سراب ہے عذاب ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نفسا نفسی کا عالم ہے، ہر روح بے چین ہے، ہر جسم مردہ ہے، مسکراہٹوں سے نفرت کی بو آرہی ہے، غربت آنگن میں ناچ رہی ہے، ماحول گھٹن زدہ ہے، آدمی آدمی کو نوچ رہا ہے، عزتیں لٹائی جا رہی ہیں، ضمیروں کا سودا ہو رہا ہے، بے حیائی غالب آ رہی ہے۔ بے اعتباری دل میں گھر کیے ہوئے ہے۔ دل کیوں پھٹا جا رہا ہے، شامیں اداسی میں گریہ زاری کر رہی ہیں۔ پتے پیلے پڑ رہے ہیں۔ نکالو اس ہوا سے مجھے۔

آہ! لہر آئی۔ یہ کیسا جھونکا ہے۔ آنکھیں سرور میں بند ہو رہی ہیں، عقیدت میں نظریں جھکی ہے۔ آہا۔ اس قدر شفاف نیت۔ کالے معاشرے میں یہ پاک دل کیا عطر کی طرح مہک رہا ہے۔ نظر کی حیا نور بنی ہوئی ہے۔ اتنا دھیما مزاج تکبر کو تھپر رسید کرتی اس عاجزی کو تو دیکھو۔ ما شا اللہ نظر نہ لگے۔ پانی کے آخری گھونٹ میں ساری شفا ہو جیسے، پہاڑوں سے نکلتا سونا کئی دہائیوں سے دبا ہوا منظر عام پر آ ہی گیا۔ و اللہ بادلوں کا مزاج تو دیکھو جیسے منہ دکھائی دے رہا ہو، پاکیزگی جیسے ننھے کے کان میں اذان کی آواز رچ بس گئی ہو۔ تربیت تو جیسے کسی بادشاہ نے فقر میں زندگی بسر کی ہو۔ جہاد بالنفس ہے کہ کھانا پینا ہوا پڑا ہے۔ تصویر کو زیادہ نہ دیکھیے نظر لگ جائے گی۔

یہ کھڑکی کے باہر کیا ہے؟ طوفان؟ یہ آندھی گرد آلود کیوں ہے؟ ارے ابر رحمت آتی ہی ہو گی۔ نہیں نہیں اس پاک روح کے ہوتے ہوئے یہ عذاب کیسا۔ نہیں نہیں۔ وعدے، قسموں کا سوال ہے۔ وعدہ خلافی کیسے ہی ممکن یے۔ شیریں مزاج میں اچانک یہ تلخی کیسی ہے۔ میرا سر پھٹا جاتا ہے۔ شاید۔ موسم کی انگڑائی ہے۔ ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ منکر۔ نہیں نہیں معاذ اللہ۔ خدا کی قسم میری آنکھوں میں دیکھ کر کھائی تھی۔ اب کیا جھوٹی ہو گی؟

نہیں نہیں وقتی طوفان ہو گا۔ ہاں ہاں۔ بس ایسے ہی ورغلا رہی ہے یہ ہوا۔ میں باغی نہیں ہوں گی۔ ہاں سن لو حالات سبھی کہ سب۔ میری کئی سال کی یکتا محبت ہے۔ شرک سے پاک۔ ڈائمنڈ فوم کی گارنٹی ختم ہوتی ہو گی، اس کی نہیں۔ ہاں بس کہہ دیا میں نے۔ سونا خالص نہیں ہو گا، اس کی نیت بالکل ملاوٹ سے پاک ہے۔ ہاں اسی معاشرے میں ہوں۔ نہ کہو پاگل۔ اس نے دعوی کیا تھا اسی ہاتھ کو پکڑ کر۔ یقین کرو میرا۔ یہ دیکھو اس کے ہاتھوں سے لکھا ہوا ہے کہ وہ محبت میں شرک کا مرتکب ہوا تو مر جائے گا۔

تم سب پاگل ہو۔ ارے اسے میرے سامنے تو لاؤ۔ دیکھنا میں ہی اس کی دلہن بنوں گی۔ اس کے نام کی مہندی کی خوشبو میری ہاتھوں سے ہی آئے گی۔ اس کے شہر کی طرف دھوم دھام کی بارات صرف میری ہی جائے گی۔ مت ہنسو! یہ دیکھو وہ آ گیا خود ہی۔ تم سب سے مجھے دور لے جانے ہی آیا ہے۔ کہہ رہی تھی ناں۔ بتاو ان کو۔ یہ تمہیں وعدہ خلاف کہہ رہے تھے۔ ہا ہا ہا۔ بتاؤ ان کو کہ تم صرف میرے ہو۔

ایک منٹ کی خاموشی۔ زوردار قہقہ۔ کون میں؟ نہیں میری اگلے ہفتے برقعے والی سے شادی ہے، تم تو جینز پہنتی ہو۔ ایک اور خاموشی۔ اور پھر کبھی شور نہیں ہوا۔ گھر کے مکان سے لاش تحویل میں لے کر مردہ خانے پہنچا دی گئی ہے۔ پوسٹ مارٹم نہ کیجیے۔ ، فریب کی تصدیق ہو چکی ہے۔

چاند تو آج بھی نکلا تھا مگر چاندنی مدھم تھی۔ خوف اس روشنی کے بجھ جانے کا تھا، جسے جلانے والے آج شمع جلانا بھول گئے۔ تارے بھی چمک رپے تھے۔ کسی بات کا ملال بھی نہ تھا۔ کئی بار کے سوچنے پر اداسی یہ تھی کہ ہوا کیا ہے۔ دل سے بار ہا پوچھا، آواز آئی کہ یک دم جب فاصلے گھناونے ہو جاتے ہیں تو شاید ایک چیخ کے بعد پھر سفر دوبارہ شروع۔ جتن آنسووں کے بھی کیے مگر اشک ناراض ہو کے کہنے لگے کہ مدعا کیا ہے۔

کس بات کا جشن کروں کہ وہ ساتھ ہے مگر اس نے بھی تو روایتی سوال کیے تھے یا پھر مجرم ہونے کا دعوا کہ میں نے غلط کیا۔ صبح ماتم کا روزہ رکھوں یا صبر کا اور ہاں شکر بھی تو لازم ہے جنت کے لئے۔

بس اتنا ہی کہ جو تھا اچھا تھا۔ مگر ایک وہ نظر اور ایک تیرا رسمی سوال۔ مجھے کھوکھلا کیے دیتا ہے۔ ہاں مگر صحیح ہے کہ معاشرے کی روایات سے آزاد۔ مجھے حق ہے کہ ہنسوں اور بس اس اداکاری میں کمال کر دوں، حتی کہ ایک روز تو بھی میرے ساتھ ہنسنے کی بجائے مجھ پہ ہی ہنسنے لگے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •