میں کس حکومتی ایوارڈ کا فوری مستحق ہوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حراموش کے کسی دوست نےمیرے حوالے سے پوسٹ ڈالی جس میں حکومت کو کہا گیا کہ ان کے لیے کسی ایوارڈ کا اعلان کیا جائے۔ پوسٹ میں تارڑ صاحب کی خدمات کا ذکر تھا اس لیے اس کو شئیر کر دیا۔ پوسٹ کے نیچے بہت سے دووستوں نے مثبت آراء دیں جن کا بہت شکر گزار ہوں۔ لیکن اس پوسٹ اور اس کے نیچے دی گئی آراء نے دماغ کے بہت سے دریچے وا کر دیے۔ جاننے والے نہیں جانتے کہ میں اپنی قابلیت سے کہیں زیادہ ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہوں۔

جب پہلی دفعہ ‘آٹو ردھمک سیلز’ کا مطالعہ کرنے کا اتفاق ہوا تو دل کی ہر دھڑکن ایک ایوارڈ بن گئی۔ جب نبض پر ہاتھ رکھتا ہوں تودل کی ہر دھڑکن ایک کائنات میں ایک بہت بڑے معجزے کی صورت سجھائی دیتی ہے۔ سوچ کی کیفیت کچھ ایسی ہوتی کہ۔۔ ‘یہ لو ایک اور دفعہ دھڑک گیا

دل کی ایک دھڑکن کا تفصیلی مطالعہ کر لیجئے اس میں آپ کو ایک ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ اس کے بعد ہر لمحہ موجود آپ کے لیےایک بہت بڑے ایوارڈ کی صورت اختیار کر جائے گا۔

ایک ایوارڈ مجھے صفر برس کی عمر میں ہی مل گیا جب میری پیدائش مجھ سے پوچھے بغیر تلہ گنگ کے ایک نواحی گاؤں میں ہوئی۔ کچھ ہوش سنبھالا تو گھر کا صحن افق تک پھیلا ہوا تھا۔ دادی کی چادر سے گوبر کی خوشبو آتی تھی۔ جانور دوست بن گئے تھے۔ دادا اپنی پگ سے میری ناک صاف کرتے تھے۔ بارش کچھ دیر تھمتی تو ہمیں جوہڑ دکھانے لے جاتے۔ تجسس ہوتا کہ جوہڑ پانی سے کس قدر بھر گیا ہو گا۔ بارش رکنے کے باوجود فضا میں پانی کے قطرے ہوا سے چہرے پر تھپیڑے مارتے۔ دادا پانی دیکھ کر آسمان کی جانب نگاہ کرتے اور بہت شکر گزار ہوتے۔ کائنات کی نہ سمجھ آنے والی وسعت میں ناقابل ذکر کنکری زمیں پر دادا کا مضبوط ہاتھ میری انگلی تھامے چلتا تھا۔۔ یہ سمجھ آتا تھا۔۔۔ کیسا ایوارڈ ہے جو بن مانگے ملا۔

بڑا ہوا کچھ سمجھ بوجھ آئی تو معلوم ہوا زمیں محور کے گرد بھی گھومتی ہے اور سورج کے گرد بھی چکر لگاتی ہے۔ سورج مزید کسی اور نظام کا طواف کرتا ہے۔ دو طرز سے گھومتی زمیں کے گرد چاند گھوم رہا ہے۔ کائنات کی وسعت اور وسعت کا سبب تو سمجھ نہیں آیا لیکن یہ بات باقاعدہ احساس کے اندر جڑ پکڑ گئی کہ ہم ایک اڑن کھٹولے پر ہیں اور یہ اڑن کھٹولا کئی طرز کے جھولے دے رہا ہے۔ اس جھولے پر پیدا ہونا اور جب چاہنا اس جھولے کا محسوس کر لینا کیا ایک بہت بڑا ایوارڈ نہیں ہے۔

عمر ماہ یار کو ڈانٹتا ہوں تو ہمیشہ ناراض ہو کرمخالف سمت دوڑ لگا دیتا ہے۔ کچھ دیر بعد ملنے پر پوچھتا ہوں۔۔ عمر آپ مجھ سے نالاض تو نہیں ہوَ؟۔۔ کہتا ہے نہیں وقار میں آپ سے نالاض نہیں ہوں میں آپ سے لاضی ہوں۔۔ وقاص کو ابھی تھوڑی دیر پہلے کہا کہ کتنے دنوں سے تم ماما کے پاس سو رہے ہو آج میرے پاس سونا ہے تو کہتا ہے۔۔ ابھی آپ کا سیزن ختم ہو گیا ہے۔ کچھ دنوں بعد پھر آپ کا سیزن آجائے گا، پھر سووں گا۔ (ٹوارزم سے متعلقہ اصلاحات ہم سے سنتا رہتا ہے) تو بات یہ ہے کہ اس طرح کے ایوارڈز مجھے روزانہ کی بنیادوں پر ملتے رہتے ہیں۔

والد اور والدہ حیات ہیں۔ جو گزری خوب گزری۔ میرے حوالے سے والد اور والدہ کے چہرے پر متفکر پن کی وہیں لکیریں جوں کی توں ہیں جو میرے بچپن میں تھیں۔ بہن اور بھائی کے ساتھ خوب محبت بھرے لمحات گزرے۔ بہن کے ساتھ کسی دن بات نہ ہو تو دن غارت لگتا ہے۔ بھائی دل کے وسیع رقبے پر قبضہ جمائے بیٹھا ہے۔ معلوم ہی نہیں ہوا کب بہن اور بھائی کے بچے زندگی کے لیے آکسیجن کا روپ دھار گے۔ ہم گبہن بھائی گاؤں میں ساتھ والے نالے سے چھوٹی چھوٹی مچھلیاں پکڑتے اور چھوٹی سی مٹی کی ہنڈیا میں پکاتے۔ بارشوں میں خوب نہاتے۔ روایتی کھیل بھی کھیلتے اور اپنے کھیل بھی ایجاد کرتے۔ ایک ایک لمحہ ایوارڈ ہے۔

شمال کی جانب جائیں تو پہاڑ اور ندیاں گفتگو کریں۔۔ جانب جنوب کو چلیں تو صحرا کی ریت گلہ کر ے کہ آنے میں اتنی دیر کیوں لگا دیتے ہو۔

قبرستان جائیں تو پرانی قبروں کے پاس بیٹھ جائیں اور صاحبان قبور کی زندگیوں میں خوشیوں اور ناآسودگیوں کو چشم تصور میں لائیں۔ قبرستان میں خالی پڑی زمیں میں اپنی قبر کی جگہ کے اندازے لگائیں۔۔ ایسے میں کوئی حکومتی ایوارڈ چہ معنی؟

دوست ملے تو ایسے کہ گفتگو سے رات بھرطبیعت سیر نہ ہو۔ اور گر خاموش بیٹھے رہے ہیں تو صرف ان کی موجودگی سے زندگی کے ایک ایک لمحے کا لطف دوبالا ہوتا رہے۔ میری جھولی مختصر اور ایوارڈز بے شمار۔ سمیٹوں تو کیسے۔۔

پھر عائشہ آئی۔ کمال کا سودا کیا۔۔ نکاح کے چند حرفی معاہدے کے بعد زندگی کی ساری کڑواہٹ اس نے لے لی اور مسافر کا بوجھ ایسا ہلکا کیا کہ اب مانند ہرن چوکڑیاں مارتا پھرتا ہے۔ ماننے میں نہیں آتا کہ کوئی زندگی میں ایسا سودا کر کے خوش رہ سکتا ہے۔ اگر وہ خوش ہےتو ولی کامل ہے۔

جس کی زندگی کے گرجا میں ہر وقت کرسمس کا سماں ہو۔ فیض کے مصرعے اور وجاہت مسعود کی نثر کے گھنٹیاں بجتی رہیں۔ مشتاق احمد یوسفی سرگوشیاں کریں۔۔ مجید امجد، ن م راشد خیال کو جلا بخشتے رہیں۔ منیر نیازی پراسراریت سے دلچسپی اور تجسس کا ساماں کریں۔ افتخار عارف علم سے ہم گناہ گاروں کی زندگی میں معنویت کا رنگ لاتے رہیں۔ انور مسعود کی بھری آنکھیں اور بھرپور قہقہے پہیلیاں سلجھاتے رہیں۔۔۔ وہاں کون سے ایوارڈ۔۔ کیسے ایوارڈ؟

صاحب تیسری دنیا کی کٹھ پتلی حکومتوں کے ہزاروں ایوارڈ اس سعادت کے سامنے ہیچ ہیں گر فیض کا مصرع محسوس کرنے کا دماغ مل جائے۔۔ گر بچوں کی آنکھ میں شرارتی چمک سے نظر چندھیانے کا حسین تحفہ مل جائے۔۔ گر بوڑھی دادیوں اور دادوں کے اندر ان کے بچپن کا چہرہ دیکھنے کی صلاحیت مل جائے۔۔

سفر شوق پہ احسان بہار ایسا ہے

رنگ اڑتے نظر آتے ہیں غبار ایسا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 160 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik