سراب ہے عذاب ہے

نفسا نفسی کا عالم ہے، ہر روح بے چین ہے، ہر جسم مردہ ہے، مسکراہٹوں سے نفرت کی بو آرہی ہے، غربت آنگن میں ناچ رہی ہے، ماحول گھٹن زدہ ہے، آدمی آدمی کو نوچ رہا ہے، عزتیں لٹائی جا رہی ہیں، ضمیروں کا سودا ہو رہا ہے، بے حیائی غالب آ رہی ہے۔ بے اعتباری دل میں گھر کیے ہوئے ہے۔ دل کیوں پھٹا جا رہا ہے، شامیں اداسی میں گریہ زاری کر رہی ہیں۔ پتے پیلے پڑ رہے ہیں۔ نکالو اس ہوا سے مجھے۔آہ! لہر آئی۔ یہ کیسا جھونکا ہے۔ آنکھیں سرور میں بند ہو رہی ہیں، عقیدت میں نظریں جھکی ہے۔ آہا۔ اس قدر شفاف نیت۔ کالے معاشرے میں یہ پاک دل کیا عطر کی طرح مہک رہا ہے۔ نظر کی حیا نور بنی ہوئی ہے۔ اتنا دھیما مزاج تکبر کو تھپر رسید کرتی اس عاجزی کو تو دیکھو۔ ما شا اللہ نظر نہ لگے۔

Read more

ہر ایرے غیرے کو مجازی خدا نہ سمجھیں

آج کے دور میں دونوں پارٹیوں کو پتہ ہے کہ سارے وعدے صرف لارے ہی ہیں اور ملٹی ٹاسکنگ کے تحت دونوں کھیل کا ایک مہرہ ہیں۔ لڑکی شرماتے شرماتے ادائیں دکھا کر مان جاتی ہیں جبکہ لڑکے کو لگتا ہے کہ اس نے بہت بڑا تیر مارا اور تیس مار خان بن گیا۔ وہ اس خوش فہمی میں ہی جھومتا رہتا ہے کہ وہ بہت بڑا فنکار ہے۔ اکثر یہ جال لڑکی کا ہوتا ہے جسے وہ مانتی نہیں ہے تاکہ بھرم برقرار رہے۔ چلیں ایک قہقہے سے آگے بڑھتے ہیں۔مارکیٹ میں آج کل نیا سٹنٹ آیا ہے۔ پہلا میسج آئے گا۔ ”دیکھئے میں آپ کو پسند کرتا ہوں اور میں آپ سے بے جا کا تعلق نہیں رکھنا چاہتا کیونکہ آپ سے میں شادی کرنا چاہتا ہوں“۔ اس پر لڑکی میں اچانک اتنا اعتماد آجاتا ہے جیسے ساری لڑکیوں سے برتری لے گئی ہو حالانکہ یہی میسج چار جگہ اکٹھا بھیجا گیا ہوتا ہے۔ اب یہی شادی کی بات کوئی تین چار بار دہرائی جاتی ہے اور چال کامیاب۔ اس پر لڑکی اسے اسی دن سے مجازی خدا سمجھنے لگتی ہے۔

Read more

بے حسی۔ ناقابل علاج بیماری؟

مدھم چاند کی روشنی ، رقص کرتی خاموشی اور درد کے بے تحاشا قافیے۔ حلق میں پھنسی چیخ بغاوت کو جکڑے ہوئے اور امید بلند حوصلوں کی ترجمان۔ بکھرے ہوئے تخیل کا احتجاج، آنکھوں کا ٹوٹتا ربط اورگہری رات۔ اندھیرے میں سکون ہو تو کوئی صبح کی خواہش ہی کیوں کرے۔ میری مراد ایک سمندر سے گہرے لفظ ”احساس“ سے ہے جو چٹیل میدان میں بھاگتے گھوڑے کو تو مالک کا ہوتا ہے کیونکہ وہ وفادار جانور ہے اورعقل سے پیدل بھی مگر احساس سے دوڑتا چلا ہی جاتا ہے۔ یہ وہ لفظ ہے جو باغی ہوا میں کہیں اڑ گیا یا پھر نمک حرامی کی نظر ہو گیا ،ہوسکتا ہے کہ طوفانی بارش میں بھیگ کرمردہ ہو گیا ہو۔

Read more

عوام کے ترجمان: بے زبان

میں ہر صبح اس نیت سے اٹھتی ہوں کہ صبر کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دوں گی اور ایمانداری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کروں گی چاہے کئی روز فاقے کیوں نہ کرنے پڑیں مگر وہ دور کھڑی نیلی موٹر سائیکل مجھے کافر لگتی ہے جو پٹرول کے بغیر ایک قدم نہیں چلتی۔ میں اس کی مالک ہوں میرا ساتھ بھی چھوڑ دیتی ہے۔ مجھے ہر روز خوف آتا ہے کہ کہیں کسی دن اس کا پیٹ بھرنے کے پیسے بھی ختم ہو گئے۔ تو کیاہوگا؟ اور اگر یہ بے ایمان ہوگئی تو میں کیا کروں گی؟

حالات اس قدر کشیدہ ہیں کہ ان دنوں میں اگر آپ مسکراتے ہوئے کہیں پائے جائیں تو آپ پر حرام کھانے کا ٹیگ ویسے ہی لگ جاتا ہے کیونکہ جمع پونجی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، دو وقت کی مل جائے یہی غنیمت ہے۔ اس لئے درد بھری مسکراہٹ کو کامل عقیدہ سمجھنے والے آپ کو کہیں نہیں ملیں گے۔ سکرین کا نشہ ہی بہت ہے کہ غم بانٹنے کے لئے سگریٹ اور چرس بھی کسی کام کی نہیں ہیں۔ پھر کیا کیا جائے؟ میں کرپشن کے سخت خلاف ہوں شاید اس لیے کیونکہ گرم خون میں ابھی جذبہ تازہ ہے اور تربیت دماغ پر سوار ہے۔

Read more

سات سالہ یشفہ سے کچھ نہ پوچھو

مبینہ دشتگرد کا گھر دلائل سے گونج رہا تھا۔ گورنر پنجاب کا پروٹوکول لگ چکا تھا۔ سب ان کی آمد کا انتظار کر رہے تھے۔ میں نے اس موقع کو بہترین جانا۔ اشارے سے سات سالہ یشفہ کو اپنے پاس بلایا۔ جیسے ہی میں نے اس کی آنکھوں کی بے بسی دیکھی ایک دم سنگ دل پھٹ سا گیا۔ ننھی یشفہ کو بہلانے کے لئے ادھر ادھر کے سوال پوچھنے لگی کہ سکول جاتی ہو؟ کون سی کلاس میں پڑھتی ہو؟ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیسے اس کو اس موضوع کے لئے تیار کروں۔ اس سے پہلے کسی ٹی وی اداکار (رپورٹر) نے اس سے بات نہیں کی تھی۔

بڑی ہمت باندھ کر میں نے پوچھا کہ آپ کے بابا کدھر ہیں؟ اس نے جواب میں بڑے یقین سے کہا ”آپ کو پتہ ہے“ ۔ میں نے زور دیتے ہوئے سوال دہرایا۔ اس نے پھر وہی جواب دیا۔ میں نے اس کے گال پر پیار کرتے ہوئے جب تیسری بار یہی پوچھا تو اس نے کہا۔ ”آپ میرا مذاق اڑا رہی ہیں ناں؟“ اس جملے نے گویا میرے کان کے پردے پھاڑ دیے۔

Read more

کنگلا صحافی اور صحافت کی نماز جنازہ

گئے دنوں کی بات ہے جب صحافت ایک مشن ہوا کرتی تھی مگر اب ایک ایسا پیشہ بن چکا ہے جس کے پیسے یا تو بہت کم ملتے ہیں یا پھر کئی کئی مہینوں آج کل کے لارے ہی تنخواہ ہوتے ہیں۔

آخر یہ پیشہ بھی تو ایک نشہ ہے جو جس قدر پرانا ہو اتنا ہی سرور آتا ہے۔ میڈیا کے زوال کی سب سے بڑی وجہ مالکان ہیں جو خود تو بلٹ پروف گاڑیوں کے قافلے بنا لیتے ہیں مگر ملازم نہ تو اپنے بچوں کو اچھی زندگی دے پاتا ہے اور نہ ہی وقت۔ جو فارغ وقت ملتا بھی ہے وہ غربت کی شکایتوں کی نظر ہو جاتا ہے اور اہل خانہ کے طعنے استقبالیہ کے طور پر لازم و ملزوم ہوتے ہیں۔

Read more