بارہ مئی ہے نرسوں کادن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان سمیت دنیا بھر میں نرسوں کا عالمی دن ’ورلڈ نرسز ڈے‘  12 مئی کو بھرپور انداز سے منایا جاتا ہے۔ اس دن کے منانے کا مقصد معاشرے میں بیماری کی حالت میں اسپتالوں میں نرسز کے کردار اور اس کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ اس دن کے حوالے سے دنیا بھر میں محکمہ صحت اور مختلف سماجی تنظیموں کے زیر اہتمام سیمینارز، مذاکرے اور ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔ نرسز کا عالمی دن انٹر نیشنل کونسل آف نرسز کے زیر اہتمام 1965ء سے لے کر اب تک ہر سال 12 مئی کو منایا جاتا ہے۔

اس دن کا مقصد ماڈرن نرسنگ کی بانی برطانوی نرس فلورنس نائٹ انگیل کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا بھی ہے۔ جنھوں نے 1854 کی جنگ میں صرف 38 نرسوں کی مدد سے 1500 زخمی اور بیمار فوجیوں کی دن رات تیمار داری کر کے صرف 4 ماہ کی مدت میں شرح اموات کو 42 فی صد سے کم کر کے 2 فی صد تک کر دیا تھا۔

پاکستان میں نرسنگ کے شعبے کی بنیاد بیگم رعنا لیاقت علی خان نے رکھی۔ 1949 میں سینٹرل نرسنگ ایسوسی ایشن اور 1951 میں نرسز ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں آیا، مگر المیہ یہ ہے کہ پاکستان کی نرسیں آج بھی لا تعداد مسائل کا شکار ہیں۔ نرسیں شعبہ صحت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، تاہم نرسز جوش و جذبے سے عاری ہوں گی تو مریضوں کی صحت یابی مشکل ہو گی۔

پاکستان میں صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ابھی تک ہم تربیت یافتہ نرسیں اور مڈ وائف تیار نہیں کر سکے ہیں۔ ہمارے اسپتالوں میں کام کرنے والا نرسنگ اسٹاف وہ مہارت نہیں رکھتا، جس کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی مڈ وائف بھی اس طرح کی صلاحیت اور قابلیت نہیں رکھتیں کہ وہ گھروں میں محفوظ زچگی اپنے طور پر کرا سکیں۔ ملک میں صحت کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تقربیا تیرہ لاکھ نرسیں اور دو لاکھ سے زائد مڈ وائف کی ضرورت ہے۔ جب کہ اس وقت پاکستان نرسنگ کونسل میں 80 ہزار نرسیں رجسٹرڈ ہیں۔

پاکستان میں تربیت یافتہ نرسوں کی تعداد انتہائی کم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہے، کہ جو زن و مرد اس مقدس پیشے سے منسلک ہیں، وہ انتہائی مشکل حالات میں کم تنخواہ اور کم سہولتوں کے باوجود پیشہ ورانہ امور سر انجام دینے پر مجبور ہیں۔ اس وقت نا مساعد حالات کی وجہ سے سالانہ 30 ہزار سے زائد نرسز دوسرے ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ تعداد کم ہونے کی وجہ سے موجودہ نرسوں پر کام کا بے پناہ دباو ہے، جس کی وجہ سے اکثریت میں ڈپریشن، کمر درد کی بیماریاں عام ہیں۔

میڈیا نے ہمشہ نرس کو منفی کردار میں دکھایا ہے، جس سے عوام میں ان کا اچھا تاثر نہیں جاتا۔ کراچی میں دار الصحت اسپتال کے معاملے میں میڈیا نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، جو کہ صحافت کے بھی منافی تھا۔ بنا تصدیق کے ایڈ نرس کو اسٹاف نرس بنا دیا۔ ایڈ نرس ایک سالہ نرسنگ کا کورس ہوتا ہے، جن کو میڈسن دینے کی بھی اجازت نہیں ہوتی لیکن ہمارے میڈیا نے اس کو اسٹاف نرس بنا دیا۔ اس کی وجہ سے عوام کے دل میں نرس کا منفی امیج بنتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا کو نرسوں کا امیج مثبت انداز میں پیش کرنا چاہیے، تا کہ عوام میں ان کا اچھا تاثر قائم ہوسکے اور ملک بھر میں نرسوں اور مڈ وائف کی تعلیم کے ساتھ ان کے اساتذہ کی جدید تربیت کا بندوبست کیا جائے۔ اس شعبے میں آنے والوں کی عزت نفس کو مجروح نہ کیا جائے اور ان کے موجودہ معاوضوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے، تا کہ وہ احتجاجی دھرنوں کے بجائے، اپنی پوری توجہ مریضوں پر اور پڑھانے والے اساتذہ پڑھائی پر مرکوز رکھ سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
آصف خان رومی کی دیگر تحریریں
آصف خان رومی کی دیگر تحریریں