مدارس پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا غیر متوقع بیان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکومت نام کی کوئی چیز، وزیر تعلیم اور وزیر مذہبی امور کیا موجو ہیں؟ اگر ان کا کوئی وجود ہے تو پھر DG ISPR کو غیر فوجی معاملات آخر پریس کانفرنس میں لانے کی زحمت کیوں کرنی پڑی؟ مدارس کی نمائندہ شخصیات سے حکومتی زعماء کا ڈائیلاگ جاری تھا۔ وہ کافی معاملات جو پہلے سے مذاکر ات کا حصہ رہے ان میں ایک نکتے پر واضح باہمی رضامندی تھی کہ حکومت کسی بھی حتمی فیصلے یا اعلان سے قبل مدارس کو اعتماد میں لے گی۔ مگر وہ وعدہ ہی کیا جو ایفا بھی ہو، یوں جب یک طرفہ فیصلہ کر ہی لیا گیا تو سیلیکٹڈ حکومت نے خود میڈیا پہ آنے کی جرات نہیں کی بلکہ DG ISPR کو پریس کانفرنس کرنے کی زحمت دی گئی۔ محترم ادارے نے بھی یوں ہر قسم کے ردعمل اور توپوں کا رخ اپنی طرف کر لیا ہے۔ لے دے زیادہ ہوئی اور اپوزیشن نے بھی بھرپور مدارس کا ساتھ دیا تو کہا جا سکے گا کہ محترم ادارے کے خلاف سازش ہوئی ہے۔

وہ دو طبقات جو ضیائی مارشل لاء سے حلیف رہے اور بینظیر جن کو ایک دلچسپ سیاسی نام سے پکارا کرتی تھیں : ملاں ملٹری الائنس، جس میں ملاں برابر کا حلیف تو نہیں تھا بلکہ بوقت ضرورت اس کا بیدردی سے استعمال و استحصال کیا گیا۔ چندوں کی رقم سے کلاشنکوفیں لے کر انہوں نے جہادِ افغانستان میں پاک فوج کی چھتری تلے اپنا خون بہایا۔ نہ لڑنے کا معاوضہ، نہ شھادت کے بعد تمغہ، نہ غریب ماں باپ کے لیے پنشن اور نہ ہی کوئی اور ڈیمانڈ۔ اتنے سستے جنگجو تو صلاح الدین ایوبی کو ملے ہوں گے نہ ہی کسی اور فاتح و مفتوح کو۔

مولوی اپنے اقتدار کے لیے کبھی متحرک نہیں ہوا بلکہ ناموسِ رسالت، ختمِ نبوت اور نظامِ مصطفی ہی ہمیشہ اس کے مطمعِ نظر رہے۔ ان کی جائز ڈیمانڈ پر سیاسی راہنما بھٹو نے آئین میں خدا کی حاکمیت اور قرآن و حدیث کو قانون کا سرچشمہ قرار دیا۔ مگر اس نے جب انتخابات میں زبردست دھاندلی کی تو اس کے خلاف علماء و مذہبی عوام نے تحریک نظامِ مصطفی چلائی جسے بعدازاں ملٹری چیف نے ہائی جیک کر لیا اور نظام مصطفی کے دیرینہ مطالبے کو اپنی حکومت کے دوام کے لیے استعمال کیا مگر ہزار وعدوں کے باوجود اس کا نفاذ نہیں کیا۔

بلکہ انہی علماء کو حلیف بنا کر انہیں افغان جنگ میں جھونک دیا۔ دنیا نے دیکھا کہ یہی مولوی حضرات افغان بھائیوں کے شانہ بشانہ روسی سپاہ سے ٹکرا گئے۔ مگر وہ آئے نہیں بلکہ لائے گئے تھے، امریکی شہہ پر عجلت میں ان کے نصاب میں جہادی مواد کی بھر مار کر دی گئی کیونکہ مردِ مومن و مردِ حق کا فیصلہ تھا۔ وہ کرائے کے قاتل نہیں بلکہ ایمان و تقوی کی مثال انمول اسلامی جنگجو تھے۔ مفت کے جہادیوں کی بھرتی کے لیے علماء کا استعمال اور ان کے مدارس کا استحصال کیا گیا جنہیں عملاً جہاد کی نرسریاں اور ریکروٹنگ پوائنٹس بنا دیا گیا تھا۔ مگر روس کو افغانستان سے نکال پھینکنے کے بعد ان مجاہدین کو ٹشو پیپر کیطرح تلف کر دیا گیا، اور اب ان کے علماء و مدارس کھٹکنے لگے ہیں۔ ایں چہ معنی دارد

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •