سدا بہار جمہوریت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا میں جتنے بھی ریاستی ماڈلز اور حکومتی نظام قائم کیے گئے ہیں، جتنی بھی تھیوریز متعارف کروائی گئی ان سب کا تعلق براہ راست عوام سے ہوتا ہے۔ ایک ریاستی نظام کے جوڑ توڑ، اونچ نیچ یا کوئی بھی معاملات ہوں وہ سب کے سب ریاستی مفاد اور تحفظ کے لئے ہوتے اور ریاست صرف اور صرف عوام کے لئے ہوتی۔ اس نظریے سے جمہوری نظام قابلِ تعریف ہے۔ لیکن عوامی فلاح و بہبود، خوشحالی، امن وسکون اور تحفظ لے لئے چین اور سعودی عرب کا ماڈل بھی اب تک مؤثر ہے۔

بعض ریاستوں میں جمہوریت کے علاوہ نظامِ حکومت کے اچھے نتائج نہ ہونے کی وجہ سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور طاقتور جمہوری قوتوں کی جانب سے جمہوری نظام نافذ کرنے پر زور دیا جاتا ہے جس کی مثال جزیرہ نما عرب میں 2011 میں ”عرب سپرنگ“ انقلاب کی صورت میں ملتی ہے۔ اس طرح تو پاکستان سمیت کئی دوسری جنوبی امریکی اور وسطی افریقی ریاستوں میں جمہوری نظام کوئی اچھے نتائج لاتا نظر نہیں آتا۔

جہاں نظامِ حکومت کو جب جمہوریت کا صرف نام دے کر عوامی رائے کی حِس اور شعور چھین لیا جائے تو وہاں اسے جمہوریت کہنا جمہوریت کے ساتھ مذاق ہوگا۔ پاکستان میں جمہوری نظام کے نافذالعمل اور کامیابی کے لئے بھرپور تگ و دو کی گئی، راہ میں بہت سی گھاٹیاں آئیں لیکن گذشتہ ایک عشرے سے جمہوریت مسلسل مگر لڑکھڑاتی نظر آرہی۔ اب یہاں سوال یہ ہے کہ اس ڈگمگاتی ہوئی جموریت کو عوام نے سہارا نہیں دینا یا عوام اس اہل نہیں کہ اسے سہارا دے سکیں؟ اگر کچھ ایسا ہی ہے تو پھر یہ جمہوریت کیسی؟

جمہوری نظام میں ہر پارٹی کے اپنے الگ الگ نظریات، منشور اور عزائم ہوتے ہیں اور ہر پارٹی کے امیدواروں کو اس پارٹی کے نظریات اور منشور کے مطابق کام کرنا ہوتا۔ عوامی انتخاب کی حامل پارٹی وہ رہتی جس کے نظریات اورمستقبل کی حکمتِ عملی عوامی و ریاستی مفاد میں زیادہ بہتر ہوں۔

پاکستانی جمہوری نظام میں مختلف سیاسی پارٹیاں ہیں اور ہمیشہ دو ہی مرکزی حکومت کے لئے مدِ مقابل رہی ہیں وہ جو بھی ہوں۔ مقررہ مدت کے بعد انتخابات کے دنوں امیدواروں کا ایک پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹی میں جانا صرف اور صرف اس غرض سے کہ ان کی اسمبلی نشست نہ چھوٹ جائے۔ اس جمہوریت میں تو پھر کوئی عوامی مفاد شامل نہ ہوا، کوئی پارٹی منشور کے ساتھ ذہنی مماثلت نہ ہوئی، اس کا مطلب تو یہی ہوا کہ ذاتی مفاد کی غرض سے جو جدھر سے ملا وہ قبول کر لیا۔ اس سے تو پھر جمہوری رکھوالے خود ہی جمہوری ڈھانچے کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔

پاکستانی نظامِ جمہوریت میں ایک پارٹی چھوڑ کر آئے امیدواران جو کہتے تو اپنے آپ کو عوامی خادم اور نمائندے ہیں لیکن صرف ذاتی مفاد کی خاطر نئی پارٹی میں شمولیت کے بعد سابقہ پارٹی کی لیڈرشپ اور نظریات کے ساتھ کام کرنے کے باوجود اس پارٹی کی لیڈرشپ اور منشور کے متعلق دشنام طرازی، نازیبا الفاظ اور حقیرقِسم کے رائے قائم کرتے نظر آئیں گے اور یہ کِھلواڑ بِلاواسطہ عوام کے ساتھ ہی ہو رہا ہوتا۔ جہاں عوامی رائے اور مفاد کو نظر انداز کر کہ ذاتی مفاد کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔

مزہ تو تب ہے کہ پارٹی، نظریہ اور منشور کی خاطر شکست تسلیم کرنی بھی پڑے تو کی جائے اور اگلے انتخابات تک اپنے عزائم کا بھرپور پرچار کیا جائے اور اس پر کام کیا جائے۔ لیکن یہاں کے جمہوری غنڈے نہ تو اپنا کوئی نظریہ رکھتے ہیں نہ کوئی عوامی فلاح و بہبود کا عزم اور نہ ہی یہ کسی منشور پر کام کرنا چاہتے ہیں۔ ان نام نہاد جمہوری علمبرداروں کو تو بس جدھر سے کچھ نشست اور ذاتی مفاد کا لالچ مِلا ادھر ہی عوامی ووٹ کی بولی لگا دی۔ تو اس گھٹیا نظامِ حکومت کو میں کس طرح حقیقی جمہوریت مان لوں؟ اور کس طرح اس نظام کے حق میں نعرے لگاتا پھروں؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
صہیب دانیال کی دیگر تحریریں
صہیب دانیال کی دیگر تحریریں