سردار محمد عثمان خان بزدار کی دستار بندی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 3
  •  
  •  

ہر علاقے، وسیب، وطن میں بسنے والے لوگوں کے اپنے علاقائی مختلف رسوم و رواجات/ روایات پائی جاتی ہیں۔ جن کی پاسداری وہاں کے بسنے والے لوگ اپنا زندگی کا طور طریقہ گزارنے کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔

یہ روایات اتنی پختہ اور نسل در نسل چلی آ رہی ہوتی ہیں جن سے انحراف کرنا انتہائی ناممکن ہوتا ہے۔ پاکستان ایک کثیرالقومی ملک ہے جس میں مختلف اقوام اپنے طور طریقوں سے زندگی بسر کرتی ہیں۔ ان اقوام میں بلوچ قوم کے نام سے پورے پاکستان میں لوگ موجود ہیں۔ پورے صوبہ بلوچستان میں اس قوم کی موجودگی تو پائی جاتی ہے لیکن دوسرے صوبوں میں بھی بلوچ اقوام بکثرت رہائش پذیر ہیں۔ دوسرے صوبوں میں بسنے والے بلوچ جن میں سے کچھ اپنے زبان سے ناآشنا ہوگئے ہیں البتہ انہوں نے اپنی روایت کو برقرار رکھا ہوا ہے۔

اسی طرح صوبہ پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان، راجن پور میں بلوچ قوم کے افراد کی اکثریت ہے جنہوں نے اپنی روایات کے ساتھ زبان بھی برقرار رکھی ہوئی ہے۔ ویسے تو سب لوگوں کے آپس میں میل ملاپ ہوتے رہتے ہیں البتہ پہاڑی علاقوں میں بسنے کی وجہ سے زمینی لوگوں کے ساتھ میل ملاپ کم رہتا ہے۔ البتہ شہری زندگی اپنانے والے خاندانوں کا زمینی اور پہاڑی دونوں مقامات کے ساتھ روابط موجود ہیں اور لوگوں کا آپس میں شادی غمی کی محافل میں شرکت کرنا ایک معمول ہے اور یہ باہمی ربط اتنا مضبوط ہے کہ آپس میں کوئی تفریق محسوس نہیں کرتا۔ سب کی خوشی اور غم میں سانجھی تصور ہوتی ہے۔ کبھی بلوچی/سرائیکی الفاظ کا استعمال بھی سننے کو نہیں ملتا۔ اس کی اہم وجہ لوگوں کا آپس میں میل ملاپ حتیٰ کہ رشتہ داریوں میں بدل گیا ہے۔

جتنے افراد پہاڑوں پر بستے ہیں ان میں سے اکثریت نے اپنے گھرانے مختلف شہروں اور دیہاتوں میں بھی منتقل کر دیے ہیں جہاں ان کی اولادیں بہتر تعلیم اور روزگار سے مستفید ہوتی ہیں کیونکہ پہاڑی علاقوں میں ذرائع آمد و رفت انتہائی ناگفتہ بہہ۔ جس کی وجہ سے لوگ شہروں کی طرف ہجرت کر گئے۔ ان علاقوں کی اہمیت وافادیت پہلے سے موجود تھی لیکن جب سے سردار عثمان خان بزدار وزیراعلی پنجاب بنے ہیں تب سے لوگوں کی توجہ اور زیادہ ہوگئی ہے۔

سردار صاحب کیوں کہ پہلی دفعہ ایم پی اے منتخب ہو کر چیف منسٹر پنجاب بنے ہیں تو یہ ایک اور انوکھی بات ہوئی جو لوگوں کو سمجھ نہیں آرہی۔ سب سے پہلے تو پرائم منسٹر عمران خان نے جب یہ کہا کے چیف منسٹر پنجاب کے گھر پر بجلی نہیں تو لوگوں کے لیے حیران کن تھا۔ سردار صاحب کے چیف منسٹر بننے کے چند مہینے بعد ان کے والد صاحب داعی اجل کو لبیک کہہ گئے سردار فتح محمد خان بزدار صاحب خود بھی ایم پی اے رہے ہیں تو ان کے اچانک موت خاندان کے افراد اور قبیلے والوں کے لیے ایک صدمے سے کم نہیں تھا۔

کیونکہ سردار فتح محمد خان بزدار کی نرم و شفیق شخصیت پورے علاقے کے لئے ایک نعمت سے کم نہیں تھی۔ وہ ہر وقت اپنے عوام اور علاقے کی ترقی کے لئے کوشاں رہتے بلکہ ان سے پہلے سردار عثمان بزدار کے دادا سردار دوست محمد خان بزدار جن کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ بارتھی کی طرف جانے والا راستہ انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں کے لیے بنوایا جہاں پر پہلے سوائے گھوڑی پر جانے کے کوئی راستہ موجود نہیں تھا۔ علاقے کی خدمت اس خاندان کی گھٹی میں شروع سے موجود ہے۔ اگر سرکاری وسائل جب نہیں بھی تھے تب بھی یہ لوگوں کی خدمت کرتے رہتے ہیں۔ سردار فتح محمد خان مرحوم کی نماز جنا زہ اور رسم قل خوانی میں خلق خدا کی موجودگی اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ واقعی عوام کے دلوں میں بسنے والی شخصیت تھے۔

بلوچی روایات کے مطابق جب باپ فوت ہو جاتا ہے تو باپ کی پگ ( *پٹکا* ) اس کے بڑے بیٹے کے سر پر آ جاتا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ اس قوم قبیلے کی سربراہی آپ کے کندھوں پر آگئی۔ جس کے لیے باقاعدہ دستار بندی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس تقریب میں شرکت کے لیے قوم کے تمام افراد شامل ہوتے ہیں۔ یہ کیونکہ انتہائی اہم تقریب ہوتی ہے اس میں شرکت کا ہمیں بھی موقع ملا۔ جس کے لیے ہمارے دوست جناب حبیب اللہ بزدار صاحب جو خود سردار عثمان خان کے قریبی ساتھیوں میں شامل ہیں اور بارتھی کے رہنے والے ہیں۔

ان سے ہمارا بہت ہی پرانا بھائیوں جیسا تعلق ہے۔ چہ جائیکہ مجھے کافی سفر کرکے جانا تھا لیکن حبیب اللہ بزدار کو انکار کرنا بھی انتہائی مشکل تھا۔ صبح جام پور سے براستہ ڈیرہ غازی خان تونسہ کے لئے روانہ ہوئے۔ تونسہ سے پہلے چوکی والا سٹاپ پر مغرب کی طرف پہاڑوں کی طرف ایک روڈ نکلتا ہے جو وزیراعلی صاحب کی گھر کی طرف جاتا ہے ہم راستے میں سوچ رہے تھے اگر چیف منسٹر صاحب سے ملاقات ہوئی تو انڈس ہائی وے کو بنانے کا مطالبہ ضرور کریں گے جس طرح رؤف کلاسرا صاحب نے ایم ایم روڈ کا عمران خان صاحب سے مطالبہ کیا تھا۔

لیکن جب ہم نے ان کے گھر کا راستہ دیکھا تو دل میں آنے والے اس خیال کی نفی کر دی اور سوچا سب سے پہلے ہم ان کو یہ کہیں گے کہ پہلے اپنے گھر کی سڑک سیدھی کر لیں ہم گزارا کر لیں گے۔ لوگوں نے بتایا یہ جو ابھی تھوڑا گاڑی چلنے کا کچا پکا راستہ بنا ہے، ابھی بنا ہے اور بجلی بھی ابھی آئی ہے۔ اس سے پہلے یہ بھی نہیں تھا۔

ہم کیونکہ جلدی پہنچ گئے تھے۔ وہاں پر قبیلے کے افراد تو ایک دن پہلے سے آئے ہوئے تھے رواج کے مطابق مختلف قبائل اپنی طرف سے جانور جمع کرواتے ہیں پھر انہیں میں سے مختلف قبیلوں کو سردار صاحب کھانے کے لئے تقسیم کردیتے ہیں تاکہ ہر قبیلہ اپنے کھانے کا خود انتظام کرے۔ صحیح فگر تو معلوم نہیں لیکن 800 جانور جن میں دنبے بکرے اور کچھ بڑے جانور گائیں وغیرہ شامل ہیں۔ لوگوں نے اپنی طرف سے دیے جو ان میں تقسیم کردی گئیں۔

لوگوں نے خود ہی علیحدہ علیحدہ خیموں میں اپنے قبائل کے لیے کھانے کا انتظام کیا۔ یہ ایک ایسا منظر تھا جیسے اب ہالی ووڈ کی فلموں میں پرانے زمانے کی عکسبندی دیکھتے ہیں۔ جس میں کہیں پر دنبہ ذبح کیا جارہا ہے، کہیں کھال اتاری جا رہی ہے اور دیگچے چڑھے ہوئے ہیں۔ کوئی خاص کاریگر نہیں بلکہ خود لوگ بنا رہے ہیں۔ خود پکا رہے ہیں۔ اس میں سب سے بڑی بات جو مجھے اچھی لگی، کھانے میں کوئی بھی مرچ مصالحہ کچھ بھی شامل نہیں تھا بلکہ صرف پانی اور نمک میں پکایا گیا گوشت اور روٹی کو علیحدہ اسی شوربے میں ڈال کر کھایا گیا۔

اتنا لذیذ کھانا جو انتہائی سادگی سے تیار کیا گیا واقعی کمال تھا البتہ باہر سے آئے ہوئے مہمانوں کے لیے علیحدہ انتظام موجود تھا۔ دستاربندی کی باقاعدہ تقریب شروع ہوئی جیسے ہی چیف منسٹر صاحب کا ہیلی کاپٹر آیا تمام افراد پنڈال میں آگئے اور دعائیہ تقریب شروع ہوئی۔ سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ علماء کرام نے فلسفہ موت و حیات کے اوپر روشنی ڈالی اور سردار صاحب کے کندھوں پر آج جو ذمہ داری آرہی ہے اس کے بارے میں بھی بتایا۔

جہاں یہ اعزاز کا مقام ہے وہیں پر لوگوں کے حقوق کی پاسداری کرنے کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ اس محفل میں علاقے کی تمام بڑی بڑی شخصیات آئی ہوئی تھیں۔ ہر چند سب کے نام لکھنا مشکل ہے۔ البتہ سردار نصراللہ خان دریشک، سردار احمد علی خان دریشک، محترمہ زرتاج گل، محمد حنیف خان پتافی اور باقی بھی ایم این اے، ایم پی اے کافی تعداد میں موجود تھے۔ رواج کے مطابق سردار عثمان خان بزدار کے سر پر *پٹکا* رکھا گیا۔ سادات کی طرف سے اس کے بعد مختلف افراد اور قبائل نے اپنی اپنی طرف سے پٹکے پیش کیے۔ ہمارے دوست حبیب اللہ بزدار اور ان کی فیملی کیونکہ انتظامیہ میں شامل تھی اور تمام امور کی نگرانی کر رہی تھی، ان کے ساتھ مل کر بیٹھنے کا موقع کم نصیب ہوا۔ البتہ دوسرے احباب اور ان کے رسوم و رواج کو قریب سے دیکھنے کا موقع ضرور ملا۔ لوگوں کے خیال میں اس سے پہلے ایسی کسی کی بھی تقریب نہیں ہوئی۔

سردار فتح محمد بزدار کی قبر پر فاتح خوانی کی اور سردار عثمان کے بھائیوں خصوصاً سردار جعفر خان بزدار سے تعزیت پیش کی۔ وہ بھی بڑے بھائی کی طرح کمال محبت سے لوگوں سے مل رہے تھے اور تعزیت وصول کر رہے تھے۔ آخر میں سردار جعفر خان بزدار سے اجازت لے کر واپسی کا سفر اختیا کیا جو یقیناً ایک یادگار سفر شمار ہوتا رہے گا۔ اِن شاءاللہ

آخر میں حبیب اللہ بزدار صاحب کا کافی مشکور ہوں جنہوں نے یہ موقع عطا فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ان کے خاندان اور قبیلے کی حفاظت فرمائے۔ آمین

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 3
  •  
  •  
رضا گڈن کی دیگر تحریریں
رضا گڈن کی دیگر تحریریں