دارالعلوم والے علما، جاوید غامدی اور رمضان میں سفر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پڑھے لکھے طبقات میں پہلے سید مودودی اور پھر جاوید احمد غامدی صاحب کی مقبولیت کی وجہ پر کیا کسی دارالعلوم والے عالم نے غور کیا ہے؟ یہ لوگ جدید ذہن کے مطابق دین کی تشریح کرتے رہے۔ اس بحث میں پڑنے کا فائدہ نہیں کہ ان کی تشریح کتنی درست یا غلط ہے۔ 1300 سال سے چار آئمہ کے ماننے والے اپنے امام کے علاوہ بقیہ تین اماموں کی تشریح کو بھِی غلط کہتے آئے ہیں۔ اس لئے اس بحث کو رہنے دیں اور یہ حقیقت تسلیم کر لیں کہ ان سب کی رائے کے مواخذ قرآن و حدیث ہی ہیں۔

بلکہ غامدی صاحب کے کیس میں دین کا ایک اہم اصول سامنے آتا ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دین آسانیاں پیدا کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ مزید تفصیل کے لئے وہ حدیث پاک دیکھ لیں جس میں ایک شخص حضور پاکؐ سے روزہ توڑنے کے کفارے کے بارے میں سوال کرتا ہے اور بات غلام آزاد کرنے یا ساٹھ روزے رکھنے سے شروع ہو کر اس اجازت پر ختم ہوتی ہے کہ کفارے کے طور پر رسول پاکؐ کی عطا کردہ کھجوریں اپنے بال بچوں کے ساتھ مل کر کھا لے۔

صحیح بخاری میں روزے کے بیان میں یہ حدیث پاک موجود ہے۔
ابوالیمان، شعیب، زہری، حمید بن الرحمن، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں تو ہلاک ہو گیا۔ آپ نے دریافت کیا بات ہے؟ اس نے بتایا کہ میں نے اپنی بیوی سے روزہ کی حالت میں جماع کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس کوئی غلام ہے جسے تم آزاد کر سکو؟ اس نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے فرمایا کیا تم دو مہینے متواتر روزے رکھ سکتے ہو اس نے کہا نہیں آپ نے فرمایا کہ کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ اس نے کہا نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر خاموش رہے ہم اس حال میں تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تھیلا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں اور عرق سے مراد مکتل ہے۔ آپ نے دریافت کیا کہ سوال کرنے والا کہاں ہے؟ اس نے کہا میں ہوں، آپ نے فرمایا اسے لے جا اور خیرات کردے۔ اس شخص نے پوچھا کیا اس کو دوں، جو مجھ سے زیادہ محتاج ہے، یا رسول اللہ! مدینہ کے دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیان کوئی ایسا گھر نہیں، جو میرے گھر والوں سے زیادہ محتاج ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے، یہاں تک کہ آپ کے اگلے دانت کھل اٹھے، پھر آپ نے فرمایا اپنے گھر والوں کو کھلا۔

اب رمضان ہے۔ کیا ہمارے علما ان افراد کے لئے جنہیں دین میں روزے سے رخصت دی گئی ہے، زندگی مشکل کرنے والے غیر اسلامی حکومتی فیصلوں کے بارے میں آواز بلند کرتے ہیں؟

کیا قرآن مجید میں یہ آیت واضح طور پر روزے کے بارے میں یہ نہیں بتا رہی کہ اللہ کا ارادہ ہمارے ساتھ آسانی کا ہے، سختی کا نہیں؟
”ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا ( 1 ) جو لوگوں کو ہدایت کرنے والا ہے اور جس میں ہدایت کی حق و باطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے اور روزہ رکھنا چاہے، ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں یہ گنتی پوری کرنی چاہیے اللہ تعالیٰ کا ارادہ تمہارے ساتھ آسانی کا ہے سختی کا نہیں وہ چاہتا ہے تم گنتی پوری کرلو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس طرح کی بڑائیاں بیان کرو اور اس کا شکر ادا کرو۔“ (البقرہ 185)

مسافروں کے لئے رخصت ہے، بیماروں کے لئے، بچوں کے لئے۔ وغیرہ وغیرہ۔ ان کے لئے جو کھانا پینا محال کر دیا جاتا ہے اس پر علما اسلامی موقف کیوں سامنے نہیں لاتے؟ لوگوں کو اللہ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرنے اور اس کا شکر ادا کرنے سے کیوں روکا جا رہا ہے؟ چند برس پہلے کراچی میں شدید گرمی سے لاچار ایک سیکیورٹی گارڈ کو پانی پینے پر ہجوم نے مار مار کر لہو لہان کر دیا تھا۔ کیا علما نے اس بارے میں کوئی آگاہی مہم چلائی تھی؟

گزشتہ برسوں میں کراچی میں ہیٹ ٹریپ کے باعث رمضان میں درجنوں لوگ مر رہے ہیں۔ کیا علما نے اس معاملے میں جان بچانے کو پہلی ترجیح دینے والے اسلامی موقف کے مطابق عوام کی کوئی راہنمائی کی ہے کہ انہیں کیا کرنا چاہیے؟

جنرل ضیا الحق نے بھی جب موجودہ ”احترام رمضان“ کی ریت ڈالی اور کھانے پینے کے جگہیں بند کروائیں تو اس وقت بھی جنہیں کھانا چاہیے ہوتا تھا وہ ریلوے سٹیشن یا بس اڈوں پر چلے جاتے تھے۔ ادھر چوبیس گھنٹے کھانا پینا میسر تھا اور کوئی شخص دوسرے سے نہیں پوچھتا تھا کہ میاں تم کیوں کھا رہے ہو۔ سب کو پتہ تھا کہ مسافر کو روزے سے رخصت ہے۔

لیکن اب گزشتہ دنوں یہ پڑھا ہے کہ سندھ میں قانون نافذ ہے کہ سفر کرنے کے لئے بنائی گئی شاہراؤں پر بھی ہوٹلوں کو بند رکھنے کا حکم ہے۔ یہ حال پیپلز پارٹی کی حکومت والے صوبے کا ہے۔ وقار ملک کی تحریر سے شمالی علاقوں کا پتہ چلا کہ نگر سے پہلے تک یہی کام ہو رہا ہے۔

دو برس پہلے رمضان میں ناران جانا ہوا۔ ساتھ ڈیڑھ برس سے شروع ہونے والے بچے بھی تھے۔ ہوٹل والے ناشتہ دینے سے انکاری تھے۔ بمشکل ایک ہوٹل میں جگہ ملی جو ناشتہ دینے پر تیار تھا۔ ہوٹل کے مالک نے بتایا کہ ادھر مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ رمضان میں سیر سپاٹے پر نکلنے والوں پر عیاشی کے احکامات لاگو ہوتے ہیں، مسافرت کے نہیں۔ اگر یہ بات پتہ چلے کہ ہوٹل رمضان کے اوقات میں خواہ ننھے بچوں کو ہی کھانا دے رہا ہے تو مفتی صاحب کے عقیدت مند اس کا جلاؤ گھیراؤ کر دیں گے۔

وقار ملک کے بلاگ پر ان کے ننھے بچوں کو پیش آنے والی مشکل صورت حال پر ایک سواتی صاحب کا بھی یہ موقف پڑھا کہ ”رمضان میں سیر سپاٹے کو سفر نہیں کہتے۔ کوئی انتہائی کام یا روزگار کے لئے سفر ہو تو سفر کہتے ہیں۔ سیر سپاٹے کے لئے رمضان میں نکلنا نہیں چاہیے۔ “

ہمارا دینی علم مفتی صاحبان جتنا نہیں ہے۔ مگر تھوڑا بہت دین کا علم بہرحال رکھتے ہیں۔ اسی کی روشنی میں اپنی وال پر مفتی صاحبان سے خصوصاً اور عام افراد سے عموماً یہ سوال پوچھ لیا:

”کیا اس دعوے کے حق میں قرآن یا حدیث سے دلیل دی جا سکتی ہے جس سے واضح ہو کہ سفر کیا ہوتا ہے کیا نہیں؟ کیا نماز قصر کے معاملے میں سفر کی شرائط بھی یہی سیر سپاٹے والی ہوتی ہیں، یعنی اگر کوئی شخص سیر و تفریح کی نیت سے سفر کر رہا ہے تو وہ پوری نماز پڑھے گا اور اگر کوئی ’انتہائی اہم کام‘ یا روزگار کے سلسلے میں سفر کر رہا ہے تو اسے قصر پڑھنے کی اجازت ہے؟ یا پھر نماز قصر کے احکامات میں جسے سفر کہا گیا ہے روزے کے احکامات میں بھی وہی سفر کہلائے گا؟ “

اس پر ہمارے مہربان اور جمعیت علمائے اسلام کے جریدے الجمعیت کے مدیر مفتی محمد زاہد شاہ صاحب نے جواب دیا کہ
”کسی سفر کی تخصیص نہیں۔ جو بھی مسافت قصر کے بقدر سفر کرے گا اس کے لئے نمازمیں قصر اور روزہ نہ رکھنے کی گنجائش ہے۔ البتہ رمضان میں عبادات، اذکار اور تلاوت قرآن کا خاص اہتمام ہونا چاہیے جو ظاہر ہے کہ دوران سفر نہیں ہو پاتا اس لیے محض سیر سپاٹے کی غرض سے سفر سے احتراز کرنا بہتر ہو گا تاہم ممنوع نہیں۔ “

مفتی زاہد شاہ صاحب نے ایک بہت واضح انداز میں یہ بتا دیا کہ اسلام کس بات کی اجازت دیتا ہے۔ اور یہ بھی بتا دیا کہ اس اجازت کے باوجود ان کی رائے میں کسی شخص کے لئے بہتر لائحہ عمل کیا ہے۔ کیا جمعیت علمائے اسلام والے اس ضمن میں پارلیمنٹ میں اور مساجد میں بات کر کے اسلام کی دی ہوئی اجازت کو فسخ کرنے کے حکومتی فیصلوں کے خلاف آواز بلند نہیں کر سکتے؟ کیا وہ عوام میں اس بارے میں درست اسلامی تعلیم نہیں پھیلا سکتے؟

کیا سورہ تحریم میں واضح آیت موجود نہیں ہے کہ ”اے نبی! جس چیز کو اللہ نے آپ کے لئے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں؟ “۔ تفسیر ابن کثیر میں اس آیت کے بارے میں لکھا ہے کہ ”امام احمد اور بہت سے فقہاء کا فتویٰ ہے کہ جو شخص اپنی بیوی، لونڈی یا کسی کھانے پینے پہننے اوڑھنے کی چیز کو اپنے اوپر حرام کر لے تو اس پر کفارہ واجب ہو جاتا ہے۔ “

دارالعلوم والے مفتی صاحبان کو عوام میں یہ شعور پھیلانا چاہیے کہ دین آسانیوں کا حکم دیتا ہے، سختی کا نہیں۔ جنرل ضیا والے احترام رمضان کی بجائے اسلامی احکامات والے احترام رمضان کی تبلیغ کرنی چاہیے۔ مفتی زاہد شاہ صاحب کی طرح یہ بتائیں کہ اسلام میں کس شے کی اجازت ہے، اور ہر شخص شخصی لیول پر فیصلہ کرے کہ وہ یہ رخصت لیتا ہے یا نہیں۔ ورنہ پھر حیران ہی ہوتے رہیں گے کہ جاوید احمد غامدی صاحب کو مقبولیت کیوں مل رہی ہے۔ چلتے چلتے صحیح بخاری میں منقول ایک مزید حدیث مبارکہ سے راہنمائی لیتے ہیں۔

ابو النعمان حماد بن زید ازرق بن قیس سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم اہواز میں نہر کے کنارے ٹھہرے ہوئے تھے جس کا پانی خشک ہوگیا تھا ابوبرزہ ایک گھوڑے پر سوار آئے آپ نماز پڑھنے لگے اور گھوڑے کو کھلا چھوڑ دیا وہ گھوڑا چلنے لگا تو نماز چھوڑ کر اس کا پیچھا کیا یہاں تک کہ اس گھوڑے تک پہنچ کر اس کو پکڑ لیا پھر واپس آئے اور باقی نماز پوری کی اور ہم میں ایک آدمی عقلمند تھا وہ کہنے لگا کہ اس بڈھے کو دیکھو کہ گھوڑے کے لئے نماز چھوڑ دی تو ابوبرزہ کہنے لگے کہ جب سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدا ہوا ہوں کسی نے مجھ کو ایسی سخت بات نہیں کہی اور بیان کیا کہ میرا گھر بہت دور ہے اگر میں نماز پڑھتا اور اس گھوڑے کو چھوڑ دیتا تو میں رات تک بھی اپنے گھر والوں میں نہ پہنچ سکتا اور بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں رہا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آسانی اختیار کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

اسی بارے میں: رمضان کا احترام ۔۔نگر سے سیکھئے
image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1117 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar