عرصے میں اس کی صدیوں کی پیاس کو سیراب کر دیتی ہے جب کہ رسائی پا کر بھی نارسائی بلآخر لنڈا کا مقدر بنتی ہے۔ ان دونوں کرداروں کو ملا کر قدرت کا ایک قانون بھی واضح طور پر سامنے آتا ہے کہ جس میں سیدھے رستے کا مسافر منزل نہ پا کر بھی شادماں و کامران ٹھرتا ہے اور بھٹکا ہوا راہی منزل پر پہنچ کر بھی ہمیشہ ادھورا رہتا ہے۔

ایلا اور لنڈا کے دو کردار مشرق اور مغرب کے دو کرداروں کے ساتھ ان کی فلاسفی، مزاہب، روایات اور تہزیبوں کا بھی گھمبیر مطالعہ ہیں۔ لنڈا کا کردار جہاں یہ واضح کرتا ہے کہ مادی ضروریات انسان کے روحانی عذابوں کے زخم مدہم نہیں کر سکتے وہیں یہ سیکھ بھی دیتے ہیں کہ بہت سی روحانی ضروریات جسموں اور دنیا سے بڑھ کر ہوتی ہیں اور ان ضرورتوں میں سے سب سے بڑی محبت ہے۔ چاہے اس کی تعریف رومی کے الفاظ میں ایلف شفق نے لکھی ہو:

”محبت کو ترجیح دو! محبت کی مٹھاس کے بغیر زندگی ایک اذیت ہے۔ “

یا پاؤلو کاہلو کے الفاظ میں

”بھرپور زندگی جینے کے لئے بھرپور محبت کی ضرورت ہے“۔

زندگی کے سب ضابطے اور اخلاق محبت کے اس تعلق کے بغیر ادھورے ہیں پھر چاہے وہ مشرق کے ہوں یا مغرب کے۔ رشتوں اور تعلقات میں محبت کا زندہ وجودانسانوں میں روح کے وجود کی طرح اہم ہے۔ بشرطیکہ اس کی اصل روح اور اہمیت کو سمجھا جائے۔

بقول پاؤلو کاہلو

”زندگی ہمیں سیکھنے کے ہزاروں مواقع دیتی یے۔ ہر انسان چاہے وہ مرد ہو یا عورت، اپنی زندگی کے ہر لمحے میں محبت کے در پر سجدہ ریز ہونے کے کئی موقع پاتا ہے۔ زندگی طویل تعطیلات کا نام نہیں، یہ تو ایک سیکھتے رہنے کا عمل ہے۔

اور سب سے اہم سبق محبت سیکھنا ہے ”

اور اسی بات کو رومی کی زبان میں فورٹی رولز آف لو میں اس طرح بیان کیا گیا ہے ”لوگ چاہے کچھ بھی کہتے رہیں، محبت وہ خوشبو کی لہر نہیں جو محض آئے گی اور چھو کر چلے جائے گی“۔ ”محبت کی زندگی کا اصل اور مقصد ہے“۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •