بچوں کا جنسی استحصال: سنجیدہ اقدامات کی ضرورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا آپ نے کبھی بچوں کے حقوق اور ان کے جنسی استحصال کے خلاف تحریکوں کو زور پکڑتے دیکھا ہے؟ ہمارے ہاں مرد و خواتین کے جنسی تحفظ اور ان کے حقوق کی آواز بلند کرنے والے تو بہت ہیں مگر اس بڑھتی تباہی پر روشنی ڈالنے والا ایک بھی نہیں جو نہایت خوفناک ہے۔

آج کل کے جدید دور میں والدین کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ اپنے بچے کے رویے کو سمجھیں اور ان کی گفتگو کے ذریعے ان کی ذہنی صحت کا اندازہ لگا سکیں۔ کیا آپ نے کبھی اپنے بچے کا کسی مخصوص عزیزکے قریب جانے پرعجیب رویہ یا اس کے چہرے پر خوف دیکھا ہے؟ اسے دیکھ کر بھی اکثر نظر انداز کردیا جاتا ہے بلکہ اکثر اوقات اسے غلط رویہ اور بدتمیزی سمجھا جاتا ہے۔ اگر بچہ کسی کہ پاس جانے سے انکار کرے تو اس سے وجہ دریافت کرنے کی بجاے اس کو اس عزیز کے قریب جانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اسے مشرقی روایت کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔

ایک بڑا طبقہ ”ورکنگ کلاس“ سے تعلق رکھتا ہے۔ والدین تمام دن باہر رہتے ہیں اور اکثر اوقات بچوں کی دیکھ بھال کے لیے ملازم رکھے جاتے ہیں۔ ملازموں سے ان کے کام کے متعلق تو سوال کیے جاتے ہیں لیکن بچوں سے یہ معلوم کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی کہ کہیں انہیں کسی مشکل رویہ کا سامنا تو نہیں ہو رہا۔ بچوں کے جنسی استحصال کے مسئلہ کو غیر سنجیدگی سے لینے کی وجہ سے اب اس کی شرح خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ سینٹ کے ایک اجلاس میں پولیس کے بیان کے مطابق اسلام آباد میں پچھلے پانچ سالوں میں بچوں پراس ظلم کے 500 کیس درج ہیں اور 260 ایسے کیسز تھے جو رجسٹر ہی نہیں ہوئے۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ 9 بچے جنسی استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔ 2017 میں جنسی استحصال کے 3445 کیسز رجسٹر ہیں اور ان بچوں میں سے 2077 لڑکیاں تھی۔ یہ معلوم تعداد ہے۔ اس ظلم کے بارے میں آدھے سے زیادہ کیسز رجسٹر نہیں کیے جاتے۔ اول تو نصف سے زیادہ بچے خوف و دبدبے اور بالغوں کی طرف سے ملی دھمکیوں کے باعث خاموشی سے یہ ظلم برداشت کرتے ہیں۔ اگر بچہ ہمت کر کے اپنے والدین کو خود پر ہونے والے اس سلوک سے آگاہ کر بھی دے تو اسے عزت کھو جانے اور لوگوں کی باتوں کے ڈر سے خاموش کروا دیا جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر پچھلے دنوں جنسی ہراسانی کے خلاف چلنے والی ایک مہم عروج پرتھی۔ مجھے اس مہم پر اعتراض یہ ہے کہ یہ لوگ آگہی پھیلانے سے زیادہ نہایت بے شرمی سے اپنا اور دوسروں کا تماشا بنا رہے ہیں۔ اس سے لوگ یہ سیکھنے کی بجاے کہ ان واقعات سے کیسے بچ سکتے ہیں یا ان کے خلاف کیسے اقدامات اختیار کیے جایں، محض ان واقعات اور کہانیوں سے لطف اٹھا رہے ہیں اور اس معاملے کی سنگینی کو مذاق بنا دیا ہے۔

اس دور میں عورت اور مرد کے ساتھ اب بچے بھی جنسی طور پر غیر محفوظ ہیں۔ پاکستان میں بچوں کے تحفط کے لیے 80 قوانین موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کی صورتحال بالکل نظر نہیں آتی۔ یہ بچے قوم کا مستقبل ہیں اور ان واقعات سے ذہنی مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو وقت دیں اور ان سے ایسے تعلقات استوار کریں کہ وہ اگر ایسی مشکل کا شکار ہوں تو بغیر جھجھک ان سے اس بات کا اظہار کریں۔ بچوں کو اس معاملے میں آگاہ کرنے اور بچنے کے طریقے سکھانے کی ضرورت ہے۔ انتظامیہ کو بھی چاہیے کہ قوانین پر عملدرآمد کرے اور ایسے معاملات میں ملوث مجرموں کو عبرت ناک سزا دے تاکہ ایسے واقعات میں کمی کی جا سکے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سعدیہ اقبال کی دیگر تحریریں
سعدیہ اقبال کی دیگر تحریریں