تبدیلی ’’خوف‘‘ سے خوف زدہ


آج کل ایک ہی موضوع زیر بحث ہے اور وہ ہے ”کپتان“۔ لہٰذا نہ چاہتے ہوئے بھی کچھ نہ کچھ ذہن میں آ جاتا ہے، جو ضبطِ تحریر کرنا پڑتا ہے۔ مینیجمنٹ سائنسز کا ایک طالب علم ہونے کے ناتے سے میں حیران ہوں کہ آخر ایسا کیا غلط ہو ا کہ کھیل کے ابتدائی پانچ اوورز ہی میں لگ رہا ہے کہ کپتان کی ٹیم میچ ہار جائے گی۔ نہ صرف میچ ہارے گی بلکہ ٹیم کے لئے پورے اوورز کھیل لینا ہی ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ اوپر سے تھرڈ امپائر کا خوف بھی اوسان خطا کیے جا رہا ہے کہ کہیں ڈسپلن کی خلاف ورزی پر ایکشن ہی نہ لے لے۔

ایک عمدہ لیڈر شپ کے لئے جو وصف درکار ہوتے ہیں، وہ یقینا کپتان میں موجود ہیں۔ ایک طلسماتی شخصیت، متاثر کن جدوجہد کی کہانی، کر گزرنے کا جذبہ، مضبوط قوت عمل، مقصد کے حصول کا جنون، لگن، تڑپ، اخلاص اور سب سے بڑھ کر ایک قابل قبول اور قابل عمل عظیم مقصد۔

اس کے ساتھ ساتھ قسمت بھی کپتان کے ساتھ تھی کہ ملک کی تاریخ میں آج تک کسی بھی حکمران کو اتنے موافق حالات نہیں ملے جو کپتان کی قسمت میں آئے۔ اور کون خوش نصیب تھا جِسے تھرڈ امپائر کی مکمل آشیر باد حاصل رہی ہو؟ جس کو حامی تو ایک طرف، مخالف بھی کہہ رہے ہیں کہ ایک چانس دینا چاہیے۔ جس کی حکومت کی کامیابی کے لئے تمام اپوزیشن پارٹیز دعا گو ہوں، جس کے تما م اہم مخالفین اپنے اپنے مقدمات میں پھنسے ہوں اور سیاسی میدان بالکل صاف ہو، جس کی حکومت کو امن امان، معیشت، بجلی کا بحران جیسے عفریتوں کاسامنا نہ ہو، یقینا اس سے پہلے ایسی کوئی مثال نہیں۔

لیکن بہترین قائدانہ صلاحیتوں اور موافق ترین حالات کے باوجود کپتان سے آخر کیا غلط ہوا جس کی بنا پر ہاہا کار مچی ہے؟ تو آئیے آپ کو ایک چھوٹا سا واقعہ سناتا ہوں۔

میرا بیٹا کپتان کے 2014 کے دھرنے کے وقت 11 سال کا تھا اور شاید گریڈ چھے کا سٹوڈنٹ تھا، اپنے دیگر کزنز کی دیکھا دیکھی وہ بھی تبدیلی کا مداح تھا اور گھر میں کپتان کا بہترین ترجمان۔ 2014 میں جب کپتان نے کنٹینر پر سوار ہو کر ہر شخص کی پگڑی اُچھالنے کا سلسلہ شروع کیا تو تقریباً دو ہفتے بعد ہی میرا بیٹا مجھ سے کہنے لگا، کہ بابا مجھے کپتان اچھا نہیں لگتا۔ میرے لئے یہ ایک جھٹکا تھا کہ کپتان کے پرستا ر میں اتنی تبدیلی کیوں؟

Baba، he is too negative۔ میرے پوچھنے پر بیٹے کا جواب تھا۔

یہ ایک جملہ کپتان کے پورے سیاسی کیریئر پر ایک جامع تبصرہ تھا۔

لیڈرز کا کام گالم گلوچ نہیں ہے۔ لیڈرز عامیانہ زبا ن اختیار نہیں کرتے، لیڈرز ذاتی رنجشیں نہیں پالتے، لیڈرز کا کام مصائب کی گردان کرنا نہیں بلکہ ان کے قابل عمل حل دینا ہے، لیڈرز کا کام قوم کا مایوس کرنا نہیں بلکہ مایوسی سے نکالنا ہے۔

کپتان کو حکومت حاصل کیے 9 ماہ گزر چکے ہیں، لیکن لگتا ہے کہ کپتان کی روح کنٹینر پر گزرے دور میں مقید ہے۔ آپ ہر مسئلے کو سابق حکومت پر ڈال کر کتنا وقت گزار سکتے ہیں۔ اس منفی طرزِ عمل کے ساتھ ساتھ کپتان کی عنان حکومت سنبھالنے کے بعد پہلی اور بڑی ناکامی غلط ٹیم کا چناو تھا۔ کیسے ممکن تھاکہ خیبر پختون خواہ اور پنجاب جیسے صوبے نا تجربہ کار اور نا اہل افراد کے سپرد کر کے کامیاب ہونے کی توقع کی جائے؟ میرے اپنے خیال میں اسد عمر کو بھی جلد اس لئے فارغ کرنا پڑا کہ اس پر اس نا اہل ٹیم کا بھی بوجھ تھا۔

دوسری وجہ کپتان کی ساری ٹیم کے پاس ایک خود ساختہ اخلاقی برتری کے علاوہ کوئی قابل ذِکر صلاحیت کا موجود نہ ہونا ہے۔ اخلاقی احساس برتری پر تفاخر ٹی وی پروگرامز میں تو دکھایا جا سکتا ہے لیکن کارکردگی کے ساتھ اس کا تعلق صفر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی وزیر سے کارکردگی کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے تو جواب میں ایک لمبا بھاشن اخلاقیات پر دینے کے علاوہ کوئی جواب نہیں بن آتا۔ مسائل کے حل کے لئے صلاحیت چاہیے اخلاقیات کے بھاشن سے نہ تو معیشت بہتر ہونے والی ہے، نا ہی مہنگائی قابو میں آنے والی ہے۔ جس موٹر سائیکل سوا ر کو 109 روپے میں پٹرول ملے گا وہ اخلاقیات کی تمام حدود پھلانگتے ہوئے آپ کے گریبان تک ضرور پہنچے گا۔

ان سب کے علاوہ ناکامی کی جو سب سے بڑی وجہ بن رہی ہے وہ ”خوف“ ہے۔ کپتان اور اس کے حواریوں نے پورے ملک کو ایک ان دیکھے خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ آرگنائزیشنل ڈویلپمنٹ سے وابستہ افراد جانتے ہوں گے کہ چینج مینجمنٹ کے اصول لاگو کیے بغیر کپتان کے تبدیلی کے خواب ایک خواب ہی رہیں گے۔ خوف تبدیلی کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کپتان اور اس کی ٹیم تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیتی اور خوف کی بجائے ایک اعتماد کی فضاء پروان چڑھاتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا اور ابھی تک نتائج سب کے سامنے ہیں۔ جن کی بنا پر آنے والے وقت کا ایک محتاط اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور اگر اندازے درست ثابت ہوئے تو یہ بھی ایک کلاسیک کیس اسڈی ہو گا، کہ جہاں ایک شخص موزوں قائدانہ صلاحیتوں اور موافق ترین حالات ہونے کے باوجود بھی کامیاب نہ ہو سکا۔

Facebook Comments HS