کھِیلوں کے ہیروز کی نا قدری، آخر کب تک؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کھیل کوئی بھی ہو، اُس میں اپنی عمدہ کارکردگی سے جو کھلاڑی ملک و قوم کا نام روشن کرتا ہے، سبز ہلالی پرچم کی سر بلندی کی وجہ بنتا ہے، وہ بے شک و شبہ ہمارا ہیرو ہی ہے۔ خواہ وہ ہاکی سے متعلق ہو، اسکواش، اسنوکر، بیڈمنٹن، فٹ بال، کرکٹ یا کسی اور کھیل سے وابستہ۔ بد قسمتی سے کہنا پڑتا ہے کہ یہاں کھیلوں میں بھی دُہرا معیار رائج ہے، جس سے سال ہا سال سے ہمارے ”ہیروز“ کا بد ترین استحصال ہو رہا ہے۔

گزشتہ دنوں اسنوکر کے سابق عالمی چیمپئن محمد آصف کا ایک انٹرویو نظر سے گزرا، جس میں اُنہوں نے نا صرف حکومتی بے حسی اور عدم توجہی کا تذکرہ کیا، بلکہ اپنے دُکھ کھل کے بیان کر ڈالے۔ اُن کا کہنا تھا کہ حکومت کی نظر میں کرکٹ ہی صرف گیم ہے اور ہمارے کھیل کو شاید گیم ہی نہیں سمجھا جاتا۔ 2012 میں عالمی چیمپئن بنا، اب تک چھے عالمی اور ایشین ٹائٹلز اپنے نام کر کے دُنیا بھر میں سبز ہلالی پرچم لہرا چکا ہوں، ان کامیابیوں کے بعد قوم سے مجھے جتنی محبت اور پذیرائی ملی، وہ میری زندگی کا اثاثہ ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر کامیابیوں کے بعد حکومت کی طرف سے صرف اعلانات اور وعدے ہی کیے گئے، حکومتی اسپورٹس پالیسی کے مطابق ورلڈ چیمپئن شپ جیتنے پر ایک کروڑ روپے کی انعامی رقم تھی، میں تین ورلڈ اور تین ایشین ٹائٹل جیت چکا، ان بڑی کامیابیوں کے باوجود محض بینک سے ملنے والی تنخواہ سے گزارا ہو رہا ہے۔ اپنا ذاتی کچھ نہیں، والدین کے ساتھ انہی کے گھر میں رہتا ہوں۔ یہ عالمی سطح پر اسنوکر کے کھیل میں ملک کا نام روشن کرنے والے ہیرو کا احوال ہے۔ لگ بھگ یہی صورت حال 1994 میں پہلی بار پاکستان کی جانب سے اسنوکر کا عالمی کپ جیتنے والے قومی ہیرو محمد یوسف کو بھی در پیش رہی۔ 2003 میں اسنوکر کے عالمی کپ کا فائنل کھیلنے والے صالح محمد بھی اسی صورت حال سے دل برداشتہ ہو کر پاکستان چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

وطن عزیز میں بے شمار کھیل کھیلے جاتے ہیں اور اُن کا بھرپور ٹیلنٹ موجود ہے، لیکن کرکٹ کے سوا دوسرے کھیل حکومتی توجہ کے منتظر ہی دکھائی دیتے ہیں۔ کہنے کو تو ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے، لیکن اس پر حکومت کی کوئی توجہ نہیں، ہاکی کے سب سے زیادہ چار ورلڈ کپ جیتنے والی قومی ٹیم کی زبوں حالی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ہاکی فیڈریشن کو فنڈز کی کمی کا مستقل سامنا رہتا ہے۔ اس کے کھلاڑی انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارتے ہیں۔

اُن کو معقول مشاہرہ تک ادا نہیں کیا جاتا۔ اُن کی زیست مشکلات سے عبارت رہتی ہے۔ اُنہیں کئی کئی ماہ تک معاوضے کی ادائیگیاں نہیں ہوتیں۔ ہاکی کے کھلاڑیوں کو قوم جانتی تک نہیں۔ میڈیا پر بھی اس کھیل کو وہ توجہ نہیں دی جاتی، جس کا یہ مستحق ہے، کھلاڑیوں کو وہ کوریج نہیں دی جاتی، اُن کے انٹرویو تک نشر و شایع نہیں کیے جاتے۔ قومی کھیل سے اتنی بے اعتنائی یقیناً افسوس کا مقام ہے۔

اسی طرح فٹ بال، کبڈی، بیڈمنٹن، اسکواش وغیرہ پر بھی حکومت وہ توجہ دینے سے قاصر نظر آتی ہے، جس کے یہ مستحق ہیں۔ ایک وقت تھا کہ پاکستان کرکٹ، ہاکی، اسنوکر اور اسکواش یعنی بیک وقت چار کھیلوں میں عالمی چیمپئن کا اعزاز رکھتا تھا۔ اب ہم کھیل کے میدانوں میں بہت پیچھے جا چکے ہیں۔ 72 برسوں میں ہم فٹ بال میں وہ کارکردگی نہ دکھا سکے کہ عالمی مقابلوں کا حصہ بن پاتے۔ کراچی کے علاقے لیاری میں اس کھیل کے دیوانے اور بہترین کھلاڑی موجود ہیں، لیکن حکومتی سرپرستی اور توجہ نہ ہونے سے کئی گوہرِ نایاب گم نامی کے اندھیروں میں زندگیاں بسر کر رہے ہیں۔

کئی عشروں تک دُنیائے اسکواش پر پاکستان کی حکمرانی رہی، ہاشم خان سے شروع ہونے والا سلسلہ جہانگیر خان اور جان شیر خان پر جا کر ختم ہو چکا۔ غیر ملکی کھلاڑیوں کے لیے جہانگیر اور جان شیر کو ہرانا ناممکن سا تھا، لیکن اب اسکواش میں بھی ہم کوسوں پیچھے چلے گئے ہیں۔ اسکواش کے دیوانے اُس سنہری دور کو یاد کر کے مایوسی کی کیفیت سے دو چار نظر آتے ہیں۔ حکومت اس پر بھی وہ توجہ دینے سے قاصر ہے جس کی ضرورت ہے۔ کھیل تو سبھی اچھے ہوتے ہیں کہ ان سے عوام کو تفریح طبع کا سامان میسر آتا ہے، اسی طرح کرکٹ بھی اچھا کھیل ہے، لیکن اسی پر حکومت کی تمام تر توجہ مرکوز ہے۔

اس کے ہر کھلاڑی کو قوم کا ہر فرد جانتا ہے۔ اُنہیں سینٹرل کنٹریکٹ اور میچ فیس کی مد میں انتہائی بھاری بھر کم معاوضے ادا کیے جاتے ہیں۔ وہ اسٹارز کی زندگی گزارتے ہیں۔ کرکٹ پر حکومت اربوں روپے سالانہ خرچ کرتی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر باقی کھیلوں سے بے اعتنائی کیوں برتی جاتی ہے۔ کیوں اُن کی سرپرستی سے گریز کیا جاتا ہے، ان سے وابستہ اسٹارز کا کیا قصور ہے کہ جان بوجھ کر اُن کی چمک کو ماند کر دیا گیا ہے۔ اُن کی خدمات کرکٹ کے کھلاڑیوں سے کسی طور کم نہیں کہ اُنہوں نے بھی ملک و قوم کا نام عالمی سطح پر روشن کر رکھا ہے۔ اُن کو بھی جگمگانے اور روشنی بکھیرنے کا حق ہے۔ اُن کے حالاتِ زندگی بھی بہتر ہونے چاہیے۔ اُن کی زندگیوں میں بھی خوش حالی اور آسائشیں ہونی چاہئیں۔

چونکہ اب ایک سابق کھلاڑی عمران خان ملک کے وزیر اعظم ہیں اور اُن کی کپتانی میں پاکستان نے 1992 کا عالمی کرکٹ کپ بھی جیت رکھا ہے۔ ایسے میں ضروری ہو جاتا ہے کہ وزیر اعظم کھیلوں کے حوالے سے وطن عزیز میں رائج دہرے معیار کا خاتمہ کریں۔ بہت ہو چکا، اب نا انصافی کا سلسلہ روکا جائے۔ دوسرے کھیلوں کے اسٹارز کی بے قدری اور بے توقیری بہت ہو چکی، خدارا اب اس سے گریز کیا جائے۔ ان کھیلوں پر بھی خصوصی توجہ مرکوز کی جائے۔

کرکٹ کے ساتھ اُن کھیلوں میں بہتری لانے کے لیے راست اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔ اُن کی انتظامیہ اور کھلاڑیوں کے لیے سالانہ بنیادوں پر مناسب اور معقول فنڈز کا اجرا کیا جائے۔ ان کے کھلاڑیوں کو بھی معقول سینٹرل کنٹریکٹ دیا جائے کہ اُن کے گھروں کا نظام احسن طور پر چل سکے۔ ان کو بھی وہ مراعات تفویض کی جائیں جو کرکٹ کے کھلاڑیوں کو حاصل ہیں۔ ان کھیلوں کو حکومتی سرپرستی درکار ہے اور وہ بھی حقیقی معنوں میں۔ یہ اُنہیں ضرور ملنی چاہیے۔ میڈیا بھی دیگر کھیلوں کے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرے اور اُن کو بھرپور کوریج دے۔ اُن کے انٹرویو نشر و شایع کیے جائیں۔ یقیناً ان اقدامات کے ذریعے دوسرے کھیلوں میں بہتری کی سبیل ہو سکے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •