ام رباب چانڈیو: بہادر بیٹی اور سویا ہوا سندھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ام رباب چانڈیو کے خاندان کے تین افراد کو دن دیہاڑے قتل کیا گیا۔ ان میں ان کے دادا، والد اور چچا شامل تھے۔ یہ سانحہ 17 جنوری 2018 کو سندھ کے ضلع دادو کی تحصیل میھڑ میں پیش آیا۔ جہاں وحشت اور دہشت کا سفاکانہ مظاہرہ کیا گیا۔ ایک ہی آن میں ام رباب کے سر سے والد کی شفقت، دادا کی قربت اور چچا کی محبت چھین لی گئی۔ اس واقعے کو کئی رخوں سے بیان کیا گیا ہے۔ کہیں ذاتی دشمنی بتائی گئی ہے تو کہاں سیاسی واقعہ بیان کیا گیا۔ لیکن جو ظلم ام رباب اور اس کے گھر والوں پہ برپا ہوا، اس کا اندازہ ہم اور آپ نہیں لگا سکتے۔ ام رباب نے اس غم اور غصے کو اپنی طاقت میں تبدیل کر لیا اور انصاف کی حصول کے لئے میدان میں نکل پڑیں۔

اس المناک واقعے کے پس منظر میں ام رباب کی تاریخی للکار اور انصاف کی حصول کے لئے جاری جد و جہد نے ملک میں، خاص طور پہ سندھ میں تاریخ کے اوراق کو پلٹ ڈالا ہے۔ اس طرح کی سنجیدہ، منظم اور غیر معمولی جد و جہد کا مثال کم کم ملتی ہے۔ ام رباب پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی شہ سرخیوں میں اس وقت آئیں، جب انہوں نے  کراچی میں (سابق) چیف جسٹس ثاقب نثار کی گاڑی روکی، اور انصاف کے لئے اپیل کی۔ ام رباب کے دادا، والد اور چچا کے قتل کا الزام اک طاقتور قبیلے کے سربراہ اور سندھ اسمبلی کے ایم پی اے برادران پر لگیا جاتا ہے۔ اس جاگیردارانہ سماج میں انصاف کے حصول کے لئے ام رباب نے جو جھنڈا اٹھایا ہے، جس اٹل ارادے اور بہادری سے میدان میں اتری ہیں، خد کو دھرتی پہ خدا تصور کرنے والے سرداروں کی پگڑیاں ہل گئی ہیں۔

ام رباب نے قاتلوں کو سزا دلوانے کہ لئے ہر فورم کا استعمال کیا ہے۔ قانونی چارہ جوئی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ وہ خود وکالت کی طالب علم ہیں، اس لیے کیس کو بھر پور انداز سے اٹھایا ہے۔ دھرنے اور احتجاج ہوں یا جلسے جلوس ہوں، انہیں ہمیشہ صف اول میں پایا گیا۔ کٹھن حالات، دھمکیاں اور پروپیگنڈا کے باوجود وہ اپنے کیس کے ساتھ جم کے کھڑی ہیں۔ سندھ میں عورت حقوق کی علم برداروں اور ہر چھوٹے بڑے مسئلے پر آسمان سر پہ اٹھانے والوں نے اس معاملے میں عملی کام تو دور کی بات، ام رباب کے ساتھ اظہار یکجہتی تک نہیں کیا۔ کیونکہ جن پر قتل کا الزام ہے، وہ طاقتور قبیلے کے سردار اور حکمران جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان سے کسی نہ کسی طرح ان کے مفاد جڑے ہوئے ہیں یا پھر وہ خوف زدہ ہیں۔

زندگی خود نام ہے جد و جہد کا، جستجو کا اور ثابت قدمی کا۔ زندگی میں کچھ ایسے بھی موڑ آتے ہیں، جہاں حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا لازم ملزوم ہو جاتا ہے، جب نا انصافی، ظلم و جبر اپنی ساری حدیں پار کر لیتے ہیں، تو یقیناََ انسان کے جذبات اور احساسات قابو میں نہیں رہ پاتے۔ اندر اک چنگاری بھڑک اٹھتی ہے، جو انصاف کی حصول تک، راہ میں آنے والی ساری رکاوٹوں کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔

یہ کٹھن سفر ام رباب نے بلند حوصلے، اٹل ارادے اور بے باکی کے ساتھ طے کیا ہے۔ عدالتوں کی شنوائیاں، مجرموں کا دباو، اور مختلف طریقوں سے کیس پہ اثر اندازی، لیکن انہوں نے ہار نہیں مانی۔ وہ قاتلوں کو سزا دلوانے اور سرداری نطام کو پاش پاش کرنے کہ لئے جد و جہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سندھ کا با شعور اور نوجوان طبقہ جاگیردارانہ سماج کے خاتمے، قاتلوں کو سزا دلوانے کہ لئے ام رباب کے ساتھ کھڑا ہے، اور ان کی جد و جہد میں قدم بہ قدم ساتھ ہے۔

یہ ام رباب کی تاریخی فتح ہے کہ انہوں نے ایسے لوگوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا، جو اپنی نجی عدالتیں چلاتے ہیں۔ جو خود کو قانون سے بالا تر سمجھتے ہیں۔ ام رباب کی اس بے مثال جد و جہد نے ان مظلوموں کو بھی آواز دی ہے، جو ظالم کے سامنے بے بس تھے۔ جو سرداروں کی غلامی میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ام رباب نے غلامی کی وہ ساری زنجیریں توڑ ڈالنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ کئی برسوں سے قائم روایتوں کو زمین بوس کرنے کا عہد۔

وہ پر امید ہیں کہ ایک دن ان کی جہد مسلسل ضرور رنگ لائے گی۔ ظلم کی تاریک رات، دن کی روشنی میں تبدیل ہو کے رہے گی۔ وہ انصاف کے حصول کے لئے جاری جد و جہد میں کامیابی سے ہم کنار ہوں گی۔ دھرتی پہ خون کی ہولی کھیلنے والوں کو عبرتناک سزا ملی گی۔ سندھ میں قائم جاگیردارانہ نظام کو شکست فاش ہو گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •