پڑوسن کی پوتی کا روزہ تھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کھانے کی اشتہا انگیز خوشبو قدرت اللہ کے نتھنوں سے ٹکرائی تو وہ بے اختیار کچن کی طرف بڑھ گیا۔ اس کی بیوی مٹن پلاؤ دم پر رکھ رہی تھی اور بیٹی پکوڑے بنا رہی تھی۔ ”آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ “ اس کی بیوی نے آنکھیں دکھائیں۔

”بس یہ دیکھنے آیا تھا کہ آج کون کون سی نعمتیں ہمیں میسر آئیں گی؟ “

”جانے دیجیئے! آُپ نے خود تو مینیو بنایا تھا اپنے دوست کے لئے۔ “ بیوی نے ناک سکیڑی۔ ”ابو فروٹ چاٹ اور دہی بھلے بھی تیار ہیں۔ میکرونی اور چکن منچورین دو منٹ میں ریڈی ہوں گے۔ “ اس کی بیٹی نے رپورٹ دی۔

”شاباش! افطاری میں تھوڑا ہی وقت باقی ہے۔ یہ باقر کہاں رہ گیا، اب تک تو اسے آ جانا چاہیے تھا۔ “ قدرت اللہ نے ایک بار پھر گھڑی کی طرف دیکھا۔

”آپ ہی کا دوست ہے، وقت پر کیسے آئے گا۔ “ اس کی بیوی نے شوخی سے کہا۔ ”کمال ہے بیگم میں پریشان ہوں اور تم مذاق کر رہی ہو۔ کہیں ٹریفک میں نہ پھنس گیا ہو۔ “ قدرت اللہ نے خدشہ ظاہر کیا۔ عین اسی وقت ڈور بیل بجی۔

”شاید وہ آ گئے۔ “

”میں اسے ریسیو کرتا ہوں، آخر بہت بڑا افسر ہے وہ۔ “ قدرت اللہ نے جلدی سے کہا اور دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ افطاری کے دوران ہی وہ اپنے بیٹے کی نوکری کی بات بھی کر لے گا۔ اس طرح خوشگوار ماحول میں یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔ چہرے پر مسکراہٹ سجائے ہوئے اس نے دروازہ کھولا لیکن باہر باقر نہیں کوئی اور تھا۔

تقریباً پینسٹھ برس کی ایک بوڑھی عورت جس کے بوسیدہ کپڑے اس کی غربت کی گواہی دے رہے تھے۔ چہرے کی جھریاں فکرمندی سے کچھ زیادہ ہی نمایاں ہو رہی تھیں۔ اس کی آنکھوں میں یاسیت اور نا امیدی کے گہرے سائے تھے۔ قدرت اللہ اسے جانتا تھا۔ وہ اس کے پڑوس میں رہتی تھی۔ اس کا بیٹا کسی فیکٹری میں مزدوری کرتا تھا۔ چند مہینے پہلے اس کا بیٹا اور بہو ایک حادثے میں مارے گئے تھے۔ قدرت اللہ اپنے دوست کے بجائے اس بوڑھی عورت کو دیکھ کر بہت بے مزا ہوا۔ پہلا خیال یہی ذہن میں آیا کہ یہ کچھ مانگنے آئی ہو گی۔

بوڑھی عورت خاموش کھڑی اپنے خشک ہونٹوں کو زبان سے تر کرنے کی کوشش کرتے ہوئے جیسے بولنا چاہتی تھی مگر اس کی زبان پر لفظ نہیں آتے تھے۔

”اب بولو بھی کیا بات کرنی ہے۔ “ قدرت اللہ نے اس کی خاموشی سے تنگ آ کر کہا۔

”وہ۔ وہ بات یہ ہے کہ میں اور میری پوتی روزے سے ہیں۔ “ بوڑھی ایک بار پھر خاموش ہو گئی اور دوپٹے کا کونہ اپنی انگلی پر لپیٹنے لگی۔

”ذرا جلدی بات کرو، مجھے اور بھی بہت کام ہیں۔ “ قدرت اللہ کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔

”بیٹا بات تو کچھ نہیں، کیا کچھ کھانے کو مل جائے گا۔ “ بوڑھی عورت نے بمشکل کہا۔

”اوہو خالہ ابھی گھر میں کیا ہو گا۔ ابھی تو افطاری کے لئے کھانا تیار ہو رہا ہے۔ بعد میں آنا اور ہاں میرے ایک مہمان آ رہے ہیں یہ نہ ہو کہ تھوڑی دیر بعد ہی آ دھمکو، دو تین گھنٹے بعد آنا۔ “ قدرت اللہ نے بیزاری سے کہا۔ اتنے میں ایک بڑی سی کار اس کے دروازے کے قریب آ کر رکی۔ ڈرائیور نے دروازہ کھولا۔ اس کا دوست باقر کار سے نکلتا نظر آیا۔

”ٹھیک ہے اب تم جاؤ۔ “ قدرت اللہ نے اپنے دوست کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔ اس دوران وہ یہ نہ دیکھ سکا کہ بوڑھی عورت لڑکھڑاتے قدموں سے یوں واپس جا رہی تھی جیسے اس کے جسم میں جان ہی نہ ہو۔ شاید اسے قدرت اللہ سے اس رویے کی توقع نہیں تھی۔

وہ باقر کو اندر لے گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ دونوں لاؤنج میں بیٹھے اذان کی آواز کا انتظار کر رہے تھے۔ کھانے کی میز اشیائے خورد و نوش سے بھری ہوئی تھی۔ افطار کا وقت ہوا تو ان کی باتیں رک گئیں۔ وہ خاموشی سے افطار کرنے لگے۔ ظاہر اس کے بعد کھانے کی باری تھی۔ کھانے پینے کی اتنی چیزیں تھیں کہ ٹھہر ٹھہر کر کھاتے رہے مگر میز پر موجود اشیا میں کوئی خاص کمی دکھائی نہ دیتی تھی۔ روغنی نان، کباب، تکے تو ابھی تک ویسے کے ویسے پڑے تھے۔ میٹھے میں بھی ورائٹی تھی۔ باقر نے تھوڑی سی کھیر چکھی اور پھر تھوڑی سی آئس کریم لے لی۔

”یار تم بہت تکلف کر رہے ہو۔ تمہارا اپنا گھر ہے، کچھ اور لو نا۔ “ قدرت اللہ نے کہا۔

”بس اب کچھ اور نہیں کھا سکتا۔ ناک تک کھانا آ گیا ہے۔ اب تو ہلا بھی نہیں جا رہا۔ “ باقر نے ہاتھ اٹھا دیے۔

”ابھی گرین ٹی پیتے ہیں۔ “ قدرت اللہ نے اپنی بیوی کو آواز دی۔ ”نہیں نہیں ابھی نہیں، چلو تھوڑی دیر بعد پی لیں گے۔ “ باقر نے اس کے تیور دیکھ کر فوراً منع کر دیا۔

قدرت اللہ نے سوچا اب بات شروع کرتا ہوں۔ تب اچانک ڈور بیل بجی۔ ایک بار پھر اس کا منہ بن گیا۔ اس نے سوچا وہی بڑھیا پھر آئی ہو گی۔

اٹھ کر دروازہ کھولا تو باہر بوڑھی عورت کے بجائے ایک بارہ تیرہ برس کی بچی کھڑی تھی۔ بچی کے چہرے پر پریشانی کا عالم تھا۔ اس کی سانس پھولی ہوئی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ بھاگتی ہوئی آئی ہے۔

”انکل میرے ساتھ چلئے میری دادی بول نہیں رہی ہیں، بالکل چپ ہو گئی ہیں۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔ “ لڑکی نے رندھے ہوئے لہجے میں کہا۔

”اوہو میرے گھر میں مہمان بیٹھے ہیں اور تم لوگوں کو صرف میرا گھر ہی نظر آتا ہے، پہلے تمہاری دادی آئی تھی اب تم آ گئی ہو۔ “ قدرت اللہ کو اس کی مداخلت بہت بری لگی تھی۔

”میں نے کئی گھروں کے دروازوں پر دستک دی تھی کسی نے دروازہ ہی نہیں کھولا۔ آپ میرے ساتھ آئیں ناں۔ ان کو دیکھ لیں۔ “ لڑکی نے منت بھرے لہجے میں کہا۔

”دیکھو میں اس وقت بہت مصروف ہوں۔ میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ۔ “

”قدرت اللہ کیا بات ہے تم کس چکر میں پڑ گئے ہو۔ “ اس کی بات درمیان میں ہی رہ گئی۔ باقر بھی دروزے تک آ گیا تھا۔

”کچھ نہیں یار۔ یہ ہمارے پڑوسی بھی عجیب ہیں، جب ان کا دل چاہے چلے آتے ہیں۔ “

”دیکھ لیں نہ میری دادی کو پتا نہیں کیا ہو گیا ہے۔ “ لڑکی کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔

باقر نے صورتِ حال سمجھنے کی کوشش کی پھر بولا۔ ”آؤ یار دیکھ لیتے ہیں کیا معاملہ ہے۔ “

قدرت اللہ نے کندھے اچکائے اور پھر وہ دونوں لڑکی کے ساتھ چل پڑے۔ بوڑھی عورت کو ایک نظر دیکھتے ہی دونوں سمجھ گئے کہ وہ مر چکی ہے۔

”بیٹی صبر کرو، تمہاری دادی اللہ کو پیاری ہو چکی ہے۔ “ باقر نے لڑکی کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔

یہ سنتے ہی لڑکی چیخ چیخ کر رونے لگی اس نے آگے بڑھنے کی کوشش کی مگر لڑکھڑا کر گر پڑی۔ شاید وہ بے ہوش ہو گئی تھی۔ یہ دونوں بھی پریشان ہو گئے۔ باقر نے دائیں بائیں دیکھا۔ اس گھر کی حالت دیکھ کر لگتا تھا کہ کھانے پینے کی چیز تو دور کی بات ہے شاید پانی بھی نہ ملے۔ باقر جلدی سے چھوٹے سے کچن میں داخل ہوا۔ کچن میں خالی ڈبے نظر آئے۔ آٹے کا برتن بھی خالی تھا۔ بہرحال پانی مل گیا۔ پانی کے دو چار چھینٹوں سے لڑکی ہوش میں آ گئی۔ ہوش میں آتے ہی وہ ایک بار پھر رونے لگی۔ باقر نے پوچھا۔ ”بیٹا کیا ہوا تھا تمہاری دادی کو؟ “

”مجھے نہیں پتا۔ جب سے میرے امی ابو مرے ہیں ہمارے گھر میں کھانا نہیں پکتا۔ دادی کے پاس پیسے ہی نہیں ہوتے تھے۔ دادی پڑوسیوں کے پاس جاتی تھیں تھوڑا بہت مل جاتا تھا۔ جب سے روزے شروع ہوئے ہیں۔ دادی میرے ساتھ روزہ بھی نہیں کھولتی تھیں۔ مجھے تھوڑا بہت کھلا کر کہتی تھیں تم نماز پڑھ لو میں کچن میں جا کر کھانا کھا لیتی ہوں۔ آج تو میں نے بھی صرف پانی پی کر روزہ کھولا تھا۔ “ لڑکی روتے روتے بتا رہی تھی اور باقر کی آنکھیں بھیگتی جاتی تھیں۔ قدرت اللہ فرش پر نگاہیں جمائے خاموش کھڑا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •