میری ماں، میری محبوب، میری دلربا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں ساری عمر اس خوش فہمی میں مبتلا رہا کہ میری ماں، میری محبوب، میری دلربا سب سے زیادہ مجھ سے محبت کرتی ہے۔ اور مجھ پر ہی جان چھڑکتی ہے۔

وہ میرے سب بھائی بہنوں کو کھانا کھلا کر آخر میں میرے ساتھ کھانا کھاتی تھی، میں سکول، یونیورسٹی اور آخر میں دفتر سے کتنی بھی دیر سے گھر پہنچوں کھانا نہیں کھاتی تھی۔

عید یا کسی بھی موقعے پر سب کو نئے کپڑے اور جوتے لے کر دیتی اور مجھے کہتی تھی ”تم تو میری جان ہو نہ، اس لئے ہم دونوں مل کر بازار چلیں گے، تمہارے لئے میں خود کپڑے پسند کروں گی اور میرے لئے آپ کرنا، اچھے اچھے کپڑے“ میں سمجھ جاتا تھا کہ اب مجھے اگلی عید کا ہی انتظار کر پڑے گا۔

اس نے مجھے زیادہ دیر تک بھوکا رہنا، خاموش رہنا، برداشت کرنا، صبر کرنا، نہ رونا، دوسرون پر خرچ کرنا، کسی سے امید نہ رکھنا، دوسروں کی امیدوں پر پورا اترنا، خوش رہنا، خوش نظر آنا اور سب سے زیادہ بے لوث محبت کرنا سکھایا۔ اتنے اسباق تو مجھے استادوں اور وقت نے بھی نہیں سکھائے تھے۔

اور میں ساری عمر اس خوش فہمی میں مبتلا رہا میری ماں سب سے زیادہ مجھ سے محبت کرتی ہے۔

وہ میری سب سے بڑی رازدان تھیں بچپن سے لے کر جوانی تک جن جن پہ ہم فدا تھے یا جو جو ہم پہ فدا تھے۔ اماں ان کے لئے کمال انسیت کا جذبہ رکھتی تھی، اور واری واری جاتی تھی۔ میرے تمام دوست بھی اماں کے ساتھ باورچی خانے میں بیٹھ کر گرماگرم روٹیاں توڑتے رہتے تھے۔ اور اماں مجھ سے سبزیاں صاف کرواتی اور برتن منجھواتی رہتی تھی، اور کہتی ”شادی کے بعد بیوی سے اظہار محبت کے لئے پھولوں کا گلدستہ لانے کے بجائے ساتھ کھڑے ہوکر برتن صاف کروانا زیادہ کارگر طریقہ ہے۔ “ تم تو میرے جانو بچے ہو نہ اس لئے سمجھاتی ہوں۔

میں گھاس کاٹ کر لاتا، برتن صاف کرتا، جھاڑو لگاتا، فصلون کو پانی دیتا اور اماں کے ساتھ کپڑے بھی دھلواتا اور، میں ساری عمر اس خوش فہمی میں مبتلا رہا کہ میری ماں، میری محبوب، میری دلربا سب سے زیادہ مجھ سے محبت کرتی ہے۔

جب میں چھوٹا تھا اماں کے ہاتھ کے سوا کسی ہاتھ سے دوائی نہیں کھاتا تھا اور جب اماں بوڑھی ہوگئی تو وہ بھی میری سوا کسی کے ہاتھ سے دوائی نہیں کھاتی تھی۔ اس نے زندگی میں آخری بار بھی میرے ہاتھ سے دوائی کھائی تھی۔

سول ہسپتال حیدرآباد کے دل کی بیماریوں کے انتہائی نگہداشت والے ”دیوان مشتاق وارڈ“ میں پہنچے ماں کو ابھی دس منٹ ہوئے تھے۔ اور اماں کی آنکھیں دروازے مین تھیں۔ جب اماں نے مجھے آتا دیکھا تو مسکرانے لگی، ڈاکٹر نے دوا دینے کے بجائے مجھے دیکھا اور بولا ”اس مریض دل کی اصل دوا تو تم ہو“۔

اور میں ساری عمر اس خوش فہمی میں مبتلا رہا کہ میری ماں، میری محبوب، میری دلربا سب سے زیادہ مجھ سے محبت کرتی ہے۔

میں نے جب اماں کے سرانے بیٹھ کر اسے اپنی گود میں سلادیا اور ”لوری سنانے لگا، “

اماں جب اب کے بار ہم گاؤن چلیں گے۔

گاؤن کے قریب گزرنے والی شاہراہ سے گاڑی سے اتر کر پیدل چلیں گے،

کھیتوں کے درمیان موجود کنویں میں رسی والی بالٹی سے پانی بھریں گے،

میں نئے کپڑوں کے لئے بالکل نہین روؤں گا۔

آپ بھلے چھوٹے بھائیوں اکبر اور اطہر کو نئے جوتے بھی لے کر دینا،

بڑی بہن ارشاد اور شمشاد کے لئے دوپٹے اور اچھی چوڑیاں بھی لے لینا،

چھوٹی بہن زینت کو میری والی گھڑی، بستہ، کلرنگ پینسلیں اور سب کچھ دینا،

بڑے بھائی اصغر کا ہمیشہ کہنا مانوں گا، قسم سے۔

بس تو اک بات میری مان لے،

اماں تو ٹھیک ہوجا اور میرے ساتھ پھر گاؤں چل۔

شہر کو چھوڑتے ہیں، گھومنے گاؤں چلتے ہیں۔

ماموں شاہ علی اور غلام علی خان کے گھر جا کر ٹھہیریں گے،

خالہ فاطمہ اور اجیباں کو بھی بلالیں گے۔

مل کر سہرے گائیں گے

خوب خوشیاں منائیں گے۔

تم تو مجھ سے پیار کرتی ہو نہ، آپ ہی تو کہتی ہو ”بچے محبوب ہوتے ہیں، اور میں تو آپ کا سب سے پیارا بچہ ہوں“۔

اماں نے میری آنکھوں میں گھور کے دیکھا،

میں نے اماں کی پیشانی پر بوسہ دیا،

”تم ابھی چھوٹے نہیں بڑے ہوگئے ہو، اور میں تم سے نہیں اپنے آپ سے محبت کرتی ہوں۔ “

یاد رکھنا ماں کا دل سمندروں سے بڑا ہوتا ہے۔ تمہارے سب بھائی اور بہنیں مجھے تم سے زیادہ پیارے ہیں۔ تم میرے محبوب ہو اس لئے میں تجھے ترکے میں اپنے سارے ادھورے خواب دے کر جا رہی ہوں، اور باقی سب کو صرف محبتیں۔

جتنی محبتیں میں نے آپ کو دی ہیں وہ تم پر میری ادھار ہیں وہ تمام میرے باقی بچوں کو اور ان کے بچوں کو ادا کردینا۔

جو کام تم آسانی سے کرسکو اسے کبھی احسان مت سمجھنا اور جو مشکل سے کرلو اسے کبھی نہ جتانا۔

میری بہو ”رانی“ میری رانی ہے اور تمہارے بچے الہام اور فاطمہ میرے جگرگوشے ہیں۔ جو تم سے زیادہ مجھے پیارے ہیں۔ ”رانی“ سے وفا کرو گے تو راجا بن جاؤ گے، تیرا گھر جنت بنا رہے گا۔ الہام اور فاطمہ پر سب کچھ نچھاور کردینا یہ میری وصیت ہے۔

اور میں صرف تجھ سے محبت نہیں کرتی اس خول سے نکلو، میرے سب بچے میری روح کا حصہ ہیں اور میں اپنی روح سے وابستہ تمام چیزیں تمہیں سونپ کے جارہی ہوں۔ ”

”اب مجھے تکیے پر سلا دو تم تھک گئے ہوگے۔ “ یہ امان کے آخری الفاظ تھے۔

میں اماں کے پیروں کے طرف آگیا، امان کے پیر ٹھنڈے پڑ چکے تھے، اماں نے میرے ساتھ کھڑی چھوٹی بہن زینت کے پیلے ہاتھوں اور اس کے ہونے والے دولھے شیر محمد کو دیکھا (جن کی اس رات شادی ہونی تھی) اور پھر مجھے دیکھ کر آخری بار مسکرانے کی کوشش کی۔

میں نے دیکھا اور محسوس کیا کہ اماں نے آخری بار سانس لی تب بھی ان کی نظر میری نظر سے ملی ہوئی تھی۔

سچ! میں حیران تھا کہ موت اتنے سکون سے بھی آسکتی ہے۔ ۔

سال 2011 کی دوسرے مہینے فروری کی وہ 22 ویں تاریخ تھی۔

چند دن پہلے جب ہم چاروں بھائی (اصغر، انور، اکبر، اطھر ) اماں کے حضور حاضر ہوئے تو میں زیادہ بولنے کے بجائے خاموش ہی رہا۔

اماں سب بیٹوں کو باری باری دیکھنے کے بعد مجھے دیکھ کر مسکرائی۔

میں پھر اس خوش فہمی میں مبتلا ہوگیا ہوں کہ ”امان سب سے زیادہ مجھ سے محبت کرتی تھیں اور کرتی ہیں۔ “

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •