خط کس پتے پر ارسال کروں ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امی!

اس کائنات میں میرا پہلا لمس تم تھی۔ میں نے انکھیں کھولیں اور تمہارا مہربان چہرہ دیکھا۔ اب مڑ کر دیکھوں تو مجھےیوں لگتا ہے کہ میں نے اپنی پچھلی زندگی میں تمہارے سوا کئی چہرہ نہیں دیکھا۔ تم گئی ہو تو مجھے احساس ہوا ہے کہ تم میری زندگی میں کس قدر لازمی تھیں۔ تم نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا اور میں نے قدم اٹھانا سیکھ لیا۔ تم نے کہا یہ رنگ سبز ہے، یہ پیلا ہے، یہ اچھا ہے یہ برا ہے، تمہارے رنگ میرے رنگ بن گئے، تمہارے اچھے برے میرے اچھے برے بن گئے۔ ۔ جو ذائقے تمہارے پسندیدہ تھے، وہ ہمارے ہو گئے۔ تمہارے خیالات کی آمیزش ہماری سوچوں میں ہونے لگی۔ تم ہماری زندگیوں میں اس قدر رچی بسی ہوئی تھی کہ ہم تمہارے بغیر معذور، اندھے اور محتاج محسوس کرتے تھے۔ تمہاری جدائی کے بعد مجھے اب کوئی رنگ دکھائی نہیں دیتا، اب کوئی سوچ مکمل نہیں ہونے پاتی۔ میں نے تمہاری آنکھوں سے کائنات دیکھی تھی اور ایک دم میری کائنات کے سارے فیوز اڑ گئے ہیں، چاروں طرف اندھیرا ہے اور سینے میں مسلسل درد ہے۔ جو قدم تم نے اٹھانا سکھائے تھے وہ ڈگمگا جاتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے جیسے میں دو سال کی بچی ہوں، اور میلے میں میرا ہاتھ تمہارے ہاتھ سے چھوٹ گیا ہے۔ نا آشنا چہروں کی بھیڑ ہے۔ میں بدحواس، تنہا اور بے بس تمھیں ڈھونڈے جا رہی ہوں۔ جدائی کی وحشت سے میری پسلیوں میں درد اٹھنے لگتا ہے۔

 تمہیں یاد ہے تم نے میرا ہاتھ پکڑ کر تختی پر قلم سے لکھنا سکھایا تھا۔ اب میں جب بھی لکھنے لگتی ہوں تو مجھے یوں لگتا ہے کہ تمہارے ہاتھ کھو گئے ہیں۔ جانتی ہو، لکھنا محال ہو جاتا ہے۔ میں اب خود ماں ہوں لیکن میں تمہارے بغیر نامکمل ہوں، خالی ہوں۔ مجھے تم چاہیے تھی۔۔۔ میں تمہاری سب سے چھوٹی بیٹی تھی۔۔۔ کیا چھوٹے بچے کے مقدر میں جدائی لکھی ہوتی ہے۔ ۔۔۔ تم نے بریرہ کو بھی نہیں دیکھا۔ وہ تمہارے مہربان لمس سے محروم ہو گئی ہے۔ پتہ نہیں وہ میری طرح تمہاری خوبصورت گہری آنکھوں کی اسیر ہو گی کہ نہیں۔ ۔

تمھیں یاد ہے کہ میں ہمیشہ تم سے ڈو مور کا تقاضہ کرتی تھی، تمہاری محبت سے میرا پیٹ نہیں بھرتا تھا۔ تم بہن بھائیوں کے بچوں سے جو پیار کرتی تھی مجھے وہ بھی گوارا نہیں ہوتا تھا۔ میں چاہتی تھی کہ تم بس میری ہو کے رہو۔ اور تم نے کیا ستم کیا کہ تم کسی کی بھی نہ رہی۔ امی بہت گھٹن ہے تمھارے بعد۔ میں نئے سرے سے جینا سیکھ رہی ہوں۔ جانتی ہو بہت مشکل ہے۔

 کیوں تم میری زندگی میں اس قدر شامل ہو گئی تھیں کہ میری ساری پریشانیاں لے لیتی تھیں۔ اب بتاؤ نا میں اپنی پریشانیوں کا بوجھ کیسے اٹھاؤں؟ تم نے اس کی عادت ہی نہیں ڈالی تھی۔

تمہاری آنکھیں جو میری ضد پر شکست سے دوچار ہو کر نمناک ہو جاتی تھیں وہ میرا پیچھا کرتی ہیں۔ میں کیسے بتاؤں امی جب ہم آخری بار ملے تھے اور تم دروازے تک مجھے چھوڑنے آئی تھی، میری زندگی وہاں رکی ہوئی ہے۔ کاش میں تمہاری بے چینی سمجھ پاتی۔ میں پلٹ کر تم سے لپٹ جاتی، کاش کائنات وہیں تھم جاتی۔ کاش یہ سہولت ہوتی کہ بچے اپنی ماؤں سے مل سکتے۔ کاش میں تمہیں سفید بالوں کے ساتھ سفید دوپٹہ اوڑھے دیکھ سکتی۔۔۔ امی تم سے جدائی صبر آزما ہے۔ تم میری روح کا حصہ ہو۔ تم میرا وجود ہو تم میری پہلی محبت ہو۔ کونسا لمحہ ہے جس میں تم نہیں ہو۔ تمہارے بعد کچھ لکھا نہیں گیا کیونکہ میرا لکھا سب سے پہلے تم پڑھتی تھی۔ تمہارے جانے کے بعد دو نظمیں لکھی ہیں تمھیں سنانا چاہتی ہوں۔

تمھارے بعد

امی ! تمھارے بعد

ہر بار ہم

ایک دوسرے سے

آخری بار ملتے ہیں

زندگی بے یقینی کا

سایہ بن کر رہ گئی ہے

موت ہمارے نمبر لگا چکی ہے

ہم تم سے

ملنے کی خاطر

اپنی اپنی باری کا

انتظار کرتے ہیں

زمیں پر

اپنے دن شمار کرتے ہیں

ہمیں تم سے

کشید کیا گیا

ہمارے خون کے گروپ

اور دماغ کی بناوٹ میں

تمہیں بھر دیا گیا

اور دل کی جگہ

تمہیں رکھ دیا گیا

پھر اچانک تم ہم سے جدا ہوگئیں

اور ہمیں مبتلا کر دیا گیا

آنسوؤں کے کرب و بلا میں

اور ہم تم سے ملنے کے لئے

موت سے پیار کرنے لگے

اور انتظار کرنے لگے

کہ جب ہم جسم سے آزاد ہوں گے

تو تمہاری نرم اور دل گیر محبت کی

بانہوں میں تمہیں

بوسہ دے سکیں گے

تمہارے سینے سے لگ کر

ہنس اور رو سکیں گے

تمہاری خوبصورت آنکھوں سے

خود کو دیکھ سکیں گے

تمہارے ساتھ ہمیشہ کے لیے

جی سکیں گے!

***  ***

ہم لاشیں ہیں

موت

ہمارے جسموں پر

کسی آسیب کی طرح

حاوی رہتی ہے

اور ہم لاشیں اوڑھے

جینے کا ناٹک کرتے رہتے ہیں

اور جب ہم

ابدی زندگی جینے کے لیے

تیار ہو جاتے ہیں

اور ہمارے جسم

لاشوں سے آزادی حاصل کر لیتے ہیں

تو لوگ ماتم کرتے ہیں

اور ہماری لاشوں سے

لپٹ لپٹ کر روتے ہیں

وہ لاشیں جنھیں

مٹی نے چاٹ جانا ہے

لاشیں

کیا معنی رکھتی ہیں

سوائے اس کے

کہ ان میں ہم نے

کچھ وقت گزارا ہوتا ہے

اور یہ صرف ہمارے دم سے

زندہ نظر آتی ہیں

اور جب ہم

لاشوں کا چوغا اتار پھینکتے ہیں

تو دوسرے ہمیں دیکھ نہیں پاتے

ہم تو ہوا کی طرح

ان کے آس پاس رہتے ہیں

لیکن یہ ہمیں تبھی دیکھ سکیں گے

جب اپنی اپنی لاشوں سے باہر نکلیں گے

اپنی لاش سے باہر نکل کر دیکھنا

کتنا کٹھن ہوتا ہے!

ایک سال جدائی کا تمہاری آواز کو ترس گیا ہے۔ امی تمہارا لمس مجھے چاہیے، کسی بھی طرح پلٹ آؤ۔۔۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •