پاکستانی لڑکیوں کی چینی لڑکوں سے شادی پر چینی سفارت کار کیا کہتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں سے ایک خبر گردش میں ہے کہ چینی نوجوان پاکستانی لڑکیوں کو ورغلا کر شادی کرتے ہیں اور چین لے جا کر ان سے جسم فروشی کرواتے ہیں یا ان کے اعضا بیچتے ہیں، اور صحافی برادری اس حوالے سے بھی جواب چاہتی تھی کہ سی پیک منصوبہ کہاں تم پہنچا اور چین اپنے دوست سے موجودہ حکومت میں کتنا مزید قریب آیا۔

پاکستانی لڑکیوں کو ورغلا کر کسی بھی غلط کام کے لئے شادی کرنا ایک بھونڈا کام ہے۔ میرے گھر میں اگر کچھ بے تکلف دوستوں کا آنا جانا ہو اور میری کوئی چیز چوری ہوجائے تو ظاہر ہے شک کی نگاہ میں سب آئیں گے، جو چند چینی ایسا کام کررہے ہیں اس سے بدنامی کا باعث پورا چین ہی بنے گا۔

سوالات بہت تھے اور جواب کے متلاشیوں کو یہ سوال پوچھنے کا یہ موقع پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ نے دے دیا۔

کوئی قریب چالیس صحافی، اینکرز، کالم نگار دوستوں کو پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ کے توسط سے اسلام آباد میں واقع چینی سفارتخانے نے محترم ڈپٹی چیف آف مشن برائے چینی سفارت خانہ لی جیان ژاؤکی میزبانی میں افطار ڈنر پر بلایا۔

ڈپٹی چیف آف مشن برائے چینی سفارت خانہ لی جیان ژاؤ نے نہایت ہی اچھے انداز سے افطار کا بندوبست کر رکھا تھا اور اس سے بھی کہیں بڑھ کر خندہ پیشانی سے انہوں نے تمام سوالات کے جواب دیے۔

خبروں کے مطابق یہ ایک پورے گینگ کا کام ہے جس میں شامل لڑکا پہلے دوستی کرتا پھر تحائف سے لڑکی اور اس کے خاندان میں اپنا اثر رسوخ بڑھاتا اور بعد میں شادی کا جھانسہ دیتا۔ 30 سے زائد چینی گرفتار کیے گئے ہیں جنہوں نے بتایا کہ کافی لڑکیوں کو اسی طرح چین منتقل کیا گیا۔ ایک لڑکی کو پاکستانی و چینی حکام کی مداخلت کے بعد چین سے واپس پاکستان بھی لایا گیا ہے جس کے بیان کے مطابق اس سے وہاں گھناؤنا کا م لیا جاتا تھا۔ اس سب میں ایک گینگ اور میرج بیوروز ملوث ہیں۔ ایف آئی اے تحققات کر رہی ہے۔

ڈپٹی چیف آف مشن لی جیان ژاؤ کے مطابق ایسے ملوث افراد کو ضرور سزا ملنی چاہیے۔ لیکن اصل معاملہ لالچ کا ہے اور پاکستان میں قائم ان میرج بیوروز کا ہے جو لالچی لڑکیوں اور ان کے خاندانوں کو گھیرتے ہیں۔ چینی گینگ کا ٹارگٹ بھی لالچی لڑکیاں ہی ہیں جو لالچ اور اونچے خوابوں کو لئے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیتی ہیں۔

ڈپٹی چیف آف مشن کے مطابق سفارت خانے تک کئی ایسی معاملات بھی پہنچے کہ لڑکی کو چینی زبان نہیں آتی تھی اور چینی لڑکے کو انگلش کی زیادہ سمجھ نہیں تھی لیکن محبت چونکہ اندھی ہوتی ہے سو شادی ہوکر لڑکی چین چلی گئی۔

ایک دوسرے سے بات کرنے کو گوگل چاچا کا سہارا لیا جاتا اور بعض دفعہ گوگل چاچے سے پوچھا کچھ جاتا اور وہ بتاتا کچھ اور۔یوں گوگل چاچے کے انوکھے ترجموں نے ان کا گھر نا بسنے دیا۔ لڑکی نے طلاق لے لی اور لڑکی با حفاظت واپس آگئی۔

ڈپٹی چیف آف مشن نے گینگ اور اس کے کارناموں پر شرمندگی کا اظہار کیا مگر اعضا کو نکال کر فروخت کرنے والی بات کو پروپیگنڈا قرار دیا۔

مگر جب ایک گینگ جرم کی نیت سے ہی پاکستان میں موجود ہو اور ان کا ٹرگٹ لالچ کی شکل میں آسانی سے ان تک پہنچ جائے تو ایسے واقعات ہوتے ہیں۔

ایسے واقعات کو روکنے کے لئے پاکستانی اتھارٹیز کو چاہیے کہ امیگریشن کو سخت کریں اور ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کے لئے لازم ہے کہ ایسے لوگوں کو پاکستان آنے سے بھی روکا جائے۔ پاکستان میں موجود ایسے عناصر کو بھی سخت سزا دینی چاہیے۔

ڈپٹی چیف آف مشن برائے چینی سفارت خانہ لی جیان ژاؤ سے سی پیک اور موجودہ پاکستانی حکومت کے حوالے سے چینی پالیسی پر بھی کھل کر بات ہوئی۔

چینی اور پاکستانی ڈشوں سے مزین افطاری کے دوران جناب لی جیان ژاؤ نے ہمارے ساتھ افطاری کی اور ڈنر کے دوران بھی کبھی چٹکلوں اور کبھی سنجیدگی کے ساتھ چائینہ پاکستان کی دوستی کو مزید وسعت دینے پر بات چیت کی۔

سی پیک کو حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ تقریباً آدھے پروجیکٹس مکلمل ہو چکے ہیں، باقی رہ جانے والے پروجیکٹس کے کام میں سستی الیکشن کی دنوں آئی تھی مگر اب ان پر بھی کام جاری ہے۔

بلوچستان اور سندھ میں بھی کئی پروجیکٹس جاری ہیں جن میں سے دھابیجی سندھ میں واقع چائینہ اسپیشل اکنامک زون کا پروجیکٹ اسی سال کے آخر تک مکمل کرلیا جائے گا۔ پاکستان میں سیکیورٹی صورتحال پر بھی اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ سارے پروجیکٹس پاکستان، پاکستانی عوام اور خطے کے وسیع تر مفاد میں ہیں جس کا زیادہ تر فائدہ پاکستان ہی کو ہوگا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
زوہیب رمضان بھٹی کی دیگر تحریریں
زوہیب رمضان بھٹی کی دیگر تحریریں
––>