ماہم اور نانی اماں کے بیچ بھی ایک ماں پڑتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ دروازے پہ کھڑا تھا، ہاتھوں میں پھولوں کا رنگ برنگا گل دستہ اور کارڈ تھامے اور پھول مہکتے تھے!

پھول، خالق کائنات کی جمالیات کا عکس!

پھول! کسی بھی رنگ، کسی بھی طرح کے ہوں، ہمیں مسحور کرتے ہیں۔

اور آج کی صبح ہمارا دن گلزار کرنے کو پھول ہمارے سامنے تھے اور ہم نہ جانتے تھے کہ یہ سات سمندر پار سے ہم تک پہنچے ہیں۔

کورئیر سروس پہ دستخط کیے، اور بے چینی سے کارڈ کھولا!

یہ جذبات واحساسات سے گندھا ہوا محبت نامہ تھا جسے پڑھتے ہوئے ہمارے دل کی دھڑکن تیز ہوتی تھی اور آنکھ سے آنسو گرتے تھے۔

یہ خوبصورت زندگی نامہ بھیجا تھا، جان مادر نے اپنی ماں کو۔ ایک بیٹی نے اپنی محبتوں کا اظہار کرتے ہوئے اپنی ماں کو یاد کیا تھا ماں کا دن مناتے ہوئے!

اور آج دنیا بھر میں مدرز ڈے ہے!

کچھ برسوں سے یہ چلن ہو چلا ہے کہ دنیا بھر میں کچھ دن مخصوص کیے جاتے ہیں کچھ ہستیوں کے نام اور اس دن خاص طور پہ ان کو یاد کیا جاتا ہے، تحفے دیے جاتے ہیں اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اس شخص کا ہمارے دل میں کیا مقام ہے۔ آج کی دنیا کے بچوں کو یہ سب خوب بھاتا ہے۔

ماں!

 ایک ایسی ہستی جس سے بچے کا اٹوٹ بندھن تب قائم ہوتا ہے جب وہ ہونے اور نہ ہونے کے درمیان کہیں جھول رہا ہوتا ہے۔ جب دونوں کے دل کی دھڑکن ایک ہوتی ہے، دونوں کی سانسیں ایک دوسرے سے بندھی ہوتی ہیں، دونوں ایک ساتھ ہنستے ہیں، ایک ساتھ اداس ہوتے ہیں۔

آسمان کی بے پایاں وسعتیں، نیلا رنگ، اڑتے پرندوں کی ڈاریں، برسات کی رم جھم، دھنک کے رنگ، پھولوں کے ہنستے چہرے، سمندر کی بےقرار لہریں، ڈھلتی شام کی اداسی، چودھویں کا چاند اور اماوس کی رات، دونوں اکھٹے محسوس کرتے ہیں۔

پھر یک جان سے دو قالب بننے کا عمل، زندگی اور موت کے بیچ خلا میں معلق، ایک نننھا فرشتہ آ کے اپنی ماں کو ایک ایسے شیریں لفظ سے روشناس کراتا ہے جو جب بھی پکارا جاتا ہے حلاوت منہ میں گھل جاتی ہے۔

امی!

اب وہ ہستی سامنے ہوتی ہے جس نے اندھیروں میں ھاتھ تھام رکھا تھا اور اب زندگی کے پیچ و خم میں حوصلے کی شمع جلائے گی آخر دم تک!

میں آج خوش بھی ہوں اور اداس بھی!

زندگی کے تھکا دینے والے سفر میں پیار بھری سرگوشی سننے کو مل جائے تو زندگی تو گلزار بنتی ہی ہے، بقیہ سفر بھی سہل ہو جاتا ہے۔

میری بیٹی کا بھیجا ہوا گلدستہ اور کارڈ میرے بستر کے ساتھ رکھی میز پہ سج چکا ہے۔ للیز مسکراتے ہیں اور مجھے تکتے ہے، وہ میری بیٹی کی محبتوں کی داستان مجھے سناتے ہیں۔

میرے پاس بھی ایک گلدستہ ہے جو دیس بھیجے جانے کو تیار ہے، اس میں بھی ایک بیٹی کی محبت گندھی ہے اور وہ گلدستہ بھی سجایا جائے گا، لیکن ماں کے بستر کی ساتھ والی میز پہ نہیں، زمین کے اندر سونے والی ماں کی قبر پہ ۔ یہ پھول بھی مہکیں گے اور ابدی نیند سونے والی میری ماں تک میرا محبت بھرا پیغام پہنچائیں گے۔

ماہم اور اس کی نانی اماں کے بیچ بھی ایک ماں پڑتی ہے، جس کی ایک مٹھی بند ہے اور دوسرا ہاتھ خالی ہے۔

A river runs through it

میری امی کی اس برس وفات کے بعد یہ پہلا مدرز ڈے ہے جب میں یہ شیرینی بھرا لفظ پکار کے کسی کو مخاطب نہیں کر سکتی۔ وہ کمرہ، وہ وہیل چیئر خالی ہے جہاں میری ماں نے میری پکار پہ ہمیشہ مجھے جواب دیا۔ امی الزایمر کے باعث اپنی یادداشت مکمل طور پہ کھو چکی تھیں اور اب ہم سب بہن بھائیوں کا پسندیدہ کھیل تھا

“امی! میں کون ہوں “

اور وہ جواب ضرور دیتیں، مگر اس میں ان کا ماضی ہوتا، اور زیادہ تر ان کی اپنی ماں!

زندگی کے سفر میں آخری سیڑھی پہ کھڑی ہوئی، دنیا و مافیہا سے بے خبر کے لبوں پہ بھی ایک ہی لفظ تھا، ماں!

میرے پاس ایک اور گلدستہ بھی ہے، جو سجا ہے میری زندگی کی دو اہم ترین عورتوں کی مشترکہ یادوں سے، میری ماں اور میری بیٹی!

میری بیٹی کو پہلا لمس دینے والی میری ماں، گھٹی چٹانے والی میری ماں!

ماہم میرا پہلا بچہ اور ڈاکٹر ماں کا بچہ! ڈاکٹر بھی وہ، جسے اپنا کیریر بھی اتنا ہی عزیز جتنی کہ زندگی، سو اگر زندگی چلی تو کیریر بھی ساتھ ساتھ۔

میں جب کوئی امتحان دیتی، کسی کانفرنس میں شرکت کرنے دوسرے ملک جاتی، ماہم امی کے پاس پہنچ جاتی. امی اسے سینے سے لگاتیں، ساتھ سلاتیں، نہلاتی دھلاتیں، خود جھک کے پاؤں میں موزے پہناتیں، سکول بھجتیں، خرچ کرنے کو پیسے دیتیں، سکول واپسی پہ گیٹ پہ انتظار کرتی ملتیں، اس کی پسند کا کھانا بناتیں، اپنے ہاتھ سے کھلاتیں، لاڈ اٹھاتیں اور کافی حد تک بگاڑ کے دوبارہ میرے حوالے کرتیں۔

مجھے اور امی کو ہمیشہ ایک دوسرے سے گلہ رہا، ماہم کے حوالے سے۔ وہ ماہم کی ساری شکایتیں سن چکی ہوتیں اور انہیں میری سختی کرنے کی عادت سخت بری لگتی، جبکہ مجھے ان کی ہر بات ماننے والی عادت سے کوفت ہوتی۔ اس پہ وہ فورا کہتیں

” کیا میں نے تمہیں اس سختی سے پالا، اگر چہ تم ایک انتہائی بدتمیز بچہ تھیں “.

اس کے بعد وہ ماہم کو وہ سارے قصے سناتیں جب جب میری شرارتوں نے انہیں زچ کیا تھا۔ اور وہ میری ضد ماننے پہ مجبور ہوئی تھیں اور میرے تمام شوق پورے کرنے کے لیے کیا کیا نہ کیا تھا اور ماہم ان سارے قصوں کا استعمال بوقت ضرورت، بدرجہ اتم کرتی۔

گئے سال دسمبر میں میری بیٹی نے مجھے بتایا کہ وہ چاہتی ہے کہ دسمبر کی چھٹیاں پاکستان میں گزارے وہ اپنی نانی سے ملنے کی مشتاق تھی وہ ان ہاتھوں کے لمس کو ایک دفعہ پھر محسوس کرنا چاہتی تھی اور شاید میری ماں بھی یہی چاہتی تھی.

جیسے شمع بجھنے سے پہلے بہت زور سے پھڑپھڑاتی ہے شاید میری ماں اسی مقام پہ تھی پر ہم نہیں جانتے تھے۔

ماہم آئی، نانی کے گلے لگی اور وہی ہمارا پسندیدہ کھیل،

” نانی اماں! میں کون ہوں “

اور بجھتی ہوئی آنکھیں جو دید کے اشتیاق میں روشن تھیں، چمک اٹھیں. یادداشت کے عمیق اندھیرے میں کوئی جگنو چمک اٹھا اور آواز آئی

” ماہم “

سب ششدر رہ گئے، کسی کو اپنے کان بجنے کا شبہ ہوا اور کسی کو سماعت کی خرابی معلوم ہوئی لیکن یہ لمحہ ریکارڈ ہو چکا تھا۔ محبت اپنا وجود ثابت کر چکی تھی ۔

اور ایک ہفتے بعد وہ محبت و الفت کی شمع گل ہو گئی!

ہماری طرف سے دنیا کی سب ماؤں کو ماں کا دن مبارک!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •