کم عمری کی شادی کا قانون، محمد علی جناح سے علی محمد خان تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کینیڈا میں تقریباً دس سال ہونے کو آئے، مگر کبھی اجنبیت کا احساس نہیں ہوا۔ اس کے لیے ہم اپنے والدین کو دعا دیتے ہیں، جنہوں نے ما شا اللّہ ملکی آبادی میں ٹھیک ٹھاک اضافہ کیا اور جن کے بچوں کی اکثریت کینیڈا میں مقیم ہے۔ دیار غیر میں بہن بھائیوں کا ساتھ ہو، اس سے زیادہ کیا چاہیے؟

کل افطار پر سب اکٹھے ہوئے۔ ساتھ روزہ کھولا گیا۔ ہم بہنوں کی نا ختم ہونے والی باتیں اور بھانجے بھانجیوں کے بے فکری سے لگائے قہقہے اور اٹکھیلیاں۔ ہم نے بچپن میں اپنے اوپر بڑوں کے رعب کا بدلہ ان بچوں پر حکم چلا کر لیا، مگر مجال ہے کہ ان کے کھلنڈرے پن میں کوئی کمی آئی ہو۔ ایک طرف ان بچوں کی مسکراہٹیں اور بے فکری تھی اور دوسری طرف گزشتہ دنوں نظر سے گزری خبر اور اس دس سالہ بچی کی بھولی صورت، اس کا زار قطار رونا نگاہوں میں گھوم گیا، جسے چالیس سالہ مرد کے ساتھ نکاح کے بندھن میں باندھا جا رہا تھا۔ یہ تو اس بچی کے پڑھنے کے، کھیلنے کودنے کے دن ہیں۔ کیا یہ مستقبل دیں گے ہم اپنی بیٹیوں کو؟

سوشل میڈیا پر مچائے گئے شور، سڑکوں پر کیے گئے احتجاج، اخباری کالم، سب کی اہمیت اپنی جگہ مگر شہریوں کومستقل بنیادوں پر ان کے جائز حقوق صرف قانون دے سکتا ہے۔

سنہ 1929 میں ہندوستانی قانون ساز اسمبلی نے ایک قانون ”چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ“ جس کو رائے ہری داس سردا کے نام پر ”سردا ایکٹ“ بھی کہا جاتا ہے، منظور کیا تھا۔ جسے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ خاص کر مسلمانوں کی طرف سے جنہوں نے مذہب کا سہارا لے کر اس قانون کی بھرپور مخالفت کی۔ حتی کہ سرحد کے صاحب زادہ عبدالقیوم، ڈھاکا کے اے، ایچ غزنوی اور تربت کے مولوی محمد شفیع داودی بھی مخالفین میں شامل تھے۔ مگر جو لیڈر اس قانون کے حق میں ڈٹ کر کھڑے ہوئے وہ تھے قائد اعظم محمد علی جناح۔

آپ کے تاریخی الفاظ تھے ”میرے لئے یہ بات ناقابل فہم ہے کہ جس طرح کی شیطانی رسومات اس وقت بھارت میں رائج ہیں، ان کے لئے رضا الہی/ خدائی فرمان موجود ہے۔ یہ جس نوعیت کی جابرانہ اور غیر انسانی رسومات ہیں یہ کیسے کسی فرمان الہی کے تحت ہو سکتی ہیں؟ اور ہمیں مزید ایک لمحے کے لئے بھی ایسے رسومات کو جاری و ساری رکھنے میں اپنی رضا مندی شامل نہیں کرنی چاہیے۔“

آپ نے مزید کہا کہ ”ہم مذہب کے نام پر لوگوں کو اکسا کر پیدا کی گئی رائے عامہ کے زیر اثر نہیں آ سکتے۔ جب کہ مذہب کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ اتنی ہمت ہم میں ہونی چاہیے کہ ہم کہہ سکیں کہ نہیں! ہم اس معاملے پر کسی سے نہیں ڈریں گے۔“

تقریباً 90 سال بعد اس قانون میں ترمیم کا بل سینٹ میں 29 اپریل 2019 کو پیپلز پارٹی کی محترمہ شیری رحمان نے پیش کیا جس میں قانوناً شادی کی کم از کم عمر اٹھارہ سال اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے کو ایک لاکھ جرمانہ اور تین سال سخت قید با مشقت سزا کی سفارش کی گئی۔ یہ بل سینٹ نے مذہبی جماعتوں کی شدید مخالفت کے باوجود اکثریت کے ساتھ منظور کر کے قومی اسمبلی منظوری کے لیے بھیج دیا۔

ایک دن کے بعد رکن قومی اسمبلی رامیش کمار نے یہ تاریخی ترمیمی بل منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا اور حکمران جماعت کے وزیروں نور الحق قادری، علی محمد خان اور بریگیڈئیر اعجاز اور مذہبی جماعتوں کی مخالفت کے باوجود ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے ووٹنگ کروانے پر 72۔ 50 کی اکثریت سے منظور کر کے قانون سازی کے لیے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔

بچے اور بچیاں اس ملک کا مستقبل ہیں۔ تعلیم، شعور، ایک مسکراتا آج اور ایک روشن کل ان کا بنیادی حق ہے۔ اس سلسلے میں لوگوں میں شعور پیدا کرنا ہماری ذمہ داری اور اپنے آس پاس اگر کوئی ظلم ہوتا دیکھیں تو اس کے خلاف آواز اٹھانا ہمارا اخلاقی اور قانونی فریضہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •