! چندہ برائے افطار ڈرائیو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے چند برس سے راولپنڈی اسلام آباد کے کئی علاقوں میں ایک وبا بہت تیزی سے پھیلی ہے، جی ہاں! ماہ رمضان میں ”افطار ڈرائیو“ کے نام سے کسی چوک چوراہے پہ غریبوں کے لئے افطار کا دسترخوان لگا لیں اور نادار روزہ داروں کو روزہ افطار کرائیں۔

ٹھیک ہے یقینا کسی روزہ دار کی افطاری کا سامان کرنا بہت اچھا کام ہے مگر کیا وجہ ہے کہ ان دسترخوانوں اور ان پر بیٹھنے والے افراد کی تعداد میں ہر برس اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ غور کرنے پہ معلوم ہو گا کے یہ بھی ایک فیشن بن چکا ہے کہ سال کے ایک مہینے میں کچھ دستر خوان لگائیں، چند غریبوں کی مدد کردیں۔ اس سے خدا بھی خوش ہو جائے گا اور اگلے جہاں کی جنت بھی پکی، اور تو اور، ادھر سوشل میڈیا پر لگانے کے لیے بے شمار تصویریں بھی مفت ملیں گیں۔ آخر اگر تصاویر نہیں بنیں گیں تو خدا تعالی کو کیسے معلوم ہو گا کے ہم نے اتنے غریبوں کی مدد کی ہے؟

ویسے حضور یہ ترجیحات کا بھی مسئلہ ہے۔ ہم اپنے اجتماعی مسائل کو چند انفرادی کوششوں کے ذریعے سے حل کرنا چاہتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے کسی گاؤں میں گندگی سے بھرے جوہڑ کی وجہ سے وبائیں پھیل رہی ہوں اور آپ صرف ویکسین لگانے بیٹھ جائیں۔ جناب، ملک پر مسلط سرمایہ دارانہ نظام بھوک اور افلاس پیداکررہاہو اور آپ چند فاقہ کشوں کو چند وقت کی روٹی دے کر اپنے حصے کی ذمہ داری پوری سمجھیں۔ آخر آپ کتنے بھوکے پیٹ کتنے وقت کے لیے بھر دیں گے۔ اپنے حصے کی شمع جلانے والی مثال سے کب تک ہم اپنی اجتماعی ذمہ داریوں سے منہ چُراتے رہیں گے۔

اور اس میں مزید ایک خوفناک بات یہ ہے کہ ہم اُن سرمایہ داروں کے نقشِ قدم پر چل نکلے ہیں جو سیکڑوں بلکہ ہزاروں غریب خاندانوں کی زمینیں ہتھیاتے ہیں، ملکی خزانے کو اربوں، کھربوں کا ٹیکا لگاتے ہیں اور آخر میں ایک دو بڑی مساجد بنوا کر، چند دسترخوان لگا کر حاجی صاحب بن بیٹھتے ہیں۔ پھر اِسی سماج کے چند دانشور اُن کی ہاؤسنگ سوسائٹیز سے پلاٹ لے کر اُ نکے حق میں کالم لکھتے ہیں۔ اور دُکھ تو اُن بھولے بَھالے نوجوانوں کو دیکھ کر ہوتا ہے جو اِن کی دیکھا دیکھی فلاحی کاموں کے ذریعے سے پاکستان بدلنے کے خواب دیکھتے ہیں۔ خیر سے اب اُنہیں بھی یہ جائزہ لینا ہو گا کہ کہیں وہ بھولپن میں اپنے کام کے ذریعے سے ریاست کی ناکامیوں کو چھپا تو نہیں رہے۔ کیونکہ بہر حال جو کام ریاستی طاقت کے ذریعے سے ہو سکتے ہیں آپ لاکھ کوشش کر لیں نتیجہ آخر میں وہی ”ڈھاک کے تین پات“ نکلتا ہے۔

اب ویسے سوال تو یہ بھی ہے کہ آخر ہمارے اندر اس قدر انفرادیت پسندی کا زہر آیا، تو آیا کہاں سے۔ ہم اپنی جنت پکی کرنے کے چکر میں، باقی 20 کروڑ لوگوں کی زندگیاں جہنم بنتی دیکھ کر بھی خاموش رہتے ہیں۔ ہمارے مذہبی علبردار رمضان ٹرانسمیشن میں بیٹھ کر، اسلام کے نام پر سرکاری گفتگو تو کر لیتے ہیں، مگر یہ نہیں بتاتے، کے اسلام تو پہلے یہ کہتا ہے کہ ابو جہل کو اس کی پیشانی سے پکڑو اور زمین پر دے مارو، کیونکہ وہ مکہ کے مظلوموں پر ظلم کرتا ہے۔

آج سے چودہ سو برس پہلے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا تھا، تو کیا انہوں نے بھی مکہ میں رہتے ہوئے، چند غریب غرباء کی مدد امداد کرکے خاموشی اختیار کرلی تھی یا پھر معاشرے کے اجتماعی مسائل کو ان کی جڑ سے پکڑا تھا۔ چند مظلوموں کی وقتی مدد سے کام چلایا تھا یا دارالندوہ (قُریش کا ہیڈکوارٹر) میں قائم ظالمانہ نظام کو چیلنج کیا تھا۔ صرف زکوۃ اور چندے کے ذریعے سے چند مفلوک الحال خاندانوں کی مدد کی تھی، یا ایسے معاشی نظام کی بنیاد رکھی تھی جہاں زکوۃ دینے والے تو بہت ہوں مگر لینے والا کوئی نا ہو۔

تو صاحبو! عقل و دانش کا یہ تقاضا ہے کے آج اگر ہماری 60 فیصد سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی بسر کر رہی ہے تو ہم بھی غربت جیسے مسائل پیدا کرنے والوں کو للکاریں۔ ٹھیک ہے وقتی طور پر مدد امداد بھی ضروری ہے مگر ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کے ان تمام لوگوں کے بھی روٹی، کپڑا، مکان، صحت اور تعلیم جیسے بنیادی مسائل ہیں۔ خدا تعالی نے انہیں بھی اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے۔ جو سمجھ بوجھ والے لوگ ہیں یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک ایسے عادلانہ معاشی اور سماجی نظام کی تشکیل کے بارے میں بات کریں جہاں ریاست کی ذمہ داری ہو کے وہ اپنے شہریوں کی تمام بنیادی ضروریات کا خیال رکھے۔ جہاں ریاست ماں کا کردار ادا کرے، تو حکومت والد کا اور اس کے شہری عزت نفس مجروح کروائے بغیر اپنی زندگیاں بسر کر سکیں۔ ریاست اتنی بے کس اور لاچار نہ ہو کہ عالمی مالیاتی اداروں سے چندہ لینے کے لئے بھی انہی کے منتخب افراد ہماری جانب سے نمائندگی کریں۔

یاد رکھیں جو قومیں معاشی طور پر غلام ہوتی ہیں ان کی قسمت کا فیصلہ بھی کوئی اور کرتا ہے، ان کا بجٹ پڑھ کر تو اسلام آباد کے ایوانوں میں سنایا جاتا ہے مگر اُس کی منظوری کہیں اور سے ہوتی ہے۔ اُن کے ہاں صرف اداروں کے سربراہان ہی باہر سے ”امپورٹ“ نہیں کیے جاتے، بلکہ معاشی پالیسیاں تک باہر سے آتی ہیں۔ دنیا کے تمام انقلابات کی تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے اپنا معاشی، سماجی اور تعلیمی ڈھانچہ اغیار کے شکنجوں سے آزاد کروایا تبھی وہ جاکر کہیں خُود دار اور باعزت اقوام کی فہرست میں شامل ہو سکیں۔

خدا تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں اس با برکت مہینے کے صدقے سے ہدایت عطا فرمائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •