ہم کرسمس نہیں، عید مناتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر بدھ کے روز آنے والا اشتہاری ”فلایر“ کا پلندہ اگر کوئی خاص موقع یا چیز کی تلاش نہ ہو تو عموما گھر کے اندر آئے بغیر ردی کے جہازی سائز کے ڈبے کا پیٹ بھرنے کے کام آتا ہے لیکن پچھلے دو تین برس سے میں رمضان اور عید سے پہلے آنے والے یہ اشتہاری پمفلٹ بڑے اہتمام سے دیکھتی ہوں، کچھ لینا نہ بھی ہو تو ”رمضان کریم“ اور ”عید مبارک“ کے جلی حروف کے ساتھ رمضان اور عید پہ خاص طور پہ استعمال ہونے والی اشیا پہ لگی سیل دیکھ کر ایک خوشگوار احساس ہوتا ہے، جب ہم چودہ سال قبل کینیڈا آئے تھے تو رمضان اور عید بس اپنے رشتے داروں اور قریبی دوستوں میں منایا جانے والا تہوار تھا، ایک دوسرے کو افطار پہ بلا کر اور چاند رات کو چیدہ چیدہ میلوں میں شریک ہو کے اور اپنے لوگوں کو ایک ساتھ جمع دیکھ کے ہم خود کو رمضان اور عید کا احساس دلانے کی کوشش کرتے تھے۔

مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے بالاخر اپنے تہواروں کو بھی یہاں روشناس کروا دیا۔ اب ان رمضان اسپیشل اشتہاروں اور سیلوں کے ذریعے رمضان اور عید گھر گھر پہنچ جاتے ہیں اور مختلف اسٹوروں پہ لگے چمکتے دمکتے ”رمضان مبارک“ کے سائن کی بدولت رمضان شہر شہر برسنے لگے ہیں، اب اس کو مارکیٹنگ اسٹرٹیجی کہئے یا کچھ اور، حقیقت تو یہی ہے کہ رمضان میں زیادہ استعمال ہونے والی چیزیں مثلا کھجور، چنے، آٹا، بیسن، پر اٹھے، روٹیاں اور اب شربت تک تقریبا ہر بڑے اسٹور پہ معمول سے سستے داموں دستیاب ہے اور نا صرف رمضان بلکہ ہنوکا، بیساکھی، ایسٹر، دیوالی، لوھڑی، عید،  الغرض مختلف قوموں کے ہر بڑے تہوار پہ یہ اہتمام دیکھنے میں آتا ہے جو کہ یہاں کی ملٹی کلچرل سوسایٹی کا ایک خوبصورت پہلو ہے۔

دنیا چونکہ گلوبل ویلج بن چکی ہے تو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی بدولت ایک سرے پہ دوسرے سرے کے رسوم و رواج کی دھوم با آسانی پہنچ جاتی ہے جنہیں اندھا دھند اپنایا بھی جا رہا ہے۔ میں جب اپنے ملک میں بلیک فرائڈے پہ لگنے والی سیل میں خواتین کو دروازے توڑ کے داخل ہوتا یا ہاتھ پائی کرتا دیکھتی ہوں تو حیران رہ جاتی ہوں۔  ہم نے بلیک فرائڈے کو اندھی تقلید میں ”ہالووین“ اور ”ویلنٹائن ڈے“ کی طرح اپنا تو لیا لیکن جمعہ کی خاص اہمیت کی وجہ سے ابھی تک اس کے اصل نام اور مقصد کا تعین نہیں کر پائے، نہ اگلے بنے نہ نگلے بنے کے مصدق یہ فرائڈے ہمارے ہاں فٹ ہوکے نہیں دے رہا اس لیے کبھی اس کو ”بلیسڈ فرائڈے“ بنادیتے ہیں تو کبھی ”وائٹ فرائڈے“ کا نام دے دیتے ہیں، لیکن ابھی تک اس کا مقصد جاننے کی کوشش نہیں کی گئی۔

بلیک فرائڈے نارتھ امریکا میں ”تھینکس گیونگ“ یا ”یوم تشکر“ کے بعد آنے والا جمعہ ہے، تھینکس گیونگ دراصل فصل کی کٹائی کا جشن اور شکرانہ ادا کرنے کے طور پہ منایا جانے والا دن ہے اس دن لوگ اپنے خاندان اور قریبی دوستوں کے ساتھ کھانے پر اہتمام کرتے ہیں اور ملکے شکر ادا کرتے ہیں، عموما اس دن ”ٹرکی“ روسٹ کی جاتی ہے اور دیگر لوازمات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ کینیڈا اور امریکا میں اس کی تاریخ مختلف ہے لیکن یہ تہوار فصل کی کٹائی کے موسم کے بعد ہی منایا جاتا ہے جس کے کچھ عرصے بعد کرسمس کا تہوار آتا ہے۔

اس کے بعد آنے والا جمعہ جس کو بلیک فرائڈے کہا جاتا ہے دراصل خانگی طور پہ کرسمس کے سیزن کا اعلان اور آغاز ہے، اس دن خاص سیل لگائی جاتی ہے جس کی شروعات الصبح یا کہیں کہیں رات بارہ بجے سے ہی کر دی جاتی ہے اور اس دن کے بعد بھی مختلف سلیں کرسمس سے پہلے تک چلتی رہتی ہیں تا کہ لوگ اپنے پیاروں کے لئے تحفے تحائف آسانی سے خرید سکیں اور اپنی خوشی احسن طریقے سے منا سکیں۔

عقل مند کو اشارہ کافی ہے لیکن کیونکے ہم رسوم، رواجوں اور تہواروں کو بغیر سوچے سمجھے اپنانے کے عادی ہیں تو وضاحت ضروری ہے، اس تھنکس گیونگ کی کہانی کا مقصد قطعاً یہ نہیں کہ اب فصلوں کی کٹائی کے جشن کے بہانے ڈیزائنر اپنے اسٹوروں پہ ایک نئی سیل روشناس کروا لیں اور لوگوں کو کچھ نئے دروازہ توڑ اور کشتی کے مناظر سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملے، یا پھر ہماری ایلیٹ کلاس اچانک شکرانہ ادا کرنے کے لئے تھینکس گیونگ کی پارٹیز کا ہلا گلا کر کے ٹرکیاں روسٹ کرنے کا شغل شروع کر دے۔

ہم نے اپنے ملک میں ہمیشہ رمضان اور عید کے تہواروں پر چیزوں کی قیمتوں کو آسمان سے باتیں کرتے ہی دیکھا ہے، چاہے وہ کھا نے پینے کا سامان ہو یا پہننے اوڑھنے کا، عام دنوں میں معمول کی قیمتوں میں بکنے والی اشیاء کو رمضان اور عید آتے ہی گویا آگ لگ جاتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ منظر اب بھی نہیں بدلہ، پیغام صرف یہ دینا ہے کہ اگر بلیک فرائڈے یا بلسیڈ فرائڈے کی سیل لگانا ہی مقصود ہے تو ابھی لگائیے، اسی وقت لوگوں کو ضرورت ہے تاکہ متوسط اور غریب طبقہ بھی اپنے تہوار کو اپنی حیثیت اور سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہوے سکون سے منا سکے، یہی ہمارے شکرانے اور عبادت کا سیزن ہے کیونکہ ہم کرسمس نہیں عید مناتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •