ماں! تُو مجھ سے خوش تو ہے ناں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر سال یہ دن آتا ہے اور آکے چلا جاتا ہے۔ ایک طرف ہم زیرِ الزام کہ ”ہم صرف دن ہی منایا کرتے ہیں اور عملاً کچھہ نہیں کرتے۔ “ اور دُوسری طرف یہ کوسنا کہ ”ہم مغرب کی اندھی تقلید میں مگن ہیں۔ وہ جو کرتے ہیں، ہم بھی آنکھیں بند کیے، بس وہی۔ بِلا تفکّر و جِھجھک کیے جاتے ہیں۔ ہَمیں الاں دن نہیں منانا چاہیے۔ فلاں تہوار یاد نہیں رکھنا چاہیے۔ “ کسی طرف سے یہ نَوائیں بلند ہوتی سُنائی دیتی ہیں کہ ”ہمارے لئے تو ہر دن ماؤں کا دن ہے۔

ہم جب تک اپنی مادرِ توقیروَر سے دُعائیں طلب کر کے گھر سے نہ نکلیں، تب تک کامیابی ہمارے قدم نہیں چوما کرتی۔ ہم دن کا آغاز ماں کی دعاؤں کے بغیر ادھُورا سمجھتے ہیں۔ یہ دن تو انہُوں نے منانا شروع کیا تھا، جو اپنی ماؤں کو اولڈ ایج ہاؤس چھوڑ کے آتے ہیں اور سال میں یہی ایک دن اُن سے ملنے جاتے ہیں اور پُھولوں کا گلدستہ دے کے آتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنا فرض پورا کر دیا ہے۔ وغیرہ۔ وغیرہ۔ غرض یہ کہ اِس دن کے حوالے سے جتنی زبانیں۔

جتنے دہن، اس سے بھی کہیں زیادہ تبصرے۔ کیونکہ اس سوشل میڈیا نے ہمیں آزادی دے رکھی ہے کہ ہم بولتے پہلے ہیں اور سوچتے بعد میں۔ اور اگر ہمارے تبصرے کی طباعت کے بعد، کسی صاحبِ خِرَد کا تبصرہ ہمیں یہ احساس دلانے میں کامیاب ہوجائے کہ ہم غلط ہیں، تو شام تک یا تو ہمارا تبصرہ، تدوِین شُدہ صُورت اختیار کرلیتا ہے، اور یا پھر یَکسر ایک سو اسِی کے زاویے سے تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس لئے مندرجہ بالیٰ ”جتنی زبانیں، اس سے بھی زیادہ تبصرے“ کی اصطلاح استعمال کی گئی۔

بشمُول پاکستان 40 سے زائد مُمالک میں منایا جانے والا ”مَدرز ڈے“ 1908 ء سے منایا جانے لگا ہے، جب ”آنّا جیوِس“ نامی ایک امریکی خاتون نے اپنی ماں کے مرنے کے تین برس بعد، اُس کی یاد میں، پہلی بار مغربی ورجینیا کے ”سینٹ اینڈریو میتھوڈسٹ چرچ“ نامی ایک گرجا گھر میں، یہ دن منایا، جبکہ آنا نے اِس دن کو امریکا کے لئے اہم دن بنانے کی جدوجہد کا آغاز 1905 ء ہی سے کر دیا تھا، جب کہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آنا کی والدہ کی زندگی میں یہ خواہش تھی کہ اُس کی بیٹی اُس کی یاد میں یہ دن منائے۔

1908 ء میں ماؤں کا یہ دن منایا تو جانے لگا، مگر جب اس کو عام تعطیل بنانے کی قرارداد امریکی کانگریس میں جمع کرائی گئی، تو اُسے یہ کہہ کر مضحکہ خیر انداز میں مُسترد کیا گیا کہ ”اگر مدرز ڈے پر ملک میں چُھٹی کی منظوری دے دی گئی، تو کَل کلاں کو ہمیں ساسوں کے دن یعنی مدر ان لا ڈے کی بھی عام تعطیل کے لئے درخواستیں موصُول ہونے لگیں گی۔ “ بہرحال 1912 ء میں آنا کی عام تعطیل کی خواہش بھی پوری ہوگئی اور اُس برس امریکا کی ”ورجینیا“ ریاست میں اُس دن پر عام تعطیل کی گئی، مگر اُسی برس سے یہ فیصلہ بھی کِیا گیا کہ آئندھ ”مئی مہینے کے ہر دُوسرے اتوار“ کو ماؤں کا دن منایا جائے گا۔

آنا کی اپنی ماں کی یاد میں منایا جانے والا دن، ایک تحریک کی صورت میں ”مدرز ڈے انٹرنیشنل ایسوسی ایشن“ کے ذریعے آگے بڑھا اور پھر اِس دن کو پہلے پُورے امریکا، پھر آسٹریلیا اور یورپ اور بعد میں پُوری دنیا میں منایا جانے لگا اور شاید 1938 ء میں 84 برس میں وفات پا جانے والی آنا جاروِس کو یہ معلوم نہیں ہوگا، کہ اُس کا شرُوع کیا ہوا یہ ”مدرز ڈے“ اکیسویں صدی میں ایک ”جذباتی تہوار“ کے بجائے ایک ”کارپوریٹ تہوار“ بن جائے گا، اور ہزاروں کمپنیوں کے کروڑوں روپے کی کمائی کا باعث بن جائے گا۔

کوریئر کمپنیاں سجاوٹ کی رنگیلی پٹّیوں میں لپٹے چند سو روپوں کے پھولوں کے گلدستے ہزاروں روپوں میں بیچیں گے، مٹھائیاں اور کیک پنج گُنہ، شش گُنہ داموں فروخت ہوں گے۔ عام چیزوں کو ”ماں“ کے نام سے ”برانڈ“ کرکے اُس کی دس گنا قیمت وصول کی جا سکے گی۔ اور ہم سب خوشی سے یہ قیمت ادا کر کے ان برانڈڈ چیزوں کی خریداریوں کو فروغ دیتے رہیں گے۔ گویا ماں سے محبّت کا اظہار بھی ایک ”خرید و فروخت“ کی چیز بن جائے گی، اور ہم سب اس میں خوش ہوں گے۔

یہاں سوال یہ نہیں ہے کہ ماں کی محبّت میں ان چیزوں کی خریداری کرنی چاہیے یا اِس سے گُریز۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس دن کا حق صحیح معنوں میں ادا کر رہے ہیں؟ یا اِن جگمگاتی چیزوں کی چمچماہٹ میں ماں کے ساتھ اُس اصل محبّت اور عقیدت کا اظہار کہیں پیچھے رہ جاتا ہے؟ جو اس دن کا اصل خاصہ ہونا چاہیے! چلیں! آپ کی بات سَر آنکھوں پر، کہ ہم جیسے معاشروں میں ماں جیسی ہستی کے لئے کوئی ایک دن مخصُوص نہیں ہوا کرتا۔

تو ہم سال کے 365 دن ماں کی عظمت کو یقینی بنانے کے لئے کیا اہتمام کرتے ہیں؟ ہم اس مشینی زندگی میں سارا دن کام پر گزار کے آنے کے بعد گھر میں روزانہ کتنی دیر اپنی ماں کے پاس جا کر بیٹھتے ہیں، جو ہمارے وقت ناں دینے پر کبھی شکایت نہیں کرتی، اور ہمارے بوڑھے ہونے تک ہماری نالائقیوں تک کے عُذر تلاش کِیا کرتی ہے۔ یہ وہی ماں ہے، جو آج بھی چاہتی ہے کہ اُس کی تمام اولادیں ایک ساتھ اس کی آنکھوں کے سامنے رہیں۔

وہ جو کمزور بصارت، سماعت اور جسم میں طاقت نہ ہونے کے باوجود اپنے بچّوں کی آہٹ سے اُن کے آنے کا پتہ لگا لیتی ہے، جس کو مسکراٹوں کے ہزاروں پردوں میں چُھپی ہماری پریشانیاں نظر آ جاتی ہیں اور جِسے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ ہمیں بھوک لگی ہے، اُس ماں کو خراج پیش کرنے کے لئے سال میں ایک دن یقیناً مُخصُوص نہیں ہونا چاہیے، مگر ہم میں سے شاید کئی ایسے بھی ہوں، جنہیں اپنی ماؤں کو اس بات کا احساس دلانے کے لئے کہ ”وہ ہمارے لئے اہم ہے“، شاید اس ایک دن کی فرصت بھی نہیں۔

جن میں سے کئی ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے بھی اُس سے کئی کئی دنوں تک نہیں مل سکتے، جو اپنے فیصلوں میں اُس کی رائے یہ کہہ کر نہیں لیتے کہ ”امی تو پرانے زمانے کی ہیں، انہیں اس بات کا کیا پتہ! “ اور آج بھی ہم اہم دنوں کی خریداری کرتے ہوئے سب سے آخر میں اپنے گھر کے جس فرد کو یاد کرتے ہیں، وہ بہت سارے گھروں میں شاید ہماری ماں ہی ہو! یہ عکاسی ہر گھر کی نہیں ہے، مگر اکثر گھروں کی ضرُور ہے۔ اور جس جس گھر میں صُورتحال اس کے برعکس ہے، وہ گھر یقیناً جنّت سے کم نہ ہوگا۔

ہمارے ہاں ایک قدیم مقولہ ہے کے ”جب آنکھ کھلے، تَب سویرا“ جس کا طلب ہے کہ جب جس بات کا احساس ہو، اسی وقت کو اچھے کام کا نُقطہء آغاز سمجھ کر شرُوعات کی جا سکتی ہے۔ تو آج کے دن ہم خود سے یہ چند سوالات کر کے ایک نئے آغاز کو ممکن بنا سکتے ہیں کہ ہماری شخصیت میں ایسی کتنی خوبیاں ہیں جو صرف اور صرف ہماری ماں کی بدولت ہیں، اور کیا ہم نے اُن خصائل کی شکرگذاری کا اظہار کبھی اپنی ماں کے ساتھ برملا کیا ہے؟ اور یہ کہ ہم اپنے دن اور رات کے 24 گھنٹوں میں اُس کی ضروریات، صحت، سلامتی اور دیگر چیزوں کی فکر میں کتنا وقت صَرف کرتے ہیں، ہم دن اور رات کا کتنا وقت اُس کے پاس جا کر بیٹھنے، اُس سے باتیں کرنے، اُس سے رابطہ کرنے، اور اُس کے دُکھ سُکھ کا احوال پُوچھنے میں گزارتے ہیں۔

کیا ہم نے اُس کی صحیح معنوں میں خدمت کرکے اُس کے پیروں تلے چُھپی جنّت کمانے کی سنجیدگی سے کوشش کی ہے؟ کتنی بار ہم نے اُس کے حُکم پر لبیک کہا ہے؟ جس کی صدا کا نماز کے دؤران بھی جواب دینے کا حکم آیا۔ ہم نے کتنی بار اُس ماں سے اونچی آواز میں بات کی ہے، جس سے دِھیمے انداز و لہجے میں بات کرنے کا حکم آیا اور ہم کتنے دنوں میں اُس کی بوڑھی ہتھیلی کو اپنے ہاتھوں میں لے کر اُس کی آنکھوں میں پیار سے اپنی آنکھیں ڈال کر، یہ دریافت کرتے ہیں کہ ”ماں! مجھ سے جب جب کوئی کوتاہی ہوئی ہے، تم نے معاف تو کی ہے ناں؟ اور ماں! تو مُجھ سے خوش تو ہے ناں! ؟ “

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •