منظور پشتین، کیا آپ پاکستانی ہیں؟ فرنود عالم انٹرویو لیتے ہیں


ایک اہم اور بہت بنیادی سوال یہ ہے کہ آپ کا اور طالبان کا بیانیہ ایک کیوں ہے؟

جواب: یہ بھی آپ نے مجھے سمجھانا ہوگا کہ ہمارا اور ان کا بیانیہ ایک کیسے ہے؟ طالبان تو آئین کو نہیں مانتے تھے، ہم کہتے ہیں کہ ہمارے بیچ فیصلہ کن حیثیت ہی آئین کو حاصل ہے۔ طالبان پارلیمنٹ اور جہوریت کو نہیں مانتے تھے۔ ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں اور اپنے معاملے میں بات چیت کے لیے ہم پارلیمنٹ کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ طالبان کا مسئلہ اسلام کا نفاذ تھا ہمارا مسئلہ بنیادی انسانی حقوق کا ہے۔ طالبان بندوق کو برتری کی بنیاد سمجھتے تھے ہم عوام کی خواہشات کو سمجھتے ہیں۔

ہمارے اور طالبان کے بیانیے کو جو ایک کہا جارہا ہے اس کی بنیاد صرف ایک نقطہ ہے۔ وہ یہ کہ یہ باور کرواتے ہیں کہ طالبان بھی ان کے خلاف تھے ہم بھی ان کے خلاف ہیں۔ یہ بھی ایک گمراہ کن بات ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ طالبان کو ریاستی سرپرستی حاصل تھی۔ ابھی بھی وہ ریاستی سرپرستی میں ہی وہاں موجود ہیں۔

ہم تو آپ سے کہہ رہے ہیں احسان اللہ احسان اور اس جیسے باقی طالبان کمانڈر جو اپنے اپنے علاقوں میں زندہ موجود ہیں ابھی بھی دہشت گردی کی تربیت گاہیں چلارہے ہیں ان کو پکڑ کے سزائیں دیں مگر آپ ہی نے ان کو سنبھال کے رکھا ہوا ہے۔ یہاں بیانیہ ایک جیسے ہونے کا سوال کیسے پیدا ہوگیا؟ یہ سوال صرف اس لیے پیدا ہورہا ہے کہ ہم صرف طالبان ہی نہیں ان کے سرپرستوں کا بھی احتساب چاہتے ہیں۔ اب چونکہ اس سے سرپرستوں پر زد پڑتی ہے تو وہ ہمیں دہشت گردوں کا روپ دینے کے خواہشمند ہیں۔

آپ حکومت کی بات نہیں کرتے، ہمیشہ ریاست کو نشانے پر رکھتے ہیں۔ کیوں؟

جواب: کیونکہ ہمارے جو معاملات ہیں اس کا تعلق حکومتوں سے نہیں ہے۔ ریاستی پالیسیوں سے اس کا تعلق ہے۔ سن سینتالیس سے اب تک بیسیوں حکومتیں آ کر چلی گئی ہیں مگر ریاست کی پالیسی وہیں کھڑی ہے۔ ریاست کی بالادست طاقت پارلیمنٹ ہے مگر سیکیورٹی اداروں نے اس کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ ان اداروں نے اپنے ادارہ جاتی مفادات کو ملکی یا قومی مفاد قرار دیا ہوا ہے۔ عوامی مفاد اور عوامی فیصلوں کو ملک دشمنی اور جہالت سے تعبیر کیا ہوا ہے۔ ہم بات تو عوامی اداروں سے ہی کریں گے مگر اس احساس کے ساتھ کہ وہ با اختیار نہیں ہیں۔ ہم ان سے بات کرلیں گے مگر بات میں اگر کسی قسم کی کوئی رکاوٹ ہو تو پھر وہ قوم کو بتادیں کہ رکاوٹوں کا سامنا انہیں کہاں سے ہے۔

لیکن جب آپ کو جرگوں میں بلایا جاتا ہے تو آپ کیوں نہیں جاتے؟

جواب: آپ ایک جرگے کی نشاندہی کردیں کہ جہاں مجھے بلایا گیا ہو اور میں نہ گیا ہوں۔ میں ہرجرگے میں جاتا ہوں مگر جب میں وہاں کہتا ہوں اس جرگے کو نوٹیفائی کریں یا اس جرگے کو کچھ آئینی حیثیت دیدیں تو پھر اس جرگے کی اگلی تاریخ کا کوئی تعین ہی نہیں کرتا۔ بات وہیں ختم ہوجاتی ہے۔ جرگہ میری خواہش نہیں ہے میں پھر بھی اس کا حصہ بننے کے لیے آمادہ ہوا ہوں۔

جرگہ توآپ کے خطے کی ایک عظیم روایت ہے، اس روایت کے تحت بڑے بڑے تنازعات کا تصفیہ ہوتا ہے، پھر آپ کیوں کہہ رہے ہیں کہ یہ میری خواہش نہیں ہے؟

جواب: بات یہ ہے کہ جرگہ دو فریق کے بیچ ہوتا ہے۔ ہم ریاست کے مقابلے میں کوئی فریق نہیں ہیں بلکہ ہم تو اس کے شہری ہیں۔ ریاست اور شہری کے بیچ جرگے فیصلے نہیں کرتے بلکہ آئین فیصلہ کرتا ہے۔ ان تحفظات کے باوجود ہم جرگے کے لیے تیار ہیں مگر اتنا سا تقاضا ہم کرتے ہیں کہ جرگے کو کوئی آئینی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔

کیا آپ کو نہیں لگتا کہ آپ ریاست یاریاستی اداروں کے خلاف سخت زبان استعمال کرکے اپنی حب الوطنی پر سوالیہ نشان لگا رہے ہیں؟

جواب: زبان سخت نہیں ہے بات سچی ہے۔ اردو کی کہاوت ہے کہ سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے۔ باقی حب الوطنی جیسے فلسفوں پر میں زیادہ یقین نہیں رکھتا۔ میں اس ریاست کا شہری ہوں۔ میں ریاست کے آئین اور قانون کا پابند ہوں۔ اگر میں آئین و قانون کی پابندی کرتا ہوں تو میں اچھا شہری ہوں۔ اگر پابندی نہیں کرتا تو میں اچھا شہری نہیں ہوں۔

میرے ساتھ سزا و جزا کا معاملہ بھی اسی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ یہاں مسئلہ یہ ہے کہ کسی شہری کے اچھا اور برا ہونے کی بنیاد آئین وقانون نہیں ہے بلکہ سیکیورٹی اداروں کے مفادات ہیں۔ اگر کوئی ان کے مفادات سے متفق ہے تو وہ اچھا شہری ہے اب چاہے وہ آئین و قانون کی کتنی ہی خلاف ورزی کرتا ہو۔ جو ان کے مفادات کو قومی مفاد نہیں مانتا یہ اسے برا شہری قرار دیتے ہیں چاہے وہ آئین و قانون کا کتنا ہی پابند شہری ہو۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2