رویتِ ہلال فرض تو نہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند روز سے رویت ہلال کے حوالے سے کافی گرما گرمی دیکھی جا رہی ہے۔ چاند نظر آیا یا نہیں نظر آیا؟ رمضان کب شروع ہو گا؟ عید کس روز ہو گی؟ یہ معاملات برسوں سے استہزا کا باعث بنتے نظر آتے ہیں۔ امسال بھی رویتِ ہلال کے لئے مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کا اجلاس کراچی میں چئیرمین مفتی منیب الرحمٰن کی سربراہی میں ہوا۔ وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چودھری نے اس معاملے پر علما حضرات کو آڑے ہاتھوں لیا اور جدید دور میں چھت پر چڑھ کر چاند دیکھنے کو بے تکی مشق قرار دیا۔ اور اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت قمری کیلنڈر کا تعین کرے گی، جس سے رویتِ ہلال کے ہر اجلاس پر صرف ہونے والے قریب چالیس لاکھ روپے کی بچت بھی ممکن ہو گی۔ دوسری جانب مفتی منیب الرحمٰن نے بھرپور طریقے سے جواب دیا۔

بحث آگے بڑھانے سے پہلے ایک بات، کہا جاتا ہے کہ یہ نہ دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے، بلکہ یہ دیکھو کہ کیا کہہ رہا ہے۔ غالباً یہ قول مولا علیؑ سے منسوب ہے۔ اگر ایسا نہیں تو غلطی کی معافی چاہتا ہوں۔ فواد چوہدری کے سیاسی نظریہ، (اگر کوئی ہے) اور میڈیا میں ان کی شوخ کلامی سے قطع نظر ہمیں اس معاملے کو دلیل پر پرکھنا ہو گا۔ جب ہم کہتے ہیں کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ اخلاق ہے، دیگر مذاہب کے مقابلے میں ایک مکمل دین ہے یعنی دنیا میں زندگی گزارنے کا طریقہ ہے، تو کیا ان تمام علوم سے منہ موڑ لیتے ہیں جو آج کے دور میں ہماری زندگیوں کا لازمی حصہ ہیں؟ ہمیں یہ ماننا ہو گا کہ سائنس اور مذہب کے مابین فاصلے کو چشم زدن میں پاٹنا نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی سود مند۔ کچھ علوم ایسے ہیں جو مذہب اور روحانیت سے متعلق ہیں، اس کے بارے میں نہ ہم سائنس سے مدد لیتے ہیں، نہ کسی اور جدید علم سے رجوع کرتے ہیں۔

جیسا کہ نماز فرض ہے، اب بھلے میڈیکل سائنس یہ ثابت کرے یا نہ کرے کہ نماز پڑھنا مفید ہے، ہم نماز پڑھیں گے۔ اس ایمان کے ساتھ کی اس میں خالقِ کائنات کی حکمت پوشیدہ ہے اور یہ دین کا لازمی جزو ہے۔ سینکڑوں سال پہلے سے لوگ نماز پڑھتے چلے آ رہے ہیں جب وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ نماز پڑھنے کے طبی فوائد بھی ممکن ہیں۔ اب نماز کس وقت پڑھی جائے گی، یہ ایک الگ مسئلہ ہے جس کا تعلق روحانیت نہیں، مادیت کی دنیا سے ہے۔ اب قرآن نے یہ بتایا کہ نماز پڑھو، نماز پڑھنے کے اوقات نبی کریم ؐ نے اپنے عمل سے بتائے، جس کی جدید دور میں پیروی آپ گھڑی کے اوقات دیکھ کر کرتے ہیں۔ اب اس دور میں اگر گھڑی ہوتی تو یقیناَ واضح اوقات بتا دئیے جاتے۔ اب جدید دور میں پورے سال کا نماز کے اوقات کا کیلنڈر دستیاب ہے۔ ایک ایک منٹ کے فرق سےسال کے مختلف دنوں میں نماز کے اوقات جانے جا سکتے ہیں۔

اسی طرح رمضان کے روزے رکھنے کا حکم قرآن کریم میں آیا ہے۔ کس وقت سحری ہو گی، کس وقت افطاری ہو گی، یہ آپ سورج کے طلوع و غروب کو دیکھ کر نہیں کرتے ، کیونکہ جدید سائنس سے ہمیں سال کے مختلف اوقات میں سورج کے طلوع و غروب کے اوقات معلوم ہیں۔ ان اوقات کا تعلق گردشِ شام و سحر سے ہے نہ کہ کسی مذہبی و روحانی علم سے۔ جید علما کرام بھی انہی اوقات کے مطابق روزے رکھتے اور افطار کرتے ہیں۔ مختلف فقہات کے مطابق چند منٹ کا فرق تو ہو سکتا ہے، جو آیات کے فہم میں فرق کا نتیجہ ہے، لیکن ہر شخص اپنے اپنے فقے کے مطابق انہی اوقات کی پیروی کرتا ہے۔

اسی طرح قمری مہینہ چاند کی رویت سے منسلک ہے۔ قدیم دور میں لوگ چاند دیکھ کر روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ کرتے تھے، اسی طرح یومِ عید کا تعین ہوتا تھا۔ جدید سائنس نے ہمیں بتا دیا ہے کہ چاند کی پیدائش اور رویت دو الگ چیزیں ہیں۔ چھ گھنٹوں کی عمر کے بعد اگر مطلع صاف ہو تو چاند انسانی آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اب شہروں اور دیہات کے مطلع میں بھی فرق ہے۔ شہروں کے آسمان پر فضائی آلودگی کے باعث ایک مہیب چادر تنی ہوئی ہے۔ تو کیوں نہ سائنسی اوقات کار کے مطابق کسی بھی قمری مہینے کے آغاز و اختتام کا تعین کر لیا جائے؟

جب نمازوں کے اوقات اور سحری و افطاری کے اوقات کا تعین سائنسی طریقوں سے کیا جا سکتا ہے، تو قمری مہینے کا کیوں نہیں؟ ہمارے ہاں مذہب کو جس طرح بیچا گیا ہے، اس سے ایک طاقتور طبقے کا ظہور ہوا ہے۔ اب یہ مشکل ہے کہ کوئی طاقتور طبقہ اپنے مینڈیٹ کے ایک حصے سے دستبردار ہو جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ رویتِ ہلال کو مذہبی علما سے لے کر سائنسی علما کے حوالے کر دیا جائے جن کا یہ شعبہ ہے۔

اس حوالے سے چند وضاحتیں بھی ضروری ہیں۔ مفتی منیب الرحمٰن ایک دھیمے مزاج کے متین آدمی ہیں۔ ان کی تقریر و تحریر عموماَ دلائل پر مبنی ہوتی ہے۔ اپنے فواد چوہدری کے برعکس کبھی ان کے منہ سے یاوہ گوئی نہیں سنی، نہ ہی ان کی تحریروں میں نفرت کا بیوپار دیکھا ہے۔ مفتی منیب الرحمٰن نے اس حوالے سے کئی بار اپنی تحریروں میں دلائل دینے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ ان کا زیادہ زور اس بات پر رہا کہ رویتِ ہلال کمیٹی کے ارکان کو صرف ایک ائیر ٹکٹ اور کسی سستے ہوٹل میں ایک دن کا قیام دیا جاتا ہے، وہ خود چونکہ کراچی کے رہائشی ہیں اس لئے وہ اس ضمن میں کوئی اعزازیہ یا ٹکٹ وغیرہ وصول نہیں کرتے۔ ہم گمان رکھتے ہیں کہ مفتی صاحب کوئی اعزازیہ نہیں لیتے ہوں گے، لیکن دیگر ارکان تو لیتے ہیں؟ تو کیوں نہ اس مشقِ بے کار کو ترک کر کے سائنسی ماہرین کے حوالے کر دیا جائے۔

اس حوالے سے بھی مفتی صاحب نے بیان کیا کہ اس کمیٹی میں محکمہ موسمیات اور سپارکو کے نمائندے شامل ہوتے ہیں۔ اگرچہ رویتِ ہلال کے اجلاس میں ان کی نمائندگی اور مکمل طور پر اگلے کئی سالوں کے لئے قمری کیلنڈر کا تعین کرنے میں فرق ہے۔ خاکسار کی رائے میں روزہ رکھنا فرض ہے، رویتِ ہلال نہیں۔ رویتِ ہلال خالصتاَ ایک سائنسی معاملہ ہے جیسے نماز اور سحری و افطاری کے اوقات وغیرہ۔

آپ نے عموماَ دیکھا ہو گا کہ چاند دیکھنا کا تنازعہ صرف رمضان، شوال اور ذوالحج کا چاند دیکھنے کے موقع پر ہوتا ہے۔ باقی پورا سال ہمیں ریاست کی اعلان کردہ چھٹیوں پر یقین ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ محرم الحرام کی سرکاری تعطیلات پر بھی کوئی تنازعہ نہیں ہوتا۔ خود مفتی منیب کے بیان کے مطابق رویتِ ہلال کمیٹی کے سال میں چار اجلاس ہوتے ہیں۔ یعنی باقی مہینوں میں ہم سائنس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ پھر کیوں نہ ان اہم ترین دنوں کے تعین کے لے بھی مذہبی علما کی بجائے سائنسی علما کا سہارا لیں؟

ان معروضات کے ساتھ گزارش ہے کہ میں ایک عام انسان اور گنہگار مسلمان ہوں ۔ نہ تو دین کی مکمل سمجھ کا دعویٰ ہے، نہ ہی علما کے ادب سے رُوگردانی کی جرات۔ ہاں کروڑوں پاکستانیوں کی طرح مجھے بھی اچھا نہیں لگتا جب اس ملک میں تین تین عیدیں منائی جاتی ہیں۔ اس لئے خاکسار یہ ضروری سمجھتا ہے کہ اس معاملے کو ہمیشہ کے لئے سلجھا لینا چاہئے۔ اس سے نہ صرف معاشرے میں ہم آہنگی پیدا ہو گی، بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے ایک بہتر معاشرہ تشکیل دینے میں بھی مدد ملے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •