خرم نواز گنڈا پور باپ نہیں تھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مئی 2018ء کی بات ہے کہ جب منہاج یونیورسٹی کے ہاسٹل بیت الزہرہ میں ایک انتہائی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا جس میں وائرل ہونے والی ویڈیو میں خرم نواز گنڈا پور صاحب کو طالبات پر بُری طرح چیختے چلاتے دیکھا اور سنا گیا۔ ہاسٹل بیت الزہرہ کی طالبات کے کچھ مطالبات تھے جن میں غیر معیاری کھانا، انٹرنیٹ کی سہولت کا نہ ہونا، انٹرن شپ کے لیے باہر نہ جانے دینا، تعلیمی ورکشاپز میں جانے کی پابندی، صفائی کے ناقص انتظامات، ہاسٹل انتظامیہ کا طالبات کے کردار پر مسلسل سوالات اٹھاتے رہنا، آفیشل لیٹر ہونے کے باوجود یونیورسٹی کی اپنی منعقدہ تقریبات میں جانے تک کی اجازت نہ دینا، اور سب سے بڑی بات کہ ایک سمیسٹر کی 45 سے 55 ہزار فیس لینے کے باوجود طالبات کو ہاسٹل میں یہ تاثر دیا جانا کہ آپ یتیم ہو۔ یہ وہ مطالبات تھے جس پر طالبات سراپا احتجاج تھیں اور خرم نواز گنڈا پور صاحب باپ ہونے کے ناطے مزاحمت فرما رہے تھے کہ یہ مذکورہ بالا سہولیات مہذب معاشروں کا وتیرہ نہیں ہوتی ہیں۔

خیر ہاسٹل میں پیش آنے والا واقعہ ایک طویل جدو جہد کا شاخسانہ نظر آیا کہ جب برداشت کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے تو چھلک جاتا ہے۔ واقعے کے فوراََ بعد سوشل میڈیا پر ایک طوفان بدتمیزی برپا ہو گیا جس میں پاکستان عوامی تحریک سے وابستہ حضرات معاملے کا پس منظر جانے بغیر بڑی شد و مد سے بحث کا حصہ بنے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ طالبات ہاسٹل میں تمام تر سہولیات انجوائے کرنے کے باوجود پابندی کا شکار ہیں لہٰذا وہ اس قید سے چھٹکارا چاہتی ہیں اور خرم نواز گنڈا پور صاحب بہ حیثیت ایک باپ کے ان کو سمجھا رہے ہیں کہ یونیورسٹی کا ہاسٹل چھوڑنے پر آپ کے ساتھ وہی کچھ ہوگا جو لاہور کے نجی ہاسٹلز میں رہنے والی باقی طالبات کے ساتھ ہوتا ہے، اب یہ بات بھی حیران کر دینے والی تھی کہ بھلا آخر لاہور کے پرائیویٹ ہاسٹلز میں رہنے والی ہزاروں لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟

اس واقعے کو لے کر سوشل میڈیا پر جاری بحث میں میرے منہاجی بھائی یہ بھول گئے تھے کہ یہ طالبات بھی کسی کی بہنیں ہیں، کسی کی بیٹیاں ہیں، جن کی مسلسل کردار کشی کی جا رہی ہے اور ان کے مقابلے میں خرم نواز گنڈا پور صاحب کو فرشتہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ وہ تو بھلا ہو رحقیق عباسی صاحب کا کہ انہوں نے وقت پر معاملے کو صحیح رخ دے دیا۔ اب چونکہ معاملہ کافی گرم تھا اور الیکشن کی بھی آمد آمد تھی لہٰذا اس واقعے کا اصل مقصد کہیں گم ہو کر رہ گیا اور ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے مخالفین نے اس معاملے کو اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا اور منہاجی بھائی بنا سوچے سمجھے تحریک کے دفاع میں خرم نواز گنڈا پور صاحب کو فرشتہ اور طالبات کو بدکردار ثابت کرتے رہے۔ اور طالبات ہاسٹل میں گھٹ کر رہ گئیں کہ ان کو تو اپنا مؤقف تک بھی پیش نہیں کرنے دیا جا رہا تھا، وہ ایک طرح سے قید ہو کر رہ گئیں اور ان کے موبائل وغیرہ تک چھین لیے گئے تھے۔

چنانچہ ان کے لیے یہ صورت حال بڑی غیر تسلی بخش اور پریشان کر دینے والی تھی جبکہ خرم نواز گنڈا پور صاحب وائرل ہونے والی ویڈیوز پر مسلسل میڈیا پر آ کر صفائیاں پیش کر رہے تھے اور منہاجی بھائی بھی دھڑا دھڑ پوسٹیں کر رہے تھے کہ یہ طالبات آزادی چاہتی ہیں ان کو اوپن ماحول چاہیے، یہ آوارہ گردیاں کرنا چاہتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اسی دوران ہاسٹل بیت الزہرہ کی طالبات میں سے ایک رافع سرور نامی طالبہ کو To The Point ٹاک شو کے اینکر پرسن منصور علی خان کی پروڈیوسر نے Approach  کیا اور وہ کسی طرح باقی لڑکیوں کے ساتھ ساز باز کر کے ہاسٹل سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئی اور منصور علی خان صاحب کے شو کی ریکارڈنگ کے لیے پہنچ گئی۔

چونکہ مین اسٹریم میڈیا پر اب تک تصویر کا ایک ہی رخ دکھایا جا رہا تھا لہٰذا طالبات کی نمائندہ طالبہ رافع سرور کے مؤقف کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ ایک سنگین مسئلے کی صورت اختیار کر گیا۔ مریم نواز صاحبہ نے بھی اس میں برابر دلچسپی لی، سیاسی مقصد کے لیے ہی سہی لیکن ان کے ٹوئیٹ کے بعد معاملہ مزید اٹھا اور لوگ بھرپور حصہ لینے لگے۔

جب معاملہ ٹھنڈا ہوا تو یونیورسٹی انتظامیہ نے ہاسٹل بیت الزہرہ کو سیل کر دیا اور طالبات سے اجتماعی طور پر معافی ناموں پر دستخط کروا کے پرائیویٹ ہاسٹلز میں رہنے کی اجازت دے دی۔ لیکن معاملہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ معافی ناموں پر تو سب نے دستخط کر دیے لیکن رافع سرور اب کس حال میں ہے جو منصور علی خان کے ٹاک شو میں گئی تھی؟

تو جناب رافع سرور کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا ہے۔ اور یہ اس نے اس طویل نفرت کا پھل پایا جو یونیورسٹی انتظامیہ کے دل میں اس کے لیے تھی۔ ہر خواص و عام جانتا ہے کہ رافع سرور وہ واحد لڑکی تھی جو مین اسٹریم میڈیا پر گئی اور طالبات کے خلاف منفی پراپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دے کر آئی۔ یہ اس لڑکی کی ہمت اور عزم تھا کہ وہ انتہائی پریشر کے باوجود گھبرائی نہیں اور بلا خوف و خطر اپنا اور اپنی ساتھی طالبات کا مؤقف میڈیا کے توسط سے لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ چونکہ یہ عمل یونیورسٹی انتظامیہ کو کسی صورت نہیں بھا سکتا تھا اور یہ کہ خرم نواز گنڈا پور صاحب کی شان میں گستاخی کیسے برداشت کی جا سکتی تھی اور پھر اس لڑکی نے ہاسٹل انتظامیہ کا بھانڈا بھی تو پھوڑا تھا کہ وہ کیسا خیراتی اداروں میں پلنے والے بچوں جیسا سلوک کرتی تھی اور کس طرح طالبات کی کردار کشی کرتی تھی، لہٰذا اب رافع کی اس یونیورسٹی میں کیا جگہ باقی رہتی بھلا؟ اس کو تو بس اب سچ بولنے کا تاوان بھرنا تھا۔

مس روبینہ سعید منہاج یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغیات کی ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ہیں۔ میری چونکہ تربیت ایسی نہیں کہ میرے لکھے ہوئے کسی لفظ سے خواتین کی بے حرمتی کا عنصر نکلتا ہو لیکن بہرحال ان خاتون کا اللہ ہی حافظ ہے۔ میں حیران ہوں کہ محترمہ کو شعبہ ابلاغیات کی ہیڈ ہونے کے باوجود بات تک کرنا نہیں آتی خوامخواہ کا پریشر اور عجیب بس کنڈکٹروں جیسا لب و لہجہ اور مسلسل جھوٹ پہ جھوٹ۔ خدا کی پناہ۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
کامران حیدر اشعر کی دیگر تحریریں
کامران حیدر اشعر کی دیگر تحریریں
––>