کئی چاند تھے سر آسمان از شمس الرحمن فاروقی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اردو ادب کا دامن ناول نگاری کے حوالے سے

زیادہ زرخیز نہیں ہے، جتنے بہترین ناول لکھے گئے ہیں وہ سب انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ اگر اردو کے بہترین ناولوں کی فہرست مرتب کی جائے اس میں شمس الرحمن فاروقی کا ”کئی چاند تھے سر آسمان“ یقیناً پہلے دس ناولوں میں شمار ہو گا۔ اس ناول کا عنوان احمد مشتاق کے شعر سے ماخوذ کیا گیا ہے ؛

کئی چاند تھے سر آسمان کہ چمک چمک کے پلٹ گئے
نہ لہو مرے ہی جگر میں تھا نہ تمھاری زلف سیاہ تھی
(کلیات احمد مشتاق، شب خون کتاب گھر)

اس کہانی کا مرکزی کردار وزیر خانم عرف چھوٹی بیگم ہیں جو دبستان دہلی کے نمائندہ شاعر داغ دہلوی کی والدہ ہیں۔ وزیر خانم کے جد امجد راجستھان کے گاؤں کشن گڈھ کے مصور تھے۔ گاؤں میں راجہ کے استقبال کے لئے میاں مخصوص اللہ ایک تصویر بناتا ہے اور اسے گھر کے باہر آویزاں کر دیتا ہے۔ یہ خیالی تصویر راجہ کی بیٹی سے غیر معمولی شباہت رکھتی ہے جس کے نتیجے میں راجہ اپنی بیٹی کو قتل کرتا ہے اور میاں مخصوص اللہ وطن بدر ہو کر کشمیر آ بستا ہے اور یہاں قالین بافی سیکھ کر اس ہنر کا امام کہلاتا ہے۔

اس کا بیٹا یحییٰ بھی باپ کے پیشے کو آگے بڑھاتا ہے۔ یحییٰ کے بیٹے یعقوب اور داود تجارت اور موسیقی کو اپناتے ہیں اور باپ کی وفات کے بعد اپنے آبائی گاؤں جا بستے ہیں۔ وہاں دونوں بھائی سادہ کاری اختیار کرتے ہیں۔ یعقوب کے ہاں یوسف کی پیدائش ہوتی ہے۔ یعقوب اور داود انگریز فوج کا ساتھ دیتے ہوئے مرہٹوں کے ایک حملے میں ہلاک ہو جاتے ہیں اور یوسف کی پرورش ایک ڈیرے دار طوائف کرتی ہے اور اسی کی بیٹی سے یوسف کی شادی ہوتی ہے۔

یوسف کے ہاں تین بیٹیوں کی ولادت ہوتی ہے ؛ انوری خانم عرف بڑی بیگم، عمدہ خانم عرف منجھلی بیگم اور وزیر خانم عرف چھوٹی بیگم۔ وزیر خانم ایک ایسی لڑکی کا کردار ہے جو غیر معمولی حسن اور ذہانت کی مالک ہے اور نشست و برخاست کے طریقے بھی خوب جانتی ہے۔ اس کے خواب بہت بڑے ہیں اور وہ شہزادیوں سی زندگی چاہتی ہے۔ اس کی سوچ روایات سے ہٹ کر ہے۔ وزیر خانم کے حسن کی طرح اس کی زندگی بھی غیر معمولی نشیب و فراز سے گزرتی ہے۔

وزیر خانم اور مارسٹن بلیک کے دو بچے ہوتے ہیں صوفیہ اور امیر مرزا۔ مارسٹن کے بلیک کے قتل کے بعد وزیر بیگم کا تعلق لوہارو کے نواب شمس الدین الملک سے استوار ہوتا اور نواب مرزا داغ دہلوی کی پیدائش ہوتی ہے۔ نواب کو فریزر کے قتل میں پھانسی ہو جاتی ہے اور چھوٹی بیگم کا پہلا نکاح منجھلی بیگم کے دیور آغا نواب علی سے ہو جاتا ہے اور آغا مرزا تراب علی کی پیدائش ہوتی ہے۔ سفر کے دوران ٹھگوں کے ہاتھوں نواب کا قتل ہوتا ہے اور چھوٹی بیگم بہادر شاہ ظفر کے ولی عہد مرزا فتح الملک عرف مرزا فخرو کے عقد میں آتی ہیں اور شوکت محل خطاب پاتی ہیں۔ میرزا خورشید عالم کی پیدائش ہوتی ہے۔ مرزا فخرو کے انتقال کے بعد چھوٹی بیگم کو قلعے سے رخصتی کا پروانہ تھما دیا جاتا ہے۔

ناول انیسویں صدی کے برصغیر کی مکمل تصویر ہے۔ یہ وہ دور ہے جب مغلیہ سلطنت کے تابوت میں آخری کیل گاڑی جا رہی ہے ایک شاندار تہذیب رخصت ہو رہی ہے اور خارجی قوتیں قابض ہو رہی ہیں۔ اس ناول میں مذہب، روایات، زبان، ثقافت، محلاتی سازشیں، آداب، غرض ہر تار کو اس قدر باریکی سے پرویا گیا ہے کہ ایک ڈوبتی ہوں تہذیب کے تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے۔ مصنف نے ہر کردار، واقعے اور چیز کو اس باریکی سے بیان کیا ہے کہ ہر منظر متحرک نظر آتا ہے اب وہ قالین بننے کا منظر ہو یا وزیر خانم کا لباس ہو، نواب شمس الدین سے گفت و شنید ہو یا مرزا فخرو سے پہلی ملاقات، کھوجیوں کا واقعہ ہو یا بنی ٹھنی کی تصویر کا بیان۔

ناول کے اسلوب پر داستان امیر حمزہ کا اثر بھی جھلکتا ہے جو کہ افسانہ گوئی کی بہترین مثال ہے۔ تاریخی واقعات کی صحت کا خیال رکھا گیا ہے اور حوالے کتاب میں دستیاب ہیں مگر یہ تاریخی کتاب پرگز نہیں ہے۔ یہ ناول فکشن اور تاریخ کا خوبصورت اور انوکھا امتزاج ہے۔ ناول میں کرداروں کا بیان انتہائی دلچسپ ارو جیتا جاگتا ہے خصوصاً مرزا غالب کا۔ ناول کی زبان سہل نہیں ہے مگر جس زمانے کا یہ بیانیہ ہے اس کے عین مطابق ہے۔

فارسی کے اشعار اور محاورات کا استعمال کہانی کو مزید نکھارتے ہیں۔ چونکہ ہمارے ہاں ناول زیادہ نہیں لکھے گئے اس لیے ناول پڑھنے کی روایت بھی پروان نہیں چڑھ سکی اور قاری میں ضخیم ناول پڑھنے کا حوصلہ مفقود ہے۔ بعض مقامات پر قاری کو لگتا ہے کہ واقعات یا کردار کا بیان زیادہ طول پکڑ گیا ہے مگر یہی تفصیل واقعات کا حقیقی رنگ ابھار کر سامنے لاتے ہیں جیسے کہ نواب شمس الدین اور مرزا غالب کی چپقلش کو بہت تفصیل سے لکھا گیا جس سے آئندہ کے ابواب میں اندازہ ہو جاتا ہے کہ داغ دہلوی نے مرزا غالب کی شاگردی کیوں نہیں اختیار کی۔ تقابلی لحاظ سے نہیں مگر اردو ادب کیے تاریخی ادوار کے مطابق اگر قرۃالعین حیدر کے آگ کے دریا کے بعد کوئی ناول لکھا گیا ہے تو وہ شمس الرحمن فاروقی کا کئی چاند تھے سر آسمان ہے۔

شمس الرحمن فاروقی کی لسانی اور تحقیقی قوتیں اس ناول میں یکجا ہیں جو اپنی روانی کی وجہ سے قاری کو ناول کے شروع میں اپنی گرفت میں لیتی ہیں اور اختتام تک بری طرح جکڑ کر اپنے طلسم میں قید کر لیتی ہیں۔

ناول کی اشاعت سے پہلے اس کہانی کے کچھ حصے مختلف رسائل میں شائع ہوئے۔ کئی چاند تھے سر آسمان کا پہلا آڈیشن پاکستان سے شہرزاد نے 2006 میں شائع کیا اور ہندوستان میں پینگوئن گروپ نے اس کا پہلا آڈیشن 2006 میں شائع کیا۔ انگریزی میں اس کا ترجمہ the mirror of beauty کے نام سے ہوا ہے۔ یہ ناول ہر اعتبار سے اردو ادب کا شاہکار ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •