میں کیو ں لکھتا ہوں ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اکثر میرے دوست، ساتھی اور میں خود بھی اپنے آپ سے سوال کرتا ہوں کہ ”میں کیوں لکھتا ہوں ؟ “ جس کا جواب دینا میرے لئے آسان ہو تا ہے مگر اُسے سمجھانا بہت مشکل۔ کیوں؟ اس کی بڑی آسان اور سادہ سی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں لکھنے پڑھنے کا رحجان قدرے کم ہے اور بدقسمتی سے ہم علم اور پڑھنے لکھنے کی طاقت اور قدر وقیمت سے واقف ہی نہیں۔ جہاں تک میری ذات کا سوال ہے تو میں کسی پڑھے لکھے خاندان، معاشرے یا طبقے سے تعلق نہیں رکھتا اور نہ ہی میں نے کہیں سے کوئی پر وفیشنل تعلیم و ٹریننگ حا صل کی ہے۔

یہ میرا شوق اور جنون ہے جو میں شہرت، عزت، رتبے، مقام اور اپنے علم کو دوسروں پر توپھنے کے لئے نہیں لکھتا۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ ہمارے لوگ پڑھتے کہاں ہیں اور وہ بھی کوئی اچھی اور معیاری تحریر۔ میں یہ بھی جانتاہوں کہ میرے لکھنے سے کسی کوکوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ کوئی میری بات پر تو جہ دیتا ہے اور یا میں کوئی نئی اور انوکھی بات کہہ رہا ہوں۔ چھوڑیں ان منفی باتوں کو آئیں لکھنے کے چند فوائد دیکھیں!

لکھنا صرف جذبات اور الفاظ کا اظہار نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر ہے۔ میرے لئے لکھنے کا عمل ایک سفر ہے۔ لکھنے کا عمل مجھے خود کو جاننے، سمجھنے، پرکھنے اور دیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ میں اپنی سو چ، ذہن اور اپنی زندگی کے مقصد کواور باریکی سے سمجھ سکتا ہوں۔ لکھنے سے انسان کے احساسات اور جذبات کو جلا ملتی ہے۔ لکھنے سے انسان کے واقعات حسین یادیں بن جاتے ہیں۔ لکھنے کا عمل ہماری مدد کر تا ہے کہ ہم اپنے ماضی سے سیکھ سکیں۔ لکھنے سے انسان کے اندرشعور، آگہی اور احساسِ ذمہ داری پیدا ہو تی ہے۔ لکھنے کا عمل ایک دیوانہ پن ہے۔ یہ ایک جنون ہے، ایک جذبہ ہے، ایک تحریک ہے جو انسان کے اندر سے اُٹھتی ہے اوراُسے دُنیا کے کونوں تک پہنچاتی دیتی ہے۔

یہ چند ایک فوائد لکھنے کے متعلق ہیں۔ میرا اکثر لوگوں سے سوال ہو تا ہے کہ آپ لکھتے کیوں نہیں تو جواب ملتا ہے کہ ہمیں لکھنا نہیں آتا اورہم کیا لکھیں۔ میں اس امر سے بخوبی واقف ہوں کہ لکھنے کا عمل اتنا آسان نہیں جتنا لکھنا اور وہ بھی مستقل مزاجی کے ساتھ۔ انٹرنیٹ پر ریسرچ کرنے کے دوران مجھے چند دلچسپ نکات ملے جو ہماری رہنمائی کرتے ہیں کہ ہم کس طرح ایک اچھے لکھاری بن سکتے ہیں۔

وہ نکات جن سے آپ جان سکتے ہیں کہ آپ کے اندرایک اچھے لکھاری کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

آپ نئے الفاظ کی تلاش میں رہتے ہیں۔

آپ ایڈونچر کو پسند کرتے ہیں۔

آپ کو مطالعہ کا شوق ہے۔

آپ بولنے سے پہلے لکھتے ہیں۔

آپ کو اچھے آرٹیکلز پڑھنے کا ذوق ہے۔

آپ مشاہد ہ کرتے اور کہانیا ں لکھتے ہیں۔

آپ اپنے ہر تجربہ کو ایک یاد گار واقع تصور کرتے ہیں۔

آپ کتابوں کو اپنے کپڑوں پر تر جیح دیتے ہیں۔

آپ لکھنے سے گھبراتے نہیں۔

بھئی یہ سب باتیں تو ٹھیک ہیں لیکن ہم کیوں لکھیں یہ ایک اور سوال ہے جو مجھ سے لوگ پوچھتے ہیں۔ اس کاجواب دینے کی میں نے معمولی سی کوشش کی ہے۔

لکھنا کیوں چاہیے؟

جب آپ لکھنا شروع کریں گے تو پھر آپ مواقع کی تلاش کریں گے۔

آپ چیزوں کو بہتر انداز سے ہینڈل کریں گے، آپ زیادہ منظم انسان بن جائیں گے۔

ُآپ کو لکھنے کے لئے نئے آئیڈیا ز ملیں گے، آپ کے پاس الفاظ کی کمی نہیں رہے گی۔

آپ کے پاس الفاظ کا ذخیرہ ہو گا، معلومات اور علم میں اضافہ ہو گا۔

آپ کی گفتگو میں نکھار آئے گا۔

آپ کو پڑھنے کی عادت پڑے گی۔

آپ نئے لوگوں سے ملیں گے۔

آپ اپنے کیرئیر کا سوچ سمجھ کر انتخاب کریں گے۔

قارئین اپنی زندگی میں لکھنے کی عادت کو اپنائیں۔ میں آپ کو یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ لکھنے کی عادت آپ کو زندگی میں بہت منفرد وکامیاب انسان بنا دے گی۔ خاص طورپر اُن لوگوں کو ضرور لکھنا چاہیے جو زندگی کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں تاکہ اُن کے تجربات سے دوسرے لوگ کارگر اور موثر ثابت ہو سکیں۔ نوجوانوں کو ضرور لکھنا چاہیے کیو ں وہ زندگی کو بالکل نئے زاویے سے دیکھتے ہیں اس لئے اُنہیں دنیا میں اپنے آپ کو اور اپنے نظریات کو دوسروں کے ساتھ شیئر کرنا چاہیے۔

اگر آپ زیادہ نہیں لکھ سکتے ہیں تو کم ازکم اپنی روزمرہ زندگی کے واقعات اور تجربات کو ضرور لکھیں۔ آخر میں یہ سوا ل پھر میرے ذہن میں آیا کہ میں کیوں لکھتا ہوں تو میراجواب یہ ہے۔ میں تو بس لکھتا ہوں صرف اپنے لئے۔ کہیں سے میرے دل کے دریچوں میں سے آواز آتی ہے کہ تو اپنے کام کو جاری رکھ۔ تو کسی اور کے لئے نہیں صرف اپنے لئے لکھتا جا۔ بس یہ ہی سوچ کر لکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ لکھنا تو چاہتا ہوں بہت، پھر سوچتاہوں بس اپنے لئے تو لکھتا ہوں۔ یہ سوچ کر ہی میں لکھتا جاتاہوں !

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •