یا اللہ یا رسول، عمران خان بے قصور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم اپنے وطن میں اجنبی ہیں۔ کہنے کو تو ہمارا پاکستان خود مختار ملک ہے۔ مگر ہم اپنے ملک کا کوئی فیصلہ خود نہیں کر سکتے۔ حکومت میں کون آئے گا۔ کون نہیں آئے گا۔ بجلی اور گیس کی قیمت کیا ہو گی۔ یہ کوئی اور ہی طے کرتا ہے۔ ہمارے ووٹ رائیگاں جاتے ہیں۔ منتخب کردہ حکومت کاروبار مملکت کے تمام کام غیر منتخب اور نیم پاکستانیوں سے کرواتی ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ الیکشن محض اس لئے کروائے جاتے ہیں کہ عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ کام کرنے کے لئے اچھے بندے کا انتخاب کیا جائے۔

نئے پاکستان کے تخلیق کاروں پر گمان تھا کہ وہ کچھ سچ میں نیا کریں گے۔ پاکستان کی سیاسی اور معاشی خود انحصاری اور خود مختاری کو بحال کریں گے۔ مگر یہ خواب بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔ بطور ووٹر اور پاکستان شہری کھائی سے نکلے اور گڑھے میں جا گرے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ ہم آزاد نہیں ہے۔ معاشی اور سیاسی طور ہم غلامی کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں۔ یہ جکڑن ہم نے خود گلے کا پھندا بنائی ہوئے ہے۔ مملکت خداداد پاکستان میں عمران خان کی حکومت، پہلی حکومت نہیں ہے۔ جس نے خود انحصاری و خود مختاری کی جانب جانے کی بجائے غلامی کو ترجیح دی ہو۔ یہ کام بڑے ذوق شوق سے 1958 سے جنرل ایوب خان کے سنہری دور میں شروع کیا گیا تھا جو اللہ کے فضل و کرم سے جاری و سار ی ہے۔

اسلام آباد میں کام کرنے والے سنیئر رپورٹر رانا ابرار خالد کی ایک رپورٹ کے مطابق گورنراسٹیٹ بینک رضا باقر پہلے شخص نہیں جنہوں نے آئی ایم ایف کی ملازمت چھوڑ کر پاکستان میں سرکاری عہدہ سنبھالا ہے۔ اس سے قبل بھی متعدد افراد عالمی بینک، آئی ایم ایف، آئی ایف سی، ایشیائی ترقیاتی بینک اورسٹی بینک و دیگرعالمی مالیاتی اداروں میں ملازم تھے اور انہوں نے پاکستان میں اہم سرکاری عہدے حاصل کیے۔ ان میں محمد شعیب سب سے پہلے وزیر خزانہ تھے جو 1958 میں عالمی بینک کی ملازمت چھوڑ کر وفاقی کابینہ کا حصہ بنے۔ ان کے بعد مرزا مظفر احمد جوکہ عالمی بینک کے وائس پریذیڈنٹ تھے، وہ ایوب خان کے دورمیں سیکرٹری خزانہ بنے۔ جبکہ جنرل یحییٰ خان کے دورمیں ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن کے عہدے پر فائز رہے۔ ڈاکٹرمحبوب الحق بھی عالمی بینک میں ڈائریکٹر پالیسی اینڈ پلاننگ تھے، ملازمت چھوڑ کر انہوں نے 10 اپریل 1985 کو وفاقی وزیر خزانہ کا عہدہ سنبھالا اور 28 جنوری 1988 کوسبک دوش ہوئے۔ معین احمد قریشی 1981 سے لے کر 1992 تک عالمی بینک کے سینئر وائس پریزڈنٹ رہے۔

اس سے قبل وہ آئی ایم ایف اورانٹرنیشنل فنانس کارپوریشن میں بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ 18 جولائی 1993 کو انہوں نے نگران وزیر اعظم پاکستان کاعہدہ سنبھالا اور 18 اکتوبر 1993 کوسبک دوش ہوئے۔ اس دوران معین قریشی نے سید بابر علی کواپنی کابینہ میں وزیر خزنہ تعینات کیا، جو سبک دوش ہونے کے بعدعالمی بینک میں چلے گئے۔ شاہد جاوید برکی بھی عالمی بینک میں خدمات انجام دے رہے تھے اورانہوں نے عالمی بینک کی ملازمت چھوڑ کر 11 نومبر 1996 کو نگران وفاقی وزیرخزانہ کاعہدہ سنبھالا۔ 17 فروری 1997 کوسبک دوش ہوئے۔ سر تاج عزیز جو کہ 25 فروری 1997 کو وفاقی وزیرخزانہ بنے، قبل ازیں 1984 میں بین الاقوامی فنڈ برائے زرعی ترقی کی ملازمت چھوڑ کر وزیر مملکت برائے خوراک زراعت بنے تھے اور 1988 میں سبک دوش ہوئے۔

ان کے بعد اسحق ڈاربھی ڈائریکٹر ورلڈ بینک اور وائس چیئرمین بورڈ آف گورنرز ایشیائی ترقیاتی بینک کی ملازمتیں کرتے رہے۔ وہ 7 نومبر 1998 تا 12 اکتوبر 1999، 31 مارچ تا 13 مئی 2008 اور 7 جون 2013 تا 28 جولائی 2017 کے دوران تین مرتبہ وفاقی وزیرخزانہ کے اہم عہدے پربراجمان رہے۔

شوکت عزیر جو کہ سٹی بینک میں بیرون ملک خدمات انجام دے رہے تھے وہ ملازمت چھوڑ کر 12 اکتوبر 1999 کووفاقی وزیر خزانہ بنے۔ جبکہ 28 اگست 2004 کووزیر اعظم کے عہدے پر براجمان ہوئے اور 15 نومبر 2007 کو سبک دوش ہوئے، اسی طرح ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ بھی عالمی بینک میں خدمات انجام دے رہے تھے اور ملازمت چھوڑ کر 2003 تا 2006 کے دوران وفاقی وزیر برائے نج کاری کاعہدہ سنبھالے رکھا، اس کے بعد 18 مارچ 2010 تا 19 فروری 2013 کے دوران وفاقی وزیر خزانہ رہے، جبکہ سبک دوش ہونے کے بعد دوبارہ عالمی بینک میں ملازمت اختیار کی اور 18 اپریل 2019 کوایک مرتبہ پھرعالمی بینک کی ملازمت چھوڑ کر بطور مشیر خزانہ، حکومتی عہدہ سنبھالا ہے۔

اس ساری رام لیلا میں ایک امر واضح ہوتا ہے کہ فیصلہ سازی منتخب حکومت اور وزیر اعظم کی بجائے اک بالا دست طبقے کے ہاتھ میں ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں کے تنخواہ خوار بھی بالا دست طبقے کی ملی بھگت سے حکومت کا حصہ بنتے ہیں۔ عمران خان حکومت میں وزرا کی تبدیلیوں سے لے کر آئی ایم ایف سے قرض لینے کے لئے مذاکرات کے امور حکومت سے بالا بالا ہی دکھائی دیتے ہیں۔ عمران خان کو ہم نا اہل کہہ سکتے ہیں۔ نا تجربہ کار کہہ سکتے ہیں، مگر عالمی مالیاتی اداروں کے ملازمین کی حکومت میں شمولیت میں ملوث نہیں کہہ سکتے۔ یہ فیصلہ عمران خان کا بالکل نہیں ہو سکتا۔ عمران خان کنٹینر پر بھی اپنے مرضی سے نہیں چڑھے تھے۔ عمران خان کی آج بھی اپنی مرضی نہیں چلتی۔ عمران خان کل بھی کھلاڑی تھے اور آج بھی کھلاڑی ہیں۔ کل اسے گراونڈ میں بھیجا جاتا تھا۔ آج انہیں حکومت میں بھیجا گیا ہے مگر مشروط طور چوکے چھکے مارنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

اقتدار کے دس ماہ عمران خان نے بالا دست طبقے کی انگلی پکڑ کر گزارے ہیں۔ معاشی، مذہبی اور سیاسی بیانیہ ریاستی ہے۔ ریاست ہی سب کچھ کر رہی ہے۔ عمران خان بے بس ہے۔ نا چار ہے۔ یا اللہ یا رسول عمران خان بے قصور۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •