میں ہر صبح اس نیت سے اٹھتی ہوں کہ صبر کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دوں گی اور ایمانداری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کروں گی چاہے کئی روز فاقے کیوں نہ کرنے پڑیں مگر وہ دور کھڑی نیلی موٹر سائیکل مجھے کافر لگتی ہے جو پٹرول کے بغیر ایک قدم نہیں چلتی۔ میں اس کی مالک ہوں میرا ساتھ بھی چھوڑ دیتی ہے۔ مجھے ہر روز خوف آتا ہے کہ کہیں کسی دن اس کا پیٹ بھرنے کے پیسے بھی ختم ہو گئے۔ تو کیاہوگا؟ اور اگر یہ بے ایمان ہوگئی تو میں کیا کروں گی؟
حالات اس قدر کشیدہ ہیں کہ ان دنوں میں اگر آپ مسکراتے ہوئے کہیں پائے جائیں تو آپ پر حرام کھانے کا ٹیگ ویسے ہی لگ جاتا ہے کیونکہ جمع پونجی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، دو وقت کی مل جائے یہی غنیمت ہے۔ اس لئے درد بھری مسکراہٹ کو کامل عقیدہ سمجھنے والے آپ کو کہیں نہیں ملیں گے۔ سکرین کا نشہ ہی بہت ہے کہ غم بانٹنے کے لئے سگریٹ اور چرس بھی کسی کام کی نہیں ہیں۔ پھر کیا کیا جائے؟ میں کرپشن کے سخت خلاف ہوں شاید اس لیے کیونکہ گرم خون میں ابھی جذبہ تازہ ہے اور تربیت دماغ پر سوار ہے۔
Read more