ماہ صیام میں سعودی خیرات۔ ہم خرما و ہم ثواب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماہ رمضان کے آغاز پر امدادی خورد و نوش کی اشیا کے پیکٹوں کواپنے سامنے عقیدت سے رکھے باد شاہ عرب کو دعائیں دیتی گلگت بلتستان کے خواتین کی تصاویر یہاں کے مکینوں کے لئے ہی نہیں بلکہ ان علاقوں کو جاننے والوں کے لئے بھی تعجب کا باعث بنیں۔ وہ علاقہ جہاں شہریوں نے رضاکارانہ طور پلاسٹک کی تھیلیوں سے پاک کرکے حال ہی میں نہ صرف پورے ملک کے لئے قابل تقلید مثال قائم کی بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں بھی پہلا ایسا علاقہ ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

بھیک اور خیرات کی اس نمائش نے دنیا کو اس لئے بھی متحیر کردیا کہ ایک ایسا علاقہ جہاں سڑک پر بھیک مانگتے ہوئے کوئی نہیں ملتا، جہاں شرح خواندگی ملک بھر میں زیادہ ہے، مردوں کے علاوہ خواتین بھی ہنر مند، باہمت اور بہادر ہیں وہ اگر اتنی بڑی تعداد میں خیرات کے لئے جمع ہوں تو دوسرے علاقوں کی جو صورت حال ہوسکتی ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل بھی نہیں۔ مگر مثبت خبر یہ ہے کہ یہ سب مثبت خبریں دینے والوں کے سامنے ہی ہورہا تھا۔

ماہ صیام تمام مسلمانوں کے لئے برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہوتا ہے جس میں لوگ زیادہ سے زیادہ تقویٰ، پرہیزگاری، نفلی عبادات کے ساتھ خیرات و صدقات کے ذریعے خلق خدا کی خدمت کرکے اللہ کی خوشنودی اور رضا کے حصول کی سعی کرتے ہیں۔ زکواۃ اور فطرہ بھی اسی مہینے میں ادا کی جاتی ہے جس سے اسلامی نظام معاشرت و معشیت میں غرباء اور مساکین کو بھی رب کے دیے وسائل میں شامل کرکے نیکیاں کمانے کا موقع مل جاتا ہے۔ اسلام کے انفرادی صدقے کے اس نظام کو فطرہ اور اس ماہ کے اختتام پر منائی جانے والی عید کو اس نسبت سے عید الفطر کہا گیا ہے۔

مسلمانوں کے ہاں لازمی زکواۃ اور فطرہ کے علاوہ بھی رضا کارانہ خیرات و صدقات کی روایات بھی روز اول سے ہی چلی آرہی ہیں۔ صدقے اورخیرات حسب توفیق و منشا مجبوروں، بے کسوں، اور محتاج اور نادار لوگوں کی حاجت روائی کے لئے دی جاتی ہے۔ قدیم دور میں جب آمد و رفت کے زرائع محدود اور مسافت مصائب سے بھرپور ہوا کرتی تھی تو مسافروں کے لئے طعام و قیام اور سہولت مہیا کرنا ایک پسندیدہ عمل ہوا کرتا تھا لیکن اب وقت کے ساتھ سفر کی جدید سہولتوں نے یہ مصائب کم کر دیے ہیں تومسافروں کے لئے صدقات و خیرات کی روایات بھی معدوم ہوگئی ہیں۔ مگر غرباء اور مساکین کو کھانا کھلانا اور بیماروں کی امداد کرنا جیسی قدیم روایات اب بھی موجود ہیں جن کو خصوصی طور پراس مقدس مہینے میں جاری رکھا جاتا ہے۔

دنیا بھر میں غربا ءاور ناداروں کی مدد کرنے کے دو طریقے مروج ہیں۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ غربا ء اور مساکین کو ان کی فوری ضروریات بطور صدقہ و خیرات پوری کی جائیں۔ چونکہ صدقہ دینے والے کے لئے باعث ثواب ہے جس کے لئے صدقہ لینے والے کا بھی موجود ہونا ضروری ہے۔ صدقہ دینے والوں کی اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ہمارے ہاں ضرورت مندوں نے خیرات و صدقات لینے کو بطور پیشہ بھی اختیار کیا ہوا ہے۔ سنا ہے کہ اس پیشے میں اتنی ترقی ہوئی ہے کہ مدینہ اور مکّہ کی گلیاں بھی ہمارے ہاں سے گئے گداگروں سے آباد رہتی ہیں تاکہ وہاں بھی نیکیاں کمانے کے خواہشمند ثواب دارین سے محروم نہ رہیں۔

ہندوستان میں قدیم دور سے بھیک مانگنے کی روایات بھی یہاں کے عقائد کا حصہ رہی ہیں۔ تپسیا کے عمل میں یوگی اور تپسوی ضروریات زندگی بالخصوص خورد و نوش کے لئے بھیک کا سہارا لیتے ہیں جس کو بھیکشا کہا جاتا ہے۔ اس عقیدے کے مطابق نہ صرف بھیک دینا ثواب سمجھا جا تا ہے بلکہ اس طرح کی بھیک مانگنے کو بھی عبادت کا درجہ حاصل ہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں میں اس عمل کو پیشہ ورفقیروں اور ملنگوں نے جاری رکھا ہواہے جو سال بھر زور و شور سے جاری رہتا ہے۔

پرانے وقتوں میں بادشاہ و سلاطین ماہ صیام میں خیرات و صدقات دینے کا خصوصی بندوبست کیا کرتے تھے۔ ملک بھر سے ضرورت مند، مساکین اور غرباء محلات کے سامنے قطاریں بنا کر خیرات وصول کرتے اور دینے والے کی دراز عمری اور صحت کے لئے دعائیں دیتے تھے۔ باشاہوں اور سلاطین کے بعد اس روایت کو امراء اور صاحب ثروت لوگوں نے بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ امراء اور صاحب ثروت لوگ اپنے ہاتھوں سے خیرات و صدقات دینے کو بھی احسن سمجھتے ہیں۔

کچھ سال پہلے کراچی شہر میں خیرات کی تقسیم کے دوران لوگوں کی دھکم پیل میں کچل کر وفات پاجانے کے بعد اس کے طریقہ کار پر سخت تنقید ہوئی۔ اس طرح کے صدقات و خیرات دینے کے لئے باقاعدہ ادارے بھی بنے ہوئے ہیں جوامراء سے پیسے لے کر غربا ء تک پہنچاتے ہیں۔ مگر خیرات و صدقات کی انفرادی طور پر تقسیم کا رواج اب بھی موجود ہے۔

غربا ء اور ناداروں کی مدد کرنے کا دوسرا طریقہ ایک چینی کہاؤت کی بنیاد پر استوار کیا گیا ہے جس کے تحت کسی بھوکے شخص کومچھلی مہیا کرنے کے بجائے اس کو مچھلی پکڑنے کا طریقہ سکھایا جائے تاکہ وہ ہر وقت پیٹ بھرنے کے قابل ہو سکے۔ امداد کا یہ طریقہ زیادہ آسان اور دیر پا ہوتا ہے جس کو کئی ممالک نے پائیدارترقی سے بھی جوڑا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں صدقات اور خیرات کی شرح سالانہ ترقیاتی اخراجات کے برابر یا ملک کی بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو سالانہ ادا کی جانے والی قرضوں کی رقم کے برابر ہوتی ہے۔ لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ اس قدر زیادہ صدقات اور خیرات کے باوجودملک میں غربت کی شرح میں کوئی خاطر خواہ کمی نہ آسکی۔

کسی بھی معاشرے میں موجود غربت کی اپنی وجوہات ہو تی ہیں۔ کہیں وسائل کی کمی ہوتی ہے اور کہیں ان وسائل کو بروئے کار لانے میں کوتاہی وجہ بنتی ہے۔ ہیروں اور تیل کی دولت سے مالا مال افریقی ممالک غربت اور افلاس کی آخری سطحوں پر ہیں جبکہ جاپان اور کوریا جہاں نہ گندم پوری پیدا کی جاتی ہے نہ سبزیاں اور نہ ہی تیل جیسی دولت کا کوئی تصور ہے مگر غربت کا نام و نشان نہیں اوروہ ترقی کے آخری مدارج سے بھی آگے ہیں۔ اگر ان ممالک کی غربت اور ترقی دونوں کی وجوہات کا تجزیہ کیا جائے تو بہ آسانی جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ ایک تو طرز حکمرانی ہے اور دوسری بات انسانی وسائل کی ترقی پر سرمایہ کاری ہے جو دوسرے وسائل کو پیدا کرنے اور بروئے کار لانے میں مدد گار ثابت ہوئے۔

ہنر اور فن سکھانے کے چھوٹے اداروں سے لے کر دنیا کی بڑی جامعات تک انسانی وسائل کی ترقی اور فروغ کی سرپرستی اور مدد نہ صرف حکومتیں کرتی ہیں بلکہ مخیر لوگ بھی اپنے وسائل سے خراج نکال کرتے ہیں۔ اگر پاکستان میں دی جانے والی خیرات کو انسانی وسائل کی ترقی اور فروغ کی جانب موڑ دیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ ملک اگلے دس سالوں کے اندر غریب ممالک کی صف سے نکل کر ترقی یافتہ نہیں تو کم از کم ترقی پزیر ممالک کی صف میں کھڑا نہ ہو۔

شاہ سلیمان کی دریا دلی اور جذبہ خیر سگالی کو انتہائی عزت و احترام کی نظر سے دیکھتے ہوئے صرف اتنا ہی کہنے کی جسارت ہے کہ اس گرانقدر امداد کو اگر ان علاقوں میں انسانی وسائل کی ترقی پر مرتکز کیا جائے تو نہ صرف یہاں مستقلاًغربت میں کمی ہوسکتی ہے بلکہ پورے ملک کی مجموعی قومی ترقی میں بھی بہتری آسکتی ہے۔ صدقہ و خیرات جیسے قربانی کے جذبے سے لوگوں کو بھکاری بنانے کے بجائے باوقار طریقے سے زندگی گزارنے میں ان کی مدد کی جائے تو اس سے ہم خرما و ہم ثواب کا سواگ حاصل ہوسکتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 178 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan